Baaghi TV Logo
ٹرینڈنگ

انٹرویو نگار: نادر فہمی




السلام علیکم!

آج ہمارے ساتھ ایک ایسی باہمت اور باصلاحیت شخصیت موجود ہیں جنہوں نے صحافت کی دنیا میں اپنی محنت اور قلم سے اپنا ایک الگ مقام بنایا ہے جی ہاں میں بات کر رہی ہوں محترمہ فرسہ رانا کی ،فرسہ رانا اس وقت سنو ٹی وی ڈیجیٹل میں ڈیجیٹل صحافی اور کنٹینٹ رائٹرکے طور پر اپنی خدمات سرانجام دے رہی ہیں۔ اس سے قبل وہ ڈیلی پاکستان،سٹی 42 اور 24 نیوز جیسے بڑے میڈیا ہاؤسز بطور کانٹینٹ رائٹر اور سب ایڈیٹر کے طور پر بھی اپنی خدمات سرانجام دے چکی ہے اپنے ابتدائی صحافتی سفر کا آغاز روزنامہ پاکستان میں کالم نگاری سے کیا اس کے ساتھ ساتھ وہ ڈیلی پاکستان کے لیے بلاگز بھی لکھ چکی ہیں۔ انہوں نے اپنی ابتدائی تعلیم پرائیویٹ جبکہ اعلی تعلیم لاہور کالج فار ویمن یونیورسٹی سے مکمل کی ۔صحافت کے ساتھ ساتھ انہیں اردو شاعری، نعتیہ مشاعروں اور کتابوں سے بھی خاص لگاؤ ہے جس کا اندازہ ہمیں ان کی آل رائٹرزویلفیئرایسوسی(اپوا) کی ساتھ منسلک ہونے سے بھی ہوتا ہے۔ انہیں اس سال ان کی ادبی خدمات کے اعتراف میں بہترین ادبی ایوارڈ اور شان پاکستان ایوارڈ سے بھی نوازا گیا۔اس سے قبل انہیں گورنر پنجاب سردار سلیم حیدر سے تعریفی سند سے بھی نوازا گیا۔ آج ہم ان سے ان کی صحافتی زندگی، تجربات اور آنے والے منصوبوں پر بات کریں گے آئیے ان سے گفتگو کا آغاز کرتے ہیں



السلام علیکم فرسہ کیسی ہیں آپ ؟

وعلیکم السلام جی الحمدللہ میں خیریت سے ہوں

1۔ روایتی جرنلزم اور ڈیجیٹل جرنلزم میں بنیادی فرق کیا ہے، اور آج کے دور میں ڈیجیٹل جرنلزم کی اہمیت کیوں بڑھ رہی ہے؟

جواب:

روایتی جرنلزم میں اخبار، ریڈیو اور ٹیلی ویژن بنیادی ذرائع رہے ہیں، جبکہ ڈیجیٹل جرنلزم میں ویب سائٹس، سوشل میڈیا، موبائل ایپس، یوٹیوب اور دیگر آن لائن پلیٹ فارمز کے ذریعے خبریں عوام تک پہنچائی جاتی ہیں۔

ڈیجیٹل جرنلزم کی سب سے بڑی خصوصیت رفتار، رسائی اور انٹرایکٹیویٹی ہے۔ آج ایک خبر چند منٹوں میں دنیا کے ایک کونے سے دوسرے کونے تک پہنچ سکتی ہے۔ اس کے ساتھ ویڈیو، تصویر، گرافکس، لنکس اور لائیو اپڈیٹس بھی شامل کیے جا سکتے ہیں۔

میرے نزدیک ڈیجیٹل جرنلزم کا اصل مقصد صرف تیزی سے خبر دینا نہیں بلکہ درست، مستند اور ذمہ دارانہ خبر کو جدید ذرائع کے ذریعے عوام تک پہنچانا ہے۔

---

2۔ سوشل میڈیا نے صحافت کے انداز اور خبروں کی ترسیل کو کس حد تک تبدیل کیا ہے؟

جواب:

سوشل میڈیا نے صحافت کے پورے طریقۂ کار کو بہت حد تک تبدیل کر دیا ہے۔ پہلے خبر اخبار یا ٹی وی کے ذریعے عوام تک پہنچتی تھی، لیکن آج عام شہری بھی کسی واقعے کی تصویر یا ویڈیو فوراً شیئر کر سکتا ہے۔

اس سے صحافی کے لیے معلومات حاصل کرنے کے مواقع بڑھے ہیں، لیکن ساتھ ہی غلط معلومات، جعلی خبریں اور غیر مصدقہ مواد کا مسئلہ بھی پیدا ہوا ہے۔

