آؤ پنڈی کی سیر کریں،تحریر:ندیم یعقوب گوہر
نقطہ نظر
(یوم سیاحت پر خصوصی تحریر)
اگر آپ کسی خوش فہمی میں راولپنڈی کو پیرس یا استنبول سمجھ کر سیر و تفریح کی نیت سے نکل پڑے ہیں، تو سب سے پہلے اپنی جیب میں سر درد کی گولیاں اور دل کی دھڑکن قابو میں رکھنے کا بندوبست ضرور کر لیں۔ یہ شہر دنیا کا واحد ایسا پررونق میلہ ہے جہاں اسلام آباد کا نفاست پسند اور خاموش شہری صرف تب ہی قدم دھرتا ہے جب اس نے باڑہ بازار سے سستا سامان سمیٹنا ہو، لنڈے بازار میں سستے جیکٹ کی تلاش کرنی ہو یا کرتار پورہ کی نہاری کے سرخ تیل میں غوطہ لگا کر اپنے معدے کا امتحان لینا ہو۔ جونہی آپ فیض آباد کے پل سے نیچے اترتے ہیں، اسلام آباد کا سنسان سناٹا ایسے اڑن چھو ہوتا ہے جیسے ادھار مانگنے کے بعد کوئی پرانا دوست نظروں سے غائب ہو جائے۔ مری روڈ پر قدم رکھتے ہی کان پھاڑ ہارنوں کا ایسا طوفان استقبال کرتا ہے کہ بندہ چونک ہی جائے، اور اسی شور کے بیچ ہمارے "پنڈی بوائز" اپنی موٹر سائیکلوں کو دو پہیوں کے بجائے صرف پچھلے ایک پہیے پر اڑانے کے کرتب دکھاتے ملتے ہیں۔ ان نوجوانوں کی بائیک چلانے کی پھرتی اور ہوا میں اڑتی زلفیں دیکھ کر راولپنڈی ایکسپریس یعنی شعیب اختر کو بھی یقین آ جائے کہ اصل رفتار گیند کرانے میں نہیں بلکہ ٹریفک وارڈن کی آنکھوں میں دھول جھونک کر پتلی گلی سے نکلنے میں تھی۔
سیاح کے لیے راولپنڈی کا سب سے انوکھا تماشا تاریخی یادگاروں سے کہیں زیادہ یہاں ہر دوسرے موڑ اور نکڑ پر کھلی ہوئی وہ لاتعداد یونیورسٹیاں ہیں جنہیں گننے بیٹھیں تو ہاتھوں کی انگلیاں گھس جائیں اور پاؤں کے انگوٹھے بھی کم پڑ جائیں مگر اداروں کے رنگ برنگے بورڈ ختم ہونے کا نام نہ لیں۔ ڈگریوں کی ان بڑی بڑی فیکٹریوں سے ہر سال نوجوانوں کے ایسے لشکر برآمد ہوتے ہیں جن کے خواب آسمان کے چاند ستاروں پر جال پھینکنے کو تیار رہتے ہیں۔ مگر جونہی وہ کانووکیشن کے کالے چوغے اور کلف لگی ڈگریاں ہاتھوں میں تھامے سڑک پر اترتے ہیں تو پتہ چلتا ہے کہ زمین پر نوکری نامی پرندے کی نسل ہی ختم ہو چکی ہے۔ اب وہ ہاتھوں کی لکیروں کے بجائے آسمانوں اور کہکشاؤں میں نوکریاں تلاش کرتے نظر آتے ہیں، جہاں چاند تو شاید کبھی ہاتھ آ جائے مگر بیس پچیس ہزار کی کوئی چھوٹی موٹی نوکری ملنا بھی کسی معجزے سے کم نہیں لگتا۔ دنیا بھر کے سیاح پرانے کھنڈرات دیکھنے سفر کرتے ہیں، لیکن پنڈی میں تو چائے کے ہوٹلوں پر سی وی کی بھاری فائل کو سر کے نیچے رکھ کر خرگوش کی نیند سوئے ہوئے یہ ہونہار ڈگری ہولڈرز خود ایک دیکھنے لائق منظر ہیں، جنہیں نہ تو راجہ بازار کا شدید ٹریفک جام جگا سکتا ہے اور نہ ہی نالہ لئی کے پرانے قصے ان کے خوابوں میں خلل ڈال سکتے ہیں۔
