جمعرات، 5 نومبر، 2026
Baaghi TV Logo
ٹرینڈنگ

جامعہ سے کالج تک واپسی، کیا ہماری بیٹیوں کے تعلیمی خواب بھی سکڑ جائیں گے؟تحریر: ڈاکٹر شمائلہ (سیالکوٹ)

نقطہ نظر

کسی معاشرے کی ترقی کا اندازہ اس کی بلند عمارتوں، کشادہ سڑکوں یا صنعتی کامیابیوں سے ضرور لگایا جا سکتا ہے، لیکن اس کی حقیقی فکری بلندی کا تعین وہاں قائم تعلیمی اداروں کی وسعت، علمی خودمختاری اور نئی نسل کے لیے فراہم کردہ مواقع سے ہوتا ہے۔ تعلیم وہ سرمایہ ہے جس میں کمی کسی ایک دور کا نقصان نہیں ہوتی، بل کہ اس کے اثرات آنے والی کئی نسلوں تک محسوس کیے جاتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ جب کسی تعلیمی ادارے کی شناخت اور حیثیت سے متعلق کوئی فیصلہ سامنے آئے تو اسے محض انتظامی کارروائی سمجھ کر نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔

حکومتِ پنجاب کے ہائر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ کی جانب سے 23 اکتوبر 2026ء کو جاری ہونے والا نوٹیفکیشن نمبر SO (Univ.) Misc-3/2026 آج کل تعلیمی حلقوں میں کئی سوالات کو جنم دے رہا ہے۔ اس مراسلے میں The Public Sector Universities (Amendment) Act, 2026 (Act XXIII of 2026) کے تحت چھ سرکاری تعلیمی اداروں کے نام تبدیل کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ ان میں گورنمنٹ کالج لاہور، گورنمنٹ کالج فیصل آباد، گورنمنٹ کالج فار ویمن فیصل آباد، گورنمنٹ کالج فار ویمن سیالکوٹ، گورنمنٹ صادق کالج بہاولپور اور لاہور کالج فار ویمن لاہور شامل ہیں۔ ان اداروں کے ناموں سے لفظ ’’یونیورسٹی‘‘ حذف کرکے انہیں سابقہ کالج شناخت کے ساتھ پکارنے کی ہدایت کی گئی ہے۔

اس نوٹیفکیشن کی سب سے اہم عبارت وہ ہے جس میں واضح کیا گیا ہے کہ ان اداروں کے اعلیٰ تعلیم فراہم کرنے سے متعلق فرائض اور دائرۂ کار بدستور برقرار رہیں گے۔ گویا نام تبدیل ہوگا، مگر اعلیٰ تعلیم کی فراہمی کا کام پہلے کی طرح جاری رہے گا۔ بظاہر یہ ایک انتظامی تبدیلی ہے، لیکن اس کے پیچھے موجود بنیادی سوال اپنی جگہ قائم ہے: جب ادارے کے فرائض اور اعلیٰ تعلیم کا دائرۂ کار تبدیل نہیں ہو رہا تو پھر اس کی یونیورسٹی کی شناخت ختم کرنے کی ضرورت کیوں پیش آئی؟

یہ سوال محض لفظوں کی تبدیلی پر اعتراض نہیں، بل کہ تعلیمی ترجیحات اور مستقبل کی منصوبہ بندی سے متعلق ایک سنجیدہ استفسار ہے۔

