سعودی عرب کی سلامتی، حوثی میزائل اور ایران کا کردار۔تجزیہ:شہزاد قریشی
نقطہ نظر
سعودی عرب کی سلامتی خطرے میں حوثی میزائل، ایرانی معاونت اور مشرقِ وسطیٰ میں طاقت کی عالمی کشمکش
مقدس سرزمین کا تحفظ اور عالمی امن داؤ پر حوثیوں کی عسکری صلاحیت کے پیچھے کون، اور اسلحے کی رسد کب رکے گی؟
تجزیہ نگار شہزاد قریشی
سعودی عرب کے ہوائی اڈوں اور شہری تنصیبات کو لاحق حوثی حملوں کے خطرات محض ایک ملک کا دفاعی مسئلہ نہیں، بلکہ پورے مشرقِ وسطیٰ کے امن، عالمی فضائی سلامتی اور بین الاقوامی استحکام کے لیے ایک سنجیدہ چیلنج ہیں۔ سعودی عرب مسلمانوں کے لیے حرمین شریفین، مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ، کی وجہ سے غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔ یہاں ہونے والا کوئی بھی سکیورٹی بحران دنیا بھر کے مسلمانوں اور لاکھوں بین الاقوامی زائرین کے لیے تشویش کا باعث بنتا ہے۔
اصل سوال یہ ہے کہ حوثی باغیوں کے پاس جدید میزائل، ڈرون اور طویل فاصلے تک حملہ کرنے کی صلاحیت کہاں سے آتی ہے؟ دستیاب بین الاقوامی تحقیقات ایران کی جانب سے اسلحے، تکنیکی معاونت اور بعض فوجی صلاحیتوں کی فراہمی کے شواہد کی نشاندہی کرتی ہیں۔ اس کے علاوہ یمن کے سابق فوجی ذخائر، اسمگلنگ کے راستے اور تجارتی پرزوں کا استعمال بھی حوثیوں کی عسکری صلاحیت برقرار رکھنے میں کردار ادا کر سکتے ہیں۔ تاہم ہر ہتھیار کے ماخذ اور ہر حملے کے پیچھے موجود ذمہ داری کا تعین الگ شواہد کی بنیاد پر ہونا چاہیے۔
ایران اور حوثیوں کے تعلقات کو صرف مذہبی وابستگی کے تناظر میں دیکھنا کافی نہیں۔ یہ تعلق مشرقِ وسطیٰ میں طاقت کے توازن، سعودی عرب اور ایران کی رقابت، امریکہ و اسرائیل کے ساتھ کشیدگی اور بحیرۂ احمر کے اہم تجارتی راستوں سے بھی جڑا ہوا ہے۔ ایران کی معاونت کے شواہد اہم ہیں، لیکن حوثیوں کے اپنے سیاسی اور عسکری مقاصد بھی موجود ہیں۔ یہی پیچیدگی اس تنازعے کو مزید مشکل بناتی ہے۔
بین الاقوامی برادری کے سامنے بنیادی چیلنج یہ ہے کہ محض فضائی حملوں یا دفاعی کارروائیوں سے اس مسئلے کا مستقل حل ممکن نہیں۔ جب تک اسلحے کی غیر قانونی ترسیل، مالی معاونت، تکنیکی نیٹ ورکس اور جنگ کے بنیادی اسباب پر مؤثر کارروائی نہیں ہوتی، مسلح گروہوں کی حملہ کرنے کی صلاحیت برقرار رہ سکتی ہے۔ اسی لیے اقوامِ متحدہ، بڑی عالمی طاقتوں اور علاقائی ممالک کو نگرانی، انٹیلی جنس تعاون اور سفارتی کوششوں کو مزید مؤثر بنانا ہوگا۔
سعودی عرب کی سلامتی صرف سعودی عرب کا مسئلہ نہیں؛ یہ عالمی شہری تحفظ اور علاقائی امن کا معاملہ ہے۔ شہری ہوائی اڈوں، عام شہریوں اور بین الاقوامی زائرین کی جانوں کو خطرے میں ڈالنے والے حملوں کی روک تھام ضروری ہے۔ حرمین شریفین کا تقدس اپنی جگہ، لیکن شہریوں کی جان اور شہری تنصیبات کا تحفظ بین الاقوامی اصولوں کے تحت ہر ملک کی ذمہ داری ہے۔
میرا تجزیہ یہ ہے کہ مشرقِ وسطیٰ کو مزید میزائلوں، ڈرونز اور پراکسی جنگوں کی نہیں، بلکہ ذمہ دارانہ سفارت کاری، قابلِ تصدیق اسلحہ کنٹرول اور سیاسی سمجھوتوں کی ضرورت ہے۔ ایران سمیت تمام متعلقہ فریقوں کو چاہیے کہ وہ ایسے اقدامات کریں جن سے حملوں کا سلسلہ رکے، یمن کے عوام کو جنگ سے نجات ملے اور سعودی عرب سمیت پورے خطے میں پائیدار امن قائم ہو۔
دنیا کو اب اس سوال کا جواب تلاش کرنا ہوگا کہ اسلحے کی رسد روکنے اور شہریوں کی جانیں محفوظ بنانے کے لیے عملی اقدامات کب مؤثر ہوں گے۔ کیونکہ جنگ جاری رکھنے کی قیمت صرف حکومتیں نہیں، بلکہ عام شہری، معصوم خاندان اور آنے والی نسلیں بھی ادا کرتی ہیں۔





