نیشنل ایکشن پلان: اتفاقِ رائے سے غفلت تک،تجزیہ:شہزاد قریشی
نقطہ نظر
نیشنل ایکشن پلان قومی اتفاقِ رائے سے سیاسی غفلت تک کا سفر
دستخط سب کے تھے، عمل کسی کا نہ تھا نیشنل ایکشن پلان کی ادھوری کہانی
تجزیہ شہزاد قریشی
نیشنل ایکشن پلان پاکستان میں 16 دسمبر 2014 کے سانحۂ آرمی پبلک اسکول پشاور کے بعد تشکیل دیا گیا۔ اس وقت ملک دہشت گردی، انتہاپسندی اور فرقہ واریت کی شدید لہر کا سامنا کر رہا تھا۔ اسی پس منظر میں تمام بڑی سیاسی جماعتوں، ریاستی اداروں اور پارلیمان نے ایک 20 نکاتی قومی حکمتِ عملی پر اتفاق کیا، جس کا مقصد دہشت گردی کے خلاف مشترکہ قومی لائحۂ عمل اختیار کرنا تھا۔
یہ کہنا درست ہے کہ نیشنل ایکشن پلان کو غیر معمولی سیاسی حمایت حاصل تھی۔ مختلف سیاسی جماعتوں کے درمیان اختلافات کے باوجود دہشت گردی کے مسئلے پر ایک قومی اتفاقِ رائے پیدا ہوا اور اسی بنیاد پر یہ منصوبہ آگے بڑھایا گیا۔
سوال یہ ہے کہ پھر اس پر مکمل عمل درآمد کیوں نہ ہو سکا؟
اس کی پہلی وجہ یہ ہے کہ نیشنل ایکشن پلان کے بعض نکات پر فوری عمل ہوا، جیسے دہشت گردوں کے خلاف آپریشنز، فوجی عدالتوں کا قیام، کراچی آپریشن اور سکیورٹی اقدامات۔ لیکن جن نکات کا تعلق ادارہ جاتی اصلاحات، عدالتی نظام، نیکٹا کو مضبوط بنانے، نفرت انگیز مواد کے خاتمے، مدرسہ اصلاحات اور انتہاپسندی کے نظریاتی مقابلے سے تھا، وہاں رفتار سست رہی۔
دوسری وجہ سیاسی عدم تسلسل ہے۔ پاکستان میں حکومتیں بدلتی رہیں، ترجیحات تبدیل ہوتی رہیں اور ہر نئی حکومت نے سابقہ پالیسیوں کو اسی شدت سے آگے نہیں بڑھایا۔ نتیجتاً نیشنل ایکشن پلان ایک مستقل قومی پالیسی کے بجائے وقتاً فوقتاً یاد کیے جانے والے دستاویز کی شکل اختیار کر گیا۔
تیسری وجہ یہ ہے کہ نیشنل ایکشن پلان صرف وفاق کا نہیں بلکہ صوبوں، قانون نافذ کرنے والے اداروں، عدلیہ اور سیاسی قیادت سب کا مشترکہ منصوبہ تھا۔ جب اتنے زیادہ ادارے شامل ہوں تو عمل درآمد کے لیے مستقل نگرانی، جوابدہی اور سیاسی عزم درکار ہوتا ہے۔ متعدد مبصرین کے مطابق یہی وہ شعبے تھے جہاں کمزوریاں سامنے آئیں۔
سیاسی تجزیے کے طور پر دیکھا جائے تو نیشنل ایکشن پلان پاکستان کی تاریخ کے ان چند قومی دستاویزات میں سے ایک ہے جس پر تقریباً پورا سیاسی نظام متفق تھا۔ مسئلہ اتفاقِ رائے کا نہیں تھا، بلکہ اس اتفاقِ رائے کو مسلسل عمل میں تبدیل کرنے کا تھا۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں کئی کامیابیاں حاصل ہوئیں، لیکن انتہاپسندی، نفرت انگیز بیانیے، عدالتی اصلاحات اور ادارہ جاتی مضبوطی جیسے بنیادی اہداف مکمل طور پر حاصل نہ ہو سکے۔
آج بھی اگر ملک کی تمام سیاسی جماعتیں نیشنل ایکشن پلان کی اصل روح کے مطابق اس پر عمل درآمد کے لیے متفق ہو جائیں اور اسے سیاسی اختلافات سے بالاتر قومی پالیسی کے طور پر اختیار کریں، تو یہ داخلی استحکام، امن اور قومی یکجہتی کے لیے ایک مؤثر بنیاد بن سکتا ہے۔ نیشنل ایکشن پلان کی اصل کامیابی کاغذی اتفاقِ رائے میں نہیں بلکہ اس کے مسلسل، غیر جانبدار اور مکمل نفاذ میں پوشیدہ ہے۔
مزید پڑھیں





