Baaghi TV Logo
ٹرینڈنگ

اوگرا کا 280 روپے فی کلو نرخ، گوجرخان میں بے اثر

مصنف:

اوگرا کا 280 روپے فی کلو نرخ، گوجرخان میں بے اثر، شہری 5500 روپے تک سلنڈر خریدنے پر مجبور

ایل پی جی سرکاری نرخ سے کہیں مہنگی کیوں؟ صرف دکاندار نہیں، پلانٹس سے ڈسٹریبیوٹرز تک پوری چین کی جانچ کا مطالبہ

280 روپے کلو اور تقریباً 3300 روپے سلینڈر کا نوٹیفکیشن، پھر 5500 روپے میں فروخت کا راز کیا ہے؟ شہریوں کے انتظامیہ سے چبھتے سوالات

گوجرخان (قمرشہزاد) اوگرا کی جانب سے ایل پی جی کی قیمت 280 روپے فی کلو مقرر کیے جانے کے باوجود گوجرخان میں شہریوں کو مقررہ نرخ پر ایل پی جی دستیاب نہ ہونے کی شکایات بدستور سامنے آ رہی ہیں، جبکہ شہریوں کا کہنا ہے کہ انہیں سلنڈر 5500 روپے تک میں خریدنا پڑ رہا ہے۔شہریوں نے سوال اٹھایا ہے کہ جب سرکاری سطح پر فی کلو نرخ 280 روپے اور تقریباً 3300 روپے کے سلنڈر کا نرخ مقرر کیا گیا ہے تو پھر مارکیٹ میں 5500 روپے تک کا سلنڈر کیوں فروخت ہو رہا ہے؟شہریوں کا کہنا ہے کہ انتظامیہ کی کارروائیاں اگر صرف چھوٹے دکانداروں یا ڈسٹریبیوٹرز تک محدود رہیں گی تو مسلے کی اصل جڑ سامنے نہیں آئے گی۔ گیس پلانٹس سے لے کر ڈسٹریبیوٹر ایجنسیوں اور پھر ریٹیل دکانوں تک پوری سپلائی چین کی چھان بین کی جائے اور یہ تعین کیا جائے کہ ایل پی جی کس مرحلے پر مہنگی ہو رہی ہے، اس کی وجوہات کیا ہیں اور سرکاری نرخ سے اتنا بڑا فرق کیسے پیدا ہو رہا ہے۔ شہریوں نے کمشنر راولپنڈی، ڈپٹی کمشنر راولپنڈی اور اسسٹنٹ کمشنر گوجرخان سے مطالبہ کیا ہے کہ پلانٹس مالکان، ڈسٹریبیوٹرز اور دیگر متعلقہ عناصر سمیت پوری چین کا ریکارڈ چیک کرکے قیمتوں کے فرق کی اصل وجہ سامنے لائی جائے۔شہری حلقوں نے حکومتی دعووں اور زمینی حقائق کے درمیان واضح تضاد پر کئی سوالات اٹھاتے ہوئے کہا ہے کہ کیا حکومت صرف نوٹیفکیشن جاری کرکے اپنی ذمہ داری پوری سمجھ رہی ہے یا واقعی 280 روپے فی کلو کے نرخ پر ایل پی جی کی فراہمی یقینی بنانے کا کوئی عملی نظام بھی موجود ہے؟ اگر سرکاری نرخ پر گیس دستیاب نہیں تو ایسے نرخ نامے جاری کرنے کا عوام کو کیا فائدہ؟ اور اگر سرکاری نرخ پر ایل پی جی دستیاب ہوسکتی ہے تو پھر 3300 روپے کے بجائے 5500 روپے کا سلینڈر کون اور کس مرحلے پر مہنگا کر رہا ہے؟ شہریوں کا کہنا ہے کہ ان سوالات کا جواب صرف دکانداروں کے خلاف کارروائی سے نہیں بلکہ گیس پلانٹس سے لے کر آخری فروخت کنندہ تک مکمل تحقیقات سے ہی مل سکتا ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ اوگرا کے نرخ نامے پر حقیقی معنوں میں عملدرآمد کرایا جائے اور خلاف ورزی ثابت ہونے پر ذمہ داروں کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے۔