تعلیم کے اس سمندر سے بچ کر اگر آپ پنڈی کی تاریخی بھول بھلیوں یعنی راجہ بازار کا رخ کریں تو سیاحت کے سارے نقشے فیل ہو جاتے ہیں۔ اگر آپ نے کسی مقامی بھائی سے سیدھا راستہ پوچھ لیا تو وہ پورے پیار سے کہے گا کہ بھائی جی بس سیدھے چلے جاؤ، آگے سے مڑنا نہیں، لیکن دو قدم چلتے ہی آپ ایسی تنگ اور ٹیڑھی گلیوں میں پھنس جائیں گے جہاں دوپہر کے وقت بھی سورج کی روشنی راستہ تلاش کرتی پھرتی ہے۔ راجہ بازار وہ جادوئی جگہ ہے جہاں بندہ گھر سے صرف دو جوڑے موزے خریدنے نکلتا ہے مگر تین گھنٹے بعد کندھے پر لحاف اور بغل میں پرانا لیپ ٹاپ دبائے پسینے میں نہایا ہوا باہر برآمد ہوتا ہے۔ اسی بازار کے ہنگامے کے درمیان جب لال حویلی کی پرانی سرخ اینٹوں پر نظر پڑتی ہے تو یوں لگتا ہے جیسے شیخ رشید صاحب کے دھواں دار بیانات کی تپش ان دیواروں میں آج بھی محفوظ ہے۔ اس عمارت کو دیکھ کر بندے کو ہر وقت یہی وہم رہتا ہے کہ ابھی کسی کھڑکی سے دھواں چھوڑتے سگار کے ساتھ ملکی سیاست کا کوئی نیا شوشہ برآمد ہونے والا ہے۔
شہر کی دھکم پیل سے تھک کر اگر آپ لیاقت باغ کی گھاس پر دم لینے بیٹھیں تو وہاں قدم رکھتے ہی تاریخ کے بوجھ سے زیادہ یہ فکر دامن گیر ہو جاتی ہے کہ کہیں اچانک کوئی سیاسی جلسہ نہ شروع ہو جائے اور آپ پکنک مناتے مناتے خواہ مخواہ نعرے بازی کا حصہ نہ بن جائیں۔ اسی علاقے سے نکل کر جب آپ چھاؤنی کی کشادہ شاہراہ پر واقع جی ایچ کیو کی طرف بڑھتے ہیں تو ماحول یکدم بدل جاتا ہے۔ یہ وہ پرسکون اور بارعب حصہ ہے جہاں مری روڈ کے بے قابو پنڈی بوائز کی بائیک کا سائلنسر بھی سہم کر بالکل خاموش ہو جاتا ہے۔ سفید گیٹ پر کلف لگی وردی اور چمکتے جوتوں میں کھڑے چاک و چوبند سنتری کے چہرے کے سنجیدہ تاثرات دیکھ کر لگتا ہے کہ دنیا کا سب سے بڑا مسئلہ کوئی اور نہیں بس سیدھی قطار اور ڈسپلن ہے۔ یہاں تو پرندے بھی ایک لائن میں اڑتے ہیں اور ہوا بھی باقاعدہ سلام ٹھوک کر گزرتی ہے۔
دن بھر کی اس دوڑ دھوپ کے بعد شام کو جب پیٹ میں چوہے دوڑنے لگیں تو بندہ سیدھا کرتار پورہ کی فوڈ اسٹریٹ کا رخ کرتا ہے۔ وہاں کے دیگچوں میں ابلتے ہوئے سری پائے، مغز اور نلی والی نہاری پر تیرتا ہوا سرخ لال روغن دیکھ کر صحت کے تمام اصول اور پرہیز ایک طرف دھرے رہ جاتے ہیں۔ ہر نوالے پر یہی لگتا ہے کہ چاہے رگیں تیل سے بند ہی کیوں نہ ہو جائیں، روح تو کم از کم خوش ہو کر ہی نکلے گی۔ البتہ ان چٹپٹے اور بھاری کھانوں کا مزہ لینے کے بعد اگلی صبح جب معدہ ہڑتال کر دیتا ہے تو پھر دوائیوں کی تلاش میں ڈاکٹروں اور کلینکوں کے چکر لگانے پڑتے ہیں اور بندہ پیٹ پکڑ کر ایک ہسپتال سے دوسرے ہسپتال کے چکر کاٹتا دکھائی دیتا ہے۔ واپسی پر جب آپ نالہ لئی کے پل سے گزرتے ہیں، جس کے بارے میں پرانے لوگ قسمیں کھا کر کہتے تھے کہ کبھی اس سے سونا نکلتا تھا، تو انسان مسکرا کر یہی سوچتا ہے کہ راولپنڈی محض عمارتوں کا نام نہیں بلکہ سیاست، نہاری، چکر کاٹتے مریضوں اور خواب خرگوش میں گم نوجوانوں کا ایسا زندہ دل تماشا ہے جسے دیکھ کر انسان یا تو اس کا پکا فین ہو جاتا ہے یا پھر اگلی موٹر سائیکل کی ٹکر سے بچنے پر اوپر والے کا لاکھ لاکھ شکر ادا کرتا ہے۔
مزید پڑھیں




