Baaghi TV Logo
ٹرینڈنگ

قرآن،ہدایت کا ذریعہ ،تحریر: مائرہ سعید


ازل سے جب سے دنیا بنی ہے۔ اللہ رب العزت نے ہر دور میں انسانوں کی رہنمائی کے لیے انبیاء کرام علیہ السلام معبوث فرمائے ہیں۔ جن کی بعثت کا بنیادی مقصد اپنی اقوام کو اللہ رب العزت کی پہچان کروانا اور اس کے دین کو پھیلانا تھا۔ ہر نبی نے اپنے دور میں واضح اور مکمل تعلیمات اپنی اقوام تک پہنچائی۔ حضرت آدم علیہ السلام سے چلنے والا یہ سلسلہ بالآخر نبی الزماں، رحمت دوعالم، خاتم النبیین حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات پر آکر مکمل ہوا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر قرآن پاک کا نزول ہوا؛جو کہ تا قیامت مسلمانوں کے لیے رہنمائی کا کامل ترین ذریعہ ہے۔

قرآن ھدایت کا وہ نور ہے جو دلوں کو اپنے نور کی روشنی سے منور کرتا ہے۔ بیماروں کو شفاء بخشتا ہے۔ دلوں کو نرم کرتا ہے۔ بغض، حسد، نفرت و عداوت جیسے عناصر کا جڑ سے خاتمہ کرتا ہے۔

یہ قرآن محض ایک کتاب نہیں بلکہ اس میں تمام شعبہ زندگی سے متعلق جامع اور شفاف ھدایات ہیں۔ یہ کامل شفاء ہے ان لوگوں کے لیے جو اسے مانتے ہیں۔ اس کی تلاوت کرتے ہیں۔ جو شخص اس سے جڑ جاتا ہے کامیابی اس کا مقدر بن جاتی ہے۔ جو اسے چھوڑ دیتا ہے وہ سوائے خسارے کے کچھ حاصل نہیں کر پاتا۔

پرفتن دور حاضر میں جہاں ہر سوں نفسانفسی کا عالم دکھائی دیتا ہے۔ امت مسلمہ تباہی و بربادی کے دہانے پر کھڑی ہے۔ ظلم و جبر اپنی تمام تر حدوں کو توڑ چکا ہے۔ ناانصافی، ناپ تول میں کمی کا بازار گرم ہے۔ لوگ قرآن کو چھوڑ کر دنیاوی چکاچوند میں اس قدر کھو چکے ہیں کہ وہ آخرت کو بھول بیٹھے ہیں۔ ڈپریشن، اینگزائٹی، اسٹریس تو گویا ہماری عوام کی رگوں میں رچ بس چکے ہیں۔ آئے روز نفسیاتی مسائل کا شکار لوگ سامنے آتے ہیں۔ مسائل بھی ایسے کہ جن کا نام سن کر انسان حیران رہ جاتا ہے۔ دنیا پر ایسی عجب فضا چھائی جو محض قرآن کو تھامنے سے ہی دور ہو سکتی ہے۔

اللہ رب العزت قرآن پاک میں فرماتا ہے :

وَ نُنَزِّلُ مِنَ الْقُرْاٰنِ مَا هُوَ شِفَآءٌ وَّ رَحْمَةٌ لِّلْمُؤْمِنِیْنَ:

ترجمہ: اور ہم قرآن میں وہ چیز اتارتے ہیں جو ایمان والوں کے لیے شفاء اور رحمت ہے۔ (سورۃ الاسراء:82)


قرآن شفاء ہے بیمار دلوں کے لیے۔ یہ نہ صرف انسان کی جسمانی بلکہ روحانی اور نفسیاتی بیماریوں کو بھی دور کرتا ہے۔ اس کا ایک نام الشفاء اسی لیے ہے کیونکہ اس میں شفاء ہے۔ آج انسان بےشمار مادی سہولیات، دنیاوی آسائشوں کے باوجود جن تکلیفوں اور مصائب میں گھرا ہوا ہے۔ اس سے نکلنے کا علاج صرف قرآن مجید میں ہے۔

گھریلو جھگڑے، آپسی لڑائیاں گھروں کو تباہ کر رہی ہیں۔ بھائی بہن ایک دوسرے کے دشمن بنے نظر آتے ہیں۔ لوگ خونی رشتوں کے تقدس کو پامال کر رہے ہیں۔ بےحیائی اور فخاشی ہر گھر میں رقص کرتی دکھائی دیتی ہے۔ ان تمام حالات میں آج امت مسلمہ کو اشد ضرورت ہے کہ وہ قرآن کو مضبوطی سے تھامیں۔ اسے محض ثواب کا یا نجات کا ذریعہ نہ سمجھیں بلکہ اس سے اپنی زندگیوں کو صحیح منہج پر لائیں۔ اس کے احکامات کے مطابق زندگی گزاریں۔

قرآن انسان کی ذات، اس کی شخصیت میں پوشیدہ تمام تر جسمانی اور روحانی امراض کے لیے شفاء کا باعث ہے۔ ضرورت صرف اس امر کی ہے کہ انسان اسے اپنی روز مرہ زندگی میں شامل کریں۔ اس کی تعلیمات پر عمل کریں۔ اس کے علم و فہم کو نہ صرف سمجھیں بلکہ عملی زندگی میں اس کا اظہار بھی کریں اور اسے دوسروں تک بھی پہنچائیں۔ یہی نجات کا اور کامیابی کا ذریعہ ہے۔ نہ صرف اس دنیا میں بلکہ آخرت میں بھی۔