اس لیے آج کے صحافی کے لیے صرف خبر لکھنا کافی نہیں؛ اسے فیکٹ چیکنگ، سورس ویریفیکیشن، ڈیجیٹل میڈیا لٹریسی اور اخلاقی صحافت کی مہارت بھی حاصل ہونی چاہیے۔

---

3۔ ڈیجیٹل جرنلزم میں تیزی سے خبر دینے اور خبر کی تصدیق کرنے کے درمیان توازن کیسے قائم کیا جا سکتا ہے؟

جواب:

میرے خیال میں صحافت کا بنیادی اصول ہے کہ Accuracy comes before Speed یعنی رفتار سے زیادہ درستگی اہم ہے۔

خبر فوری دینی ہو تو صحافی پہلے بنیادی معلومات کے قابلِ اعتماد ذرائع سے تصدیق کرے۔ اگر مکمل تصدیق میں وقت لگ رہا ہو تو غیر یقینی بات کو حتمی خبر کے طور پر پیش نہیں کرنا چاہیے۔

ضرورت پڑنے پر خبر میں واضح کیا جا سکتا ہے کہ "ابتدائی اطلاعات کے مطابق" یا "مزید تصدیق جاری ہے"۔ اس طرح رفتار بھی برقرار رہتی ہے اور صحافتی ذمہ داری بھی پوری ہوتی ہے۔

---

4۔ صحافت کے میدان میں خواتین کے کردار کو آپ کس نظر سے دیکھتے ہیں؟ کیا خواتین کو صحافت میں مساوی مواقع مل رہے ہیں؟

جواب:

خواتین صحافت کا ایک اہم اور مؤثر حصہ ہیں۔ خواتین صحافی سیاست، تعلیم، صحت، سماجی مسائل، تحقیق، ڈیجیٹل میڈیا اور ٹیلی ویژن سمیت مختلف شعبوں میں خدمات انجام دے رہی ہیں۔

مواقع میں پہلے کی نسبت اضافہ ہوا ہے، تاہم بعض جگہوں پر کام کی جگہ کا ماحول، تحفظ، پیشہ ورانہ ترقی، آن لائن ہراسانی اور خاندانی و سماجی رکاوٹیں اب بھی چیلنج ہیں۔

میری رائے میں صحافت میں صلاحیت، تعلیم اور پیشہ ورانہ کارکردگی کو بنیادی معیار ہونا چاہیے، جبکہ اداروں کو خواتین اور مردوں دونوں کے لیے محفوظ اور باوقار ماحول فراہم کرنا چاہیے۔

---

5۔ خواتین صحافیوں کو کام کے دوران کن اہم مسائل اور چیلنجز کا سامنا کرنا پڑتا ہے؟

جواب:

خواتین صحافیوں کو مختلف نوعیت کے مسائل کا سامنا ہو سکتا ہے، جن میں آن لائن ہراسانی، فیلڈ رپورٹنگ کے دوران سکیورٹی، کام اور گھریلو ذمہ داریوں میں توازن، پیشہ ورانہ تعصب اور بعض اوقات غیر مساوی مواقع شامل ہیں۔

ڈیجیٹل دور میں آن لائن ٹرولنگ اور کردار کشی بھی ایک اہم مسئلہ بن چکی ہے۔

اس کے لیے میڈیا اداروں کو واضح پالیسیز، شکایات کے مؤثر نظام، محفوظ ورک پلیس اور پیشہ ورانہ تربیت فراہم کرنی چاہیے۔ خواتین صحافیوں کو بھی ڈیجیٹل سکیورٹی اور اپنے قانونی و پیشہ ورانہ حقوق سے آگاہ ہونا چاہیے۔

---

6۔ آپ ایک شاعرہ بھی ہیں؛ آپ کے نزدیک شاعری اور صحافت میں کیا تعلق ہے؟ کیا ایک شاعر بہتر صحافی بھی بن سکتا ہے؟

جواب:

شاعری اور صحافت دونوں کا تعلق مشاہدے، احساس، زبان اور معاشرے سے ہے۔ شاعر معاشرے کے جذبات اور مسائل کو احساس اور تخیل کے ذریعے بیان کرتا ہے، جبکہ صحافی حقائق اور شواہد کی بنیاد پر واقعات کو عوام تک پہنچاتا ہے۔

ایک شاعر کے اندر مشاہدے اور اظہار کی صلاحیت مضبوط ہو سکتی ہے، جو صحافت میں بھی مددگار ثابت ہوتی ہے، لیکن صرف شاعر ہونا کسی کو خود بخود اچھا صحافی نہیں بناتا۔

ایک اچھے صحافی کے لیے تحقیق، فیکٹ چیکنگ، غیر جانب داری، سوال کرنے کی صلاحیت اور صحافتی اخلاقیات بھی ضروری ہیں۔

