انٹرویو نگار: نادر فہمی
اسلام علیکم
آج ہم اپنے قارئین کے لیے جس شخصیت کا انٹرویو لائے ہیں آپ کا ادبِ اطفال میں بہت بڑا نام ہے بچوں کے ادب بچوں کے رسائل پبلیکیشن اور ایف ایم سے آپ کی وابستگی ہے ادب اطفال ادیبہ، کالم و مصاحبہ کار سی ای او سرائے اردو پبلیکیشن مدیر سہ ماہی باغیچہ اطفال ہیں میری مراد محترمہ فاکہہ قمر صاحبہ سے ہے آئیں ان سے گفتگو کا آغاز کریں۔
اسلام علیکم میڈم کیسی ہیں آپ ؟
جی الحمدللہ میں خیریت سے ہوں ۔
1۔ سب سے پہلے آپ اپنے بارے میں بتائیے کہ آپ کا ادبی سفر کیسے شروع ہوا اور لکھنے کا شوق کیسے پیدا ہوا؟
ج۔ لکھنے کا آغاز حادثاتی طور پر جون 2021 میں ہوا اور الحمداللہ آج تک جاری و ساری ہے۔
2۔ آپ نے خاص طور پر بچوں کے لیے لکھنے کا انتخاب کیوں کیا؟ کیا اس کے پیچھے کوئی خاص واقعہ یا شخصیت ہے؟
ج۔ میرا مشاہدہ اور مطالعہ بچوں پر ہے اس لیے میں نے ادب اطفال کا انتخاب کیا۔
ویسے بھی مجھے لگتا ہے کہ ہر انسان کے اندر ایک بچہ موجود ہوتا ہے۔
3۔ آپ کے خیال میں آج کے دور میں بچوں کے لیے کہانیاں اور نظمیں لکھنا کتنا اہم ہے؟
ج۔ لکھنا ہر دور میں اہمیت کا حامل ہے بس شرط یہ ہے کہ بچوں کی نفسیات، رجحان اور دلچسپی کے عین مطابق ہو۔
4۔ بچوں کے لیے لکھتے ہوئے آپ کن باتوں کا خیال رکھتی ہیں تاکہ تحریر دلچسپ بھی ہو اور بچوں کی تربیت میں بھی مددگار ثابت ہو؟
ج۔ میں ہمیشہ بچوں کی سوچ، ان کے نظریات اور نفسیات کو سامنے رکھ کر لکھتی ہوں۔
5۔ آپ کی تحریروں میں اخلاقیات، تعلیم اور معاشرتی تربیت کو کتنی اہمیت حاصل ہے؟
ج۔ میری ہر کہانی میں بچوں کے سوال کا جواب، ان کے مسائل کا حل شامل ہوتا ہے جو کہ غیر رسمی طریقے سے ان کی تربیت و اصلاح کے لیے ہی ہوتا ہے۔
6۔ آج کے بچے کتابوں کے مقابلے میں موبائل فون اور سوشل میڈیا کی طرف زیادہ راغب ہیں۔ آپ انہیں کتابوں کی طرف کیسے متوجہ کریں گی؟
ج۔ جب بچے ٹیکنالوجی کے دیوانے ہوگئے ہیں تو ادیبوں کو بھی ان کی ضروریات کے مطابق ایک بکس اور کم صفحات پر مشتمل مواد دور حاضر کے مطابق بچوں کے لیے پیش کرنا چاہیے۔
سکول و کالج میں کہانی سناؤ سیگمنٹ ہونا چاہیے۔ لائبریری کا تفریحی دورہ، بچوں کو مفت کتاب دینا یہ سب ایسی چیزیں ہیں جو بچوں کو کتب سے جوڑ سکتی ہیں۔
7۔ بچوں کے ادب میں موجودہ دور کے لکھاریوں کو کن مشکلات کا سامنا ہے؟
ج۔ آج بھی جو اہم مسئلہ درپیش ہے وہ اچھے پلیٹ فارم پر میرٹ پر شائع ہونا ہے۔
8۔ آپ آر جے بھی ہیں۔ ریڈیو سے وابستگی کا تجربہ کیسا رہا اور اس شعبے میں آنے کا خیال کیسے آیا؟
ج۔ پر انسان کی خواہش ہوتی ہے کہ وہ بولے اور کوئ اس کو سنے۔ بس یہی خواہش ریڈیو سے جوڑ گئ۔
9۔ ریڈیو پر بچوں سے گفتگو کرنے اور ان کے لیے لکھنے کے تجربات میں آپ کو کیا فرق محسوس ہوتا ہے؟
ج۔ آپ جب دل سے بچوں کے لیے لکھتے ہیں تو پھر بچے بھی شوق سے آپ کو سنتے اور پڑھتے ہیں۔
10۔ آپ کے خیال میں ریڈیو آج بھی بچوں کی تعلیم، تربیت اور ذہنی نشوونما میں مؤثر کردار ادا کر سکتا ہے؟
ج۔ جی ہاں آواز کا جادو آج بھی قائم ہے اور بچے اس سے بے حد متاثر بھی نظر آتے ہیں۔
11۔ کیا آپ کو اپنی تحریروں یا ریڈیو پروگراموں کے ذریعے بچوں کی زندگی میں کوئی مثبت تبدیلی لانے کا موقع ملا؟ کوئی یادگار واقعہ ہمارے ناظرین کے ساتھ شیئر کریں۔
ج۔ ریڈیو کے ذریعے میں نے اپنی کہانیوں کو بچوں تک پہنچایا جس سے بچے ایک بار پھر سے کہانی کی روایت سے جڑ گئے اور اب وہ شدت سے اس سیگمنٹ کا انتظار کرتے ہیں۔
12۔ پاکستان میں بچوں کے ادب کو فروغ دینے کے لیے ادیبوں، ناشرین، تعلیمی اداروں اور میڈیا کو کیا اقدامات کرنے چاہییں؟
ج۔ سب سے پہلے تو ناشران کو بچوں کی کتب کی قیمت ہے کم رکھنی چاہیے، ساتھ ہی ساتھ تعلیمی اداروں میں بک فئیر منعقد کرنا اور کتب بینی کے شائقین بچوں کی حوصلہ افزائی کے لیے ان کو میڈیا پر پروموٹ کرنا یا ان کے انٹرویوز لینا مناسب عمل ہے۔
13۔ آخر میں، آپ ان بچوں اور نوجوانوں کو کیا پیغام دینا چاہیں گی جو مستقبل میں لکھاری یا آر جے بننا چاہتے ہیں؟
ج۔ میں ہمیشہ یہی کہتی ہوں کہ خواب صرف دیکھنے کے لیے نہیں ہوتے ان کو پورا کیا جانا چاہیے، پھر چاہے راستے میں جتنی بھی مشکلات آئیں اس سے فرق نہیں پڑتا۔
کامیابی حاصل کرنے کے لیے محنت لازم ہے۔