میری اس معاملے سے وابستگی محض ایک عام شہری یا تعلیم سے دلچسپی رکھنے والی خاتون کی نہیں۔ میں نے گورنمنٹ کالج ویمن یونیورسٹی سیالکوٹ سے ایم ایس اور پی ایچ ڈی اُردو کی ڈگری حاصل کی ہے۔ 2025ء میں اپنی پی ایچ ڈی مکمل کی۔ اس ادارے کی درس گاہوں، علمی فضا، اساتذہ کی رہنمائی اور تحقیقی ماحول سے میرا ایک گہرا تعلق ہے۔ میں جانتی ہوں کہ ایک طالبہ کے لیے اپنے ہی شہر میں اعلیٰ تعلیم کے مواقع میسر آنا کتنی بڑی سہولت ہے۔ یہی ادارہ میرے جیسے بے شمار افراد کے علمی سفر کا اہم حوالہ بن چکا ہے۔ اس لیے اس کی شناخت سے متعلق کسی بھی فیصلے کو دیکھتے ہوئے ایک فطری تشویش پیدا ہوتی ہے۔

سیالکوٹ صرف ایک صنعتی شہر نہیں، بل کہ علم و ادب کی ایک مستند روایت بھی رکھتا ہے۔ علامہ محمد اقبالؒ کی نسبت نے اس شہر کو عالمی سطح پر ایک منفرد پہچان دی ہے۔ یہاں خواتین کے لیے ایک سرکاری جامعہ کا قیام محض ایک تعلیمی منصوبہ نہیں تھا، بل کہ اس خطے کی بچیوں کے لیے امکانات کی نئی دنیا کھولنے کے مترادف تھا۔ سیالکوٹ کے علاوہ نارووال، ڈسکہ، پسرور، سمبڑیال، وزیرآباد، ایمن آباد اور گردونواح سے تعلق رکھنے والی طالبات بھی اس ادارے سے مستفید ہوتی رہی ہیں۔ بہت سی ایسی بچیاں جن کے لیے لاہور، فیصل آباد یا کسی دوسرے دور دراز شہر میں جا کر تعلیم حاصل کرنا ممکن نہیں تھا، انہیں اپنے علاقے میں اعلیٰ تعلیم کے حصول کا موقع ملا۔

کالج سے یونیورسٹی تک کا سفر کسی تختی پر لکھے ہوئے نام کی تبدیلی نہیں ہوتا۔ اس کے پیچھے تعلیمی ارتقا، قانونی مراحل، ادارہ جاتی محنت، اساتذہ کی خدمات اور کئی نسلوں کی امیدیں شامل ہوتی ہیں۔ یونیورسٹی کا درجہ حاصل کرنے کے بعد ادارے کی شناخت وسیع تر علمی دنیا سے وابستہ ہو جاتی ہے۔ اس کے فارغ التحصیل طلبہ اپنی اسناد کے ذریعے قومی اور بین الاقوامی تعلیمی اداروں سے رابطہ قائم کرتے ہیں۔ تحقیق کے نئے دروازے کھلتے ہیں، اعلیٰ تعلیمی پروگراموں کو وسعت ملتی ہے اور ادارہ اپنے علاقے کی علمی ضروریات سے آگے بڑھ کر وسیع تر تعلیمی منظرنامے میں جگہ بناتا ہے۔

ایسے میں یہ سوال اہمیت اختیار کر جاتا ہے کہ کیا صرف نام کی تبدیلی سے ادارے کی علمی ساکھ اور بین الاقوامی شناخت پر کوئی اثر نہیں پڑے گا؟ اگر حکومت کا مؤقف ہے کہ تمام تعلیمی فرائض پہلے کی طرح جاری رہیں گے تو اس کی مکمل وضاحت بھی ضروری ہے۔ بالخصوص ڈگریوں کی قانونی حیثیت، بیرونِ ملک اسناد کی تصدیق، تحقیقی پروگراموں کی منظوری، بین الاقوامی روابط اور ادارے کے تعلیمی تشخص کے حوالے سے کوئی ابہام باقی نہیں رہنا چاہیے۔

اس معاملے کا ایک نہایت اہم پہلو مالی وسائل کا بھی ہے۔ حکومت واضح کرے کہ کیا ان اداروں کے بجٹ، ترقیاتی فنڈز، تحقیقی گرانٹس، تدریسی آسامیوں اور بنیادی سہولتوں میں کوئی تبدیلی نہیں آئے گی؟ کیا مستقبل میں بھی انہیں یونیورسٹیوں کے مساوی مالی وسائل اور تحقیقی معاونت فراہم کی جائے گی؟ کیا نئے شعبوں کے قیام، جدید لیبارٹریوں، لائبریریوں اور بین الاقوامی تحقیقی منصوبوں کے لیے پہلے کی طرح وسائل دستیاب ہوں گے؟ اگر نام تبدیل ہونے کے باوجود ادارے کی تمام تعلیمی حیثیت برقرار رکھنا مقصود ہے تو اس کے لیے مالیاتی تحفظ بھی یقینی بنایا جانا چاہیے۔

سیالکوٹ کی جامعہ کے حوالے سے ایک اور سوال اس کے موجودہ کیمپس اور اراضی کے مستقبل کا ہے۔ ایمن آباد روڈ پر واقع اس ادارے کی زمین اور عمارتیں عوامی تعلیمی اثاثہ ہیں۔ ان کا تحفظ اور تعلیمی مقاصد کے لیے استعمال برقرار رکھنا حکومت کی ذمہ داری ہے۔ فی الحال کسی ممکنہ قبضے یا اراضی کی منتقلی کو ثابت شدہ حقیقت قرار دینا مناسب نہیں، تاہم حکومت کو چاہیے کہ وہ واضح کرے کہ اس زمین کے موجودہ استعمال، مستقبل کی توسیع اور قانونی تحفظ کے بارے میں اس کی پالیسی کیا ہے۔ عوامی اثاثوں کے متعلق شفافیت ہی بے بنیاد خدشات کا مؤثر جواب ہوتی ہے۔

یہ بھی ضروری ہے کہ ان اداروں میں زیرِ تعلیم طالبات اور پہلے سے فارغ التحصیل ہونے والی بچیوں کے تعلیمی حقوق محفوظ رہیں۔ ان کی ڈگریوں، ٹرانسکرپٹس، داخلوں، وظائف اور مستقبل کی اعلیٰ تعلیم کے معاملات میں کوئی انتظامی پیچیدگی پیدا نہ ہو۔ ایک طالبہ برسوں محنت کرکے جب اپنی ڈگری حاصل کرتی ہے تو اسے یہ اطمینان ہونا چاہیے کہ اس کی سند کی شناخت اور قدر آنے والے وقت میں بھی برقرار رہے گی۔ تعلیمی پالیسیوں میں تبدیلی کرتے ہوئے سب سے پہلے ان طلبہ کے مفادات کو دیکھا جانا چاہیے جن کا مستقبل ان فیصلوں سے وابستہ ہوتا ہے۔

میرا سوال حکومتِ پنجاب اور بالخصوص محکمہ ہائر ایجوکیشن سے ہے کہ اگر ان اداروں کو یونیورسٹی کے تمام فرائض انجام دینے ہیں تو ان کے نام سے یونیورسٹی کا لفظ حذف کرنے کی منطق کیا ہے؟ کیا اس تبدیلی کے تعلیمی، انتظامی اور مالی اثرات کا کوئی جامع جائزہ لیا گیا؟ کیا متعلقہ اداروں کے وائس چانسلرز، اساتذہ، سابق طالبات اور تعلیمی ماہرین کو اعتماد میں لیا گیا؟ کیا اس فیصلے کے دور رس نتائج پر کسی علمی فورم میں مشاورت ہوئی؟

یہاں یہ بات بھی واضح رہنی چاہیے کہ کسی تاریخی نام کی بحالی یا روایت کے احترام سے اختلاف مقصود نہیں۔ اصل اعتراض اس وقت پیدا ہوتا ہے جب ادارے کی ترقی یافتہ شناخت تبدیل کی جائے، مگر اس تبدیلی کے مقاصد اور نتائج کے بارے میں متعلقہ فریقوں کو مطمئن نہ کیا جائے۔ تاریخ کا احترام اپنی جگہ، لیکن مستقبل کی تعمیر بھی اتنی ہی اہم ہے۔ ماضی کی طرف دیکھنے کے ساتھ آگے بڑھنے کا راستہ بند نہیں ہونا چاہیے۔