---

7۔ آپ ولاگر بھی ہیں؛ صحافت اور ولاگنگ میں کیا فرق ہے اور ایک ولاگر کی بنیادی ذمہ داریاں کیا ہونی چاہئیں؟

جواب:

صحافت کا بنیادی مقصد عوام کو مصدقہ معلومات اور اہم واقعات سے آگاہ کرنا ہے، جبکہ ولاگنگ میں عموماً کسی شخص کے تجربات، مشاہدات، سفر، تعلیم، روزمرہ زندگی یا کسی خاص موضوع کو ویڈیو کی شکل میں پیش کیا جاتا ہے۔

ایک ولاگر کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے ناظرین کو گمراہ نہ کرے، جھوٹی معلومات کو حقیقت کے طور پر پیش نہ کرے، دوسروں کی عزتِ نفس اور پرائیویسی کا خیال رکھے اور مواد کو ذمہ داری سے پیش کرے۔

اگر ولاگر خبری یا سماجی موضوعات پر بات کر رہا ہو تو اسے صحافتی اصولوں کے مطابق ذرائع کی تصدیق اور معلومات کی درستگی کا خاص خیال رکھنا چاہیے۔

---

8۔ آپ کے خیال میں ایک اچھے صحافی، شاعر اور ولاگر میں کون سی مشترکہ خوبیاں ہونی چاہئیں؟

جواب:

میرے خیال میں تینوں شعبوں میں کچھ بنیادی خوبیاں مشترک ہیں: اچھا مشاہدہ، مؤثر ابلاغ، تخلیقی سوچ، تحقیق، سچائی، ذمہ داری اور لوگوں کو سمجھنے کی صلاحیت۔

ایک اچھا صحافی سوال پوچھتا ہے، شاعر احساس کو لفظ دیتا ہے اور ولاگر اپنے مشاہدے کو ویڈیو کے ذریعے لوگوں تک پہنچاتا ہے۔

ان تینوں کے لیے سب سے اہم چیز میرے نزدیک اعتماد ہے۔ ناظرین اور قارئین کو محسوس ہونا چاہیے کہ جو شخص ان سے بات کر رہا ہے وہ معلومات اور اظہار دونوں میں ذمہ دار ہے۔

---

9۔ آج کا نوجوان سوشل میڈیا پر زیادہ وقت گزارتا ہے؛ اسے مثبت صحافت، ادب اور معیاری مواد کی طرف کیسے راغب کیا جا سکتا ہے؟

جواب:

نوجوانوں کو صرف یہ کہنا کافی نہیں کہ سوشل میڈیا کم استعمال کریں۔ ہمیں انہیں معیاری اور دلچسپ متبادل مواد فراہم کرنا ہوگا۔

مثلاً مختصر معلوماتی ویڈیوز، تعلیمی پوڈکاسٹس، کتابوں کے مختصر تعارف، مثبت سماجی کہانیاں، نوجوانوں کی کامیابیوں کی داستانیں اور آسان زبان میں معلوماتی پروگرام بنائے جا سکتے ہیں۔

میرا خیال ہے کہ اگر معیاری مواد کو جدید انداز، اچھی ویژول پریزنٹیشن اور نوجوانوں کی زبان میں پیش کیا جائے تو سوشل میڈیا کو صرف تفریح نہیں بلکہ تعلیم، شعور اور مثبت تبدیلی کا ذریعہ بھی بنایا جا سکتا ہے۔

---

10۔ مستقبل میں آپ صحافت، شاعری اور ولاگنگ کو کس انداز میں آگے بڑھانا چاہتے ہیں، اور معاشرے کے لیے آپ کا بنیادی پیغام کیا ہے؟

جواب:

میری کوشش ہے کہ صحافت، شاعری اور ولاگنگ کو الگ الگ شعبوں کے بجائے ابلاغ کے مختلف ذرائع کے طور پر استعمال کروں۔

صحافت کے ذریعے مستند معلومات اور عوامی مسائل کو اجاگر کرنا، شاعری کے ذریعے احساسات اور معاشرتی موضوعات کو بیان کرنا، اور ولاگنگ کے ذریعے براہِ راست عوام تک معلومات اور تجربات پہنچانا میری ترجیحات میں شامل ہے۔

میرا بنیادی پیغام یہ ہے کہ ہم اختلاف کے باوجود ایک دوسرے کا احترام کریں، معلومات کو تحقیق کے بعد قبول کریں، مثبت سوچ کو فروغ دیں اور سوشل میڈیا کو معاشرے کی بہتری کے لیے استعمال کریں۔

میں سمجھتی ہوں کہ آج کے دور میں ایک ذمہ دار قلم، ایک ذمہ دار کیمرہ اور ایک ذمہ دار ڈیجیٹل پلیٹ فارم معاشرے میں مثبت شعور پیدا کرنے میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