منگل، 27 اکتوبر، 2026
Baaghi TV Logo
ٹرینڈنگ

ایک انکار، ایک جنازہ اور انسانیت کے ضمیر پر لگا ہوا سوال، تحریر:انیم چوہدری

نقطہ نظر

کبھی کبھی ایک خبر محض خبر نہیں ہوتی؛ وہ پورے معاشرے کے چہرے سے شرافت کا نقاب نوچ کر اس کے اندر چھپی ہوئی سفاکی دنیا کے سامنے رکھ دیتی ہے۔ گوجرانوالہ میں صبا طفیل کے قتل کی خبر بھی ایسا ہی ایک دل دہلا دینے والا سانحہ ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق، شادی کے بعد پیش آنے والے اس واقعے نے ایک بار پھر یہ سوال اٹھا دیا ہے کہ آخر ہمارے معاشرے میں عورت کی مرضی، اس کی آزادی اور اس کے انکار کو کب ایک انسان کا جائز حق تسلیم کیا جائے گا؟

ایک لڑکی، جس نے ابھی نئی زندگی کی دہلیز پر قدم رکھا تھا، جس کے ہاتھوں کی مہندی شاید ابھی پوری طرح اتری بھی نہ تھی، جس کے دل میں اپنے مستقبل کے لیے کتