بدھ، 28 اکتوبر، 2026
Baaghi TV Logo
ٹرینڈنگ

آغاز، تحریر:دانیال حسن چغتائی

نقطہ نظر
danial hassan

ناصر نے اپنی موٹر سائیکل کا ہینڈل موڑا اور سڑک کنارے چھوٹی سی دکان کے سامنے رک گیا، جہاں بورڈ پر دھندلے الفاظ میں لکھا تھا: نورانی بک ڈپو اینڈ بائنڈنگ ہاؤس۔

دکان میں بیٹھا شخص، حاجی ضیاء، اپنی عینک کو ناک پر ٹکائے پرانے کتابچے کو سلائی کر رہا تھا۔ ناصر کو دیکھ کر اس کے چہرے پر مسکراہٹ ابھری۔

آج بڑی دیر کر دی ناصر میاں! ڈائجسٹ کی اگلی قسط کا مسودہ مکمل نہیں ہوا کیا؟ حاجی ضیاء نے دھاگے کو قینچی سے کاٹتے ہوئے پوچھا۔

ناصر نے گہرا سانس لیا اور سٹول پر بیٹھ گیا۔

مسودہ تو مکمل ہو گیا ہے چچا... بلکہ اب تو ایسا لگتا ہے کہ زندگی بھی کسی طویل مسودے کی طرح ہے، جس میں سے کاٹ چھانٹ کرتے کرتے اصل کہانی کہیں کھو جاتی ہے، ناصر نے دھیمی آواز میں کہا۔

حاجی ضیاء نے کام روک دیا، اپنی عینک اتاری اور میز پر رکھ کر ناصر کی آنکھوں میں جھانکنے لگے۔ وہ دونوں ایک طویل عرصے سے ایک دوسرے کے دکھ سکھ کے رازدان تھے۔ ناصر کی زندگی کھلی کتاب کی طرح تھی، جس کے ہر ورق پر قربانی کی تحریر درج تھی۔

کیا بات ہے؟ آج پھر پرانی یادیں دل کا دروازہ کھٹکھٹا رہی ہیں؟ حاجی ضیاء نے نرمی سے پوچھا۔

ناصر نے نظریں جھکا لیں اور باہر سڑک پر دوڑتی ٹریفک کے شور کو سننے لگا۔ اس کے ذہن میں وہ سارے مناظر فلم کی طرح گھوم گئے جو اس نے چپ چاپ گزارے تھے۔

چچا! کبھی کبھی سوچتا ہوں کہ ہم جتنا جینا چاہتے ہیں، زندگی ہمیں اتنا ہی کاٹتی چلی جاتی ہے۔ ہمیں بہت سی خواہشات سے دستبردار ہونا پڑتا ہے... کتنی ہی ایسی چاہتیں ہوتی ہیں جن کا گلا ہم خود اپنے ہاتھوں سے گھونٹ دیتے ہیں تاکہ کسی دوسرے کا گھر نہ اجڑے، کسی اور کی خوشی ماند نہ پڑے۔

ناصر کی آواز میں لرزش تھی مگر اس نے فوراً ہی خود کو سنبھالا۔ وہ انمٹ سچائیاں جو اس کے اندر طوفان اٹھا رہی تھیں، انہیں الفاظ کا جامہ پہنانا اب اس کی ضرورت بن چکا تھا۔

آپ کو یاد ہے نا، جب میں نے کالج کے زمانے میں فکشن رائٹنگ کا پہلا باقاعدہ مقابلہ جیتا تھا؟ میرا خواب تھا کہ ایک دن اپنا مستقل رسالہ نکالوں، اپنے نام کا سٹوڈیو ہو، جہاں بیٹھ کر دنیا کے شور سے بے نیاز ہو کر کہانیاں لکھوں۔ لیکن جب گھر کے حالات کا بوجھ میرے کُندھوں پر پڑا، تو انہی خوابوں کو میں نے اپنی ہی آنکھوں میں دفن کر دیا۔ ڈائجسٹ کے لیے نام بدل کر لکھنا، اخبارات کے لیے کالم تیار کرنا... یہ سب کچھ کرتے کرتے کب جوانی ڈھل گئی، پتہ ہی نہیں چلا۔

حاجی ضیاء نے خاموشی سے چائے کا ایک کپ بڑھایا۔ ناصر نے کپ تھام لیا، مگر اس کی انگلیاں کانپ رہی تھیں۔

وہ جگہیں، چچا... جہاں انسان کی کوئی جگہ نہیں ہوتی، وہاں خود کو زبردستی فٹ کرنے کی کوشش کس قدر اذیت ناک ہوتی ہے! رشتے داروں کی محفلیں ہوں یا وہ لوگ جو اب ترقی کی اس دوڑ میں بہت آگے نکل چکے ہیں، جہاں میری حیثیت تماشائی کی ہے... وہاں سے خود کو کھینچ کر نکالنا پڑتا ہے۔ اپنے ہی پیروں میں بیڑیاں ڈال کر گھسٹنا پڑتا ہے۔

وقت جیسے تھم سا گیا تھا۔ ناصر نے چائے کی چسکی بھری اور تلخ مسکراہٹ کے ساتھ بولا:

سب سے مشکل مرحلہ تب آتا ہے جب دل رو رہا ہو، اندر طوفان برپا ہو، مگر باہر دنیا کے سامنے مسکرانا پڑتا ہے۔ لوگ سوال کرتے ہیں کہ ناصر میاں آپ کی کہانیوں میں اتنی اداس کیوں ہے؟ تو جواب میں خواہ مخواہ اونچی آواز میں قہقہے لگانے پڑتے ہیں، خود کو زندہ اور مطمئن ثابت کرنا پڑتا ہے۔ جھوٹی مسکانوں کا یہ نقاب چہرے پر سچ مچ چپک سا گیا ہے۔ تب کہیں جا کر یہ زندگی گزرتی ہے... بس گزرتی ہے، جی نہیں جاتی!

حاجی ضیاء نے گہرا سانس لیا، ان کے بوڑھے ہاتھوں نے ناصر کے کندھے کو تھپتھپایا۔ ان کی آنکھوں میں سمجھ بوجھ تھی جو زندگی کے کڑے امتحانات سے گزر کر حاصل ہوتی ہے۔

بیٹا ناصر! حاجی ضیاء نے پرسکون آواز میں کہا، "تمھیں کیا لگتا ہے کہ یہ جو تم نے خواب آنکھوں میں دفن کیے ہیں، یہ ضائع ہو گئے ہیں؟ ہرگز نہیں۔ جو پھل زمین کے اندر بیج بن کر دفن ہوتا ہے، وہی تو آگے چل کر گھنے درخت کی صورت میں ظاہر ہوتا ہے۔ تمھاری یہ اداسی، یہ قربانیاں، یہ خاموشی... یہ سب رائیگاں نہیں جا رہی۔

ناصر نے حیرت سے بزرگ کی طرف دیکھا۔

تم جن کہانیوں کو لکھتے ہو، جن کرداروں کے دکھ کاغذ پر اتارتے ہو، وہ فرضی لوگ تھوڑی ہیں؟ وہ تم خود ہو، اور تم جیسے ہزاروں وہ انسان ہیں جو روزانہ جیتے جی مرتے ہیں اور پھر بھی صبح اٹھ کر کام پر نکل جاتے ہیں۔ تم نے اپنے خوابوں کو دفن کر کے دوسروں کے لیے امید کے چراغ جلائے ہیں۔

حاجی ضیاء کی ان باتوں نے ناصر کے دل پر پڑی تہوں کو جیسے ذرا سا ہلا دیا۔ اس نے باہر دیکھا جہاں کالا آسمان تاروں سے جگمگا رہا تھا۔ اتنے میں اس کے موبائل پر ایک میسج کی گھنٹی بجی۔ اس نے سکرین پر دیکھا۔ وہ اسی ادبی ادارے کا میسج تھا جہاں اس نے اپنی نئی کہانیاں بھیجی تھیں۔ پیغام میں لکھا تھا: ناصر صاحب! آپ کی کہانی کو قارئین کی طرف سے اس مہینے کی بہترین تحریر قرار دیا گیا ہے۔ ہزاروں لوگوں نے اس میں اپنا عکس دیکھا ہے۔

ناصر کا دل ایک لمحے کے لیے زور سے دھڑکا۔ اس کی آنکھوں میں جو نمی ابھری تھی، وہ اب افسوس کی نہیں بلکہ اطمینان کی تھی۔ اس نے محسوس کیا کہ اس کی قربانیاں، اس کے اندر دفن خواب اور اس کی خاموش تنہائی بے کار نہیں گئی تھی۔ اس نے دنیا کے سامنے جو قہقہے لگائے تھے، شاید وہیں سے کسی کو جینے کا حوصلہ بھی ملا تھا۔

اس نے چائے کا خالی کپ میز پر رکھا، بریف کیس کو اٹھایا، اور حاجی ضیاء کی طرف دیکھ کر ایک بار پھر مسکرا دیا۔ اس بار یہ مسکان جھوٹی نہیں تھی، بلکہ اس میں تسکین نفس شامل تھی۔

چلتا ہوں چچا! اگلی قسط کا وقت ہو گیا ہے، ناصر نے کہا اور باہر اندھیرے میں اپنی موٹر سائیکل کی طرف بڑھ گیا۔

کونے تک پہنچتے پہنچتے اس کے قدموں میں اعتماد آ چکا تھا۔ اسے معلوم تھا کہ زندگی گزارنے کے اس کٹھن سفر میں بے شمار خواہشیں ادھوری رہ جاتی ہیں، بہت سے راستے بند ہو جاتے ہیں، لیکن جب تک دل میں درد کو محسوس کرنے کی صلاحیت باقی ہے، تب تک کہانی ختم نہیں ہوتی، یہ تو نئے باب کا آغاز ہوتی ہے۔