بیوی کو ہتھوڑے سے قتل کرکے لاش فریزر میں چھپانے والے شوہر کو عمر قید

لندن: برطانیہ میں بیوی کو ہتھوڑے کے وار سے قتل کرکے لاش دو ہفتے تک فریزر میں چھپانے والے شخص کو عمر قید کی سزا سنا دی گئی۔
برطانوی خبر رساں ادارے اسکائی نیوز کے مطابق 46 سالہ ڈیوڈ بیرکلاف نے رواں ہفتے مقدمے کی سماعت شروع ہونے سے قبل اپنی 37 سالہ بیوی کیرولین بیرکلاف کے قتل کا اعتراف کیا تھا۔ مقتولہ کی لاش مارچ میں ویسٹ یارکشائر کے علاقے ویکفیلڈ کے قصبے ہوربری میں واقع ان کے گھر سے ملی تھی۔لیڈز کراؤن کورٹ کے جج اینڈریو اسٹبس کے سی نے قتل کو انتہائی سفاکانہ کارروائی قرار دیتے ہوئے کہا کہ مقتولہ کو اس وقت ہتھوڑے سے نشانہ بنایا گیا جب وہ بستر پر لیٹی ہوئی تھیں۔ واقعے کے وقت ان کے تین بچے بھی گھر میں موجود تھے۔عدالت کے مطابق ملزم نے قتل کے بعد اپنی بیوی کی لاش کو کمبل میں لپیٹ کر گھر کے یوٹیلٹی روم میں رکھے فریزر میں چھپا دیا تھا۔ مقتولہ کے ہاتھ اور ٹخنے ٹیپ سے باندھے گئے تھے جبکہ ان کے سر پر پلاسٹک کا تھیلا بھی چڑھایا گیا تھا۔ جج نے کہا کہ یہ خوش قسمتی تھی کہ بچوں نے نہ تو قتل ہوتے دیکھا اور نہ ہی ان دو ہفتوں کے دوران اپنی والدہ کی لاش دریافت کی۔
عدالت نے بتایا کہ بیوی کی لاش فریزر میں چھپی ہونے کے دوران ڈیوڈ بیرکلاف ڈیٹنگ ایپس استعمال کرتا رہا، دیگر خواتین سے رابطے کرتا رہا اور جسم فروشی کی خدمات فراہم کرنے والی خواتین سے بھی رابطہ کیا۔ اس نے مشترکہ بینک اکاؤنٹ سے بڑی رقوم بھی نکلوائیں۔ملزم نے اپنی بیوی کے فون سے اس کی بڑی بیٹی کو پیغامات بھی بھیجے تاکہ اسے یہ یقین رہے کہ اس کی والدہ اسپتال میں ہیں اور جلد گھر واپس آجائیں گی۔عدالت کے مطابق ملزم 5 مارچ کو خود پولیس اسٹیشن پہنچا اور بتایا کہ اس نے 20 فروری کو اپنی بیوی کو قتل کیا تھا۔ اس نے خود کو گھریلو تشدد کا شکار بھی ظاہر کرنے کی کوشش کی، تاہم جج نے اس کے بیان کو جھوٹ سے بھرپور قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ کئی سال سے اپنی بیوی پر تشدد اور اس کے رویوں کو کنٹرول کرنے کی کوشش کرتا رہا تھا۔
ڈیوڈ بیرکلاف جمعے کو سزا سنائے جانے کے وقت عدالت میں پیش نہیں ہوا۔ عدالت نے اسے عمر قید کی سزا سناتے ہوئے کم از کم 22 سال اور ایک ماہ جیل میں گزارنے کا حکم دیا۔مقتولہ کی بہن سارہ رولے نے عدالت میں بیان پڑھتے ہوئے کہا کہ کیرولین کی بے مقصد اور پُرتشدد موت نے پورے خاندان کو توڑ کر رکھ دیا ہے۔ ان کے مطابق بچے کیرولین کی زندگی کا مرکز تھے اور ان کی غیر موجودگی کا دکھ ناقابلِ بیان ہے۔استغاثہ کی سینئر پراسیکیوٹر جل مے نے کہا کہ ملزم نے خود کو گھریلو تشدد کا شکار ظاہر کرکے قتل کا جواز پیش کرنے کی کوشش کی، لیکن شواہد اس کے برعکس تھے۔ بیوی کی موت کے بعد ڈیٹنگ ایپس کا استعمال اور مشترکہ اکاؤنٹ سے بھاری رقوم نکلوانا اس کے سوگوار ہونے کے دعوے سے مطابقت نہیں رکھتا۔





