جمعہ، 23 اکتوبر، 2026
Baaghi TV Logo
ٹرینڈنگ

آر پی او راولپنڈی کی کھلی کچہری میں میڈیا کوریج پر پابندی، اوپن ڈور ویژن پر سوالیہ نشان

مصنف:

سائلین کی شکایات پر کارروائی کے احکامات، صحافیوں کو کیمرے اور مائیک استعمال کرنے سے روک دیا گیا

آئی جی پنجاب اور وزیراعلیٰ سے وضاحت طلب، کیا میڈیا کوریج روکنے کے کوئی سرکاری قواعد موجود ہیں؟

نہ سوالات کا موقع، نہ بریفنگ، نہ فیڈبیک صحافی کھلی کچہری میں خاموش تماشائی بنے رہے

عوامی شکایات کی کوریج سے گریز کیوں؟ وزیراعلیٰ پنجاب کے اوپن ڈور ویژن پر عمل درآمد سوالیہ نشان بن گیا

گوجرخان (قمرشہزاد) آر پی او راولپنڈی بابر سرفراز الپا کی تھانہ گوجرخان میں کھلی کچہری کا انعقاد کیا گیا، جس میں سائلین نے کثیر تعداد میں شرکت کرکے اپنے مسائل اور شکایات پیش کیں۔ آر پی او نے شکایات سنیں اور اے ایس پی گوجرخان سید دانیال حسن اور ایس ایچ او تھانہ گوجرخان چوہدری رفیق کو ضروری کارروائی اور مسائل کے ازالے کے احکامات جاری کیے۔ تاہم صحافیوں کو کیمرے اور مائیک استعمال کرنے اور تصاویر بنانے سے روک دیا گیا۔ جی ٹی روڈ کے کنارے واقع تھانے میں گاڑیوں کے شور کے باعث صحافیوں کے لیے سائلین کی گفتگو سننا اور ان کے مسائل کی نوعیت جاننا بھی دشوار تھا۔ کھلی کچہری ختم ہونے پر نہ صحافیوں کو سوالات کا موقع دیا گیا، نہ کوئی بریفنگ یا فیڈبیک فراہم کیا گیا اور نہ ہی شکایات پر ہونے والی کارروائی سے آگاہ کیا گیا۔ ایسے میں سوال یہ ہے کہ میڈیا کا کردار کیا رہ جاتا ہے، کیا صحافی محض خاموش تماشائی بن کر بیٹھیں اور عوام تک صرف سرکاری پریس ریلیز پہنچائیں؟ وزیراعلیٰ پنجاب کے اوپن ڈور ویژن کے تناظر میں اس طرزِ عمل نے شفافیت اور آزاد صحافتی کوریج کے حوالے سے سوالات اٹھا دیے ہیں۔ آئی جی پنجاب اور وزیراعلیٰ پنجاب سے وضاحت طلب ہے کہ کیا کھلی کچہریوں میں میڈیا کو مائیک، کیمرے اور تصاویر کے استعمال سے روکنے کے کوئی باقاعدہ محکمانہ قواعد یا حکومتی احکامات موجود ہیں؟ اگر ایسے ضوابط ہیں تو ان کی نوعیت اور وجوہات عوام اور صحافیوں کے سامنے لائی جائیں، اور اگر کوئی پابندی عائد نہیں تو گوجرخان میں صحافیوں کو کوریج سے کیوں روکا گیا؟ میڈیا کی آزادی اور عوامی مسائل کی آزادانہ رپورٹنگ کے پیش نظر یہ بھی واضح کیا جائے کہ صحافیوں کو کارروائی ریکارڈ کرنے، متعلقہ افسران سے سوالات کرنے اور شکایات پر ہونے والی پیش رفت جاننے کا حق کس حد تک حاصل ہے۔ کھلی کچہری میں عوام کی آواز سننا ہی کافی نہیں، اس آواز کو عوام تک پہنچانے کے لیے میڈیا کو مؤثر کردار ادا کرنے کا موقع دینا بھی ضروری ہے۔