خواتین کی اعلیٰ تعلیم پہلے ہی متعدد معاشرتی، معاشی اور انتظامی رکاوٹوں سے دوچار ہے۔ ایسے میں ان اداروں کو مزید مضبوط بنانے، جدید تحقیقی سہولتیں فراہم کرنے اور بین الاقوامی معیار سے ہم آہنگ کرنے کی ضرورت ہے۔ ہمیں ایسی پالیسیاں درکار ہیں جو بچیوں کو اعلیٰ تعلیم کے زیادہ مواقع دیں، نہ کہ ان کے ذہنوں میں اپنے تعلیمی مستقبل کے حوالے سے نئے سوالات پیدا کریں۔

میری حکومت سے گزارش ہے کہ اس فیصلے پر نظرِ ثانی کرتے ہوئے تمام متعلقہ فریقوں سے مشاورت کی جائے۔ اگر ناموں کی تبدیلی کے باوجود یونیورسٹیوں کی مکمل تعلیمی حیثیت برقرار رکھنے کا فیصلہ ہے تو اس کی قانونی، مالی اور انتظامی ضمانتیں عوام کے سامنے پیش کی جائیں۔ ان اداروں کے بجٹ، خودمختاری، تحقیقی سرگرمیوں، اساتذہ کے حقوق اور زمین کے تحفظ کے حوالے سے واضح پالیسی جاری کی جائے۔ محض ایک سطر میں فرائض برقرار رکھنے کا اعلان کافی نہیں؛ اس کا عملی ثبوت بھی سامنے آنا چاہیے۔

تعلیم کسی حکومت کی وقتی ترجیح نہیں، بل کہ ریاست کی مستقل ذمہ داری ہے۔ حکومتیں آتی جاتی رہتی ہیں، مگر تعلیمی اداروں کی تعمیر اور ان کی شناخت نسلوں تک اثرانداز ہوتی ہے۔ کسی ادارے کو ترقی کے سفر میں آگے لے جانا یقیناً ایک کامیابی ہے، لیکن اسے حاصل شدہ مقام پر برقرار رکھنا بھی اتنا ہی ضروری ہے۔

میں ایک ایسی محقق کی حیثیت سے یہ سوال اٹھا رہی ہوں جس نے اسی جامعہ سے پی ایچ ڈی کی اور جس کے لیے اس ادارے کا نام ایک ذاتی علمی یادگار بھی ہے۔ میری خواہش ہے کہ سیالکوٹ کی آنے والی نسلیں اس ادارے کو مزید ترقی کرتے ہوئے دیکھیں؛ یہاں نئے تحقیقی مراکز قائم ہوں، جدید شعبے متعارف کروائے جائیں اور ہماری بیٹیاں علم و تحقیق کے میدان میں ملکی و بین الاقوامی سطح پر اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوائیں۔

آخر ہم اپنی بیٹیوں کو یہ پیغام کیوں دیں کہ جس تعلیمی منزل تک پہنچنے کے لیے برسوں جدوجہد کی گئی، اب اس کی شناخت دوبارہ محدود کی جا رہی ہے؟ ہمیں تعلیمی اداروں کے نام چھوٹے کرنے کے بجائے ان کے امکانات وسیع کرنے چاہییں۔ کیونکہ کسی جامعہ کی اصل پہچان اس کے نام میں نہیں، اس علم، تحقیق اور روشن مستقبل میں ہوتی ہے جو وہ ایک نسل کو عطا کرتی ہے۔ سیالکوٹ کی بیٹیوں کو اپنے شہر میں ایک مضبوط جامعہ کا حق حاصل ہے؛ یہ حق کسی انتظامی فیصلے کی نذر نہیں ہونا چاہیے۔