بدھ، 28 اکتوبر، 2026
Baaghi TV Logo
ٹرینڈنگ

کیا مسلم لیگ (ن) کو مضبوط بنانا صرف نواز شریف اور مریم نواز کی ذمہ داری ہے؟،تجزیہ: شہزاد قریشی

shehzad-qureshio-1024x543.png

مسلم لیگ ن کی مقبولیت نواز شریف اور مریم نواز کے گرد، باقی عہدیداروں کی کارکردگی کہاں ہے؟


عہدے، وزارتیں اور پروٹوکول اپنی جگہ، مسلم لیگ (ن) کی تنظیم سازی کون کرے گا؟


کیا مسلم لیگ (ن) کو مضبوط بنانا صرف نواز شریف اور مریم نواز کی ذمہ داری ہے؟ باقی عہدیدار جواب دیں!


تجزیہ: شہزاد قریشی


یہ بات تلخ ضرور ہے، لیکن پاکستان مسلم لیگ (ن) کی قیادت کو اس پر سنجیدگی سے غور کرنا چاہیے کہ جماعت کی مقبولیت کا بڑا حصہ آج بھی میاں نواز شریف اور مریم نواز شریف کے گرد گھومتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ باقی بڑے بڑے عہدوں پر فائز رہنما جماعت کو مضبوط بنانے کے لیے کیا کردار ادا کر رہے ہیں؟

مرکزی جنرل سیکرٹری کا عہدہ ہو یا پنجاب کے صدر کی ذمہ داری، سوال سب سے ہے کہ کیا کبھی باقاعدگی سے ضلعی، ڈویژنل اور تحصیل سطح کے عہدیداروں کے اجلاس منعقد کیے گئے؟ کیا کارکنوں کے مسائل سنے گئے؟ کیا جماعتی تنظیموں کی کارکردگی کا جائزہ لیا گیا؟

وزارت اور جماعتی ذمہ داری دو الگ چیزیں ہیں۔ وزیر ہونا، پروٹوکول لینا اور حکومتی عہدے پر فائز ہونا اپنی جگہ، لیکن بطور جماعتی عہدیدار کارکردگی کا پیمانہ یہ ہے کہ آپ نے جماعت کو کتنا مضبوط کیا اور کارکنوں کو کتنا متحرک رکھا۔

یہ سوال صرف پنجاب تک محدود نہیں۔ سندھ اور بلوچستان میں بھی مسلم لیگ (ن) کے عہدیداروں کو اپنی تنظیمی کارکردگی سامنے لانی چاہیے۔ بڑے عہدے محض اعزاز نہیں بلکہ بڑی ذمہ داری بھی ہوتے ہیں۔

کسی سیاسی جماعت کی اصل طاقت اس کے کارکن ہوتے ہیں۔ افسوس کہ ہمارے ہاں انتخابات کے قریب کارکنوں کو یاد کیا جاتا ہے، لیکن بعد میں ان سے رابطہ اکثر کمزور پڑ جاتا ہے۔ حالانکہ جماعت کو گلی، محلے، شہر اور تحصیل کی سطح پر مضبوط بنانا قیادت اور تنظیمی عہدیداروں کی بنیادی ذمہ داری ہے۔

میاں نواز شریف اور مریم نواز شریف ہر ضلع اور ہر تحصیل میں خود نہیں پہنچ سکتے۔ اسی لیے مرکزی جنرل سیکرٹری، صوبائی صدور، ضلعی اور تحصیل سطح کے عہدیدار مقرر کیے جاتے ہیں تاکہ وہ جماعتی نظام کو فعال رکھیں۔ اگر تمام ذمہ داریاں انہی دو شخصیات نے نبھانی ہیں تو پھر باقی عہدیداروں کی ضرورت اور کارکردگی پر سوال اٹھنا فطری ہے۔

مسلم لیگ (ن) کی قیادت کو چاہیے کہ وہ اپنی جماعت کا تنظیمی احتساب کرے۔ ہر عہدیدار سے پوچھا جائے کہ اس نے اپنے منصب کے دوران جماعت کے لیے کیا کام کیا، کتنے اجلاس منعقد کیے اور کارکنوں سے رابطے کے لیے کیا اقدامات کیے۔

یاد رکھیے، قائدین کی مقبولیت جماعت کو انتخابات جتوا سکتی ہے، لیکن جماعت کی مستقل مضبوطی کے لیے فعال تنظیم، مخلص کارکن اور جواب دہ عہدیدار ضروری ہوتے ہیں۔

میری بات کڑوی ضرور ہے، مگر سوال اہم ہے: کیا مسلم لیگ (ن) کو مضبوط بنانا صرف نواز شریف اور مریم نواز شریف کی ذمہ داری ہے، یا بڑے بڑے عہدوں پر بیٹھے رہنماؤں کو بھی اپنی کارکردگی ثابت کرنی چاہیے؟ عہدے نام سے نہیں، کارکردگی سے پہچانے جاتے ہیں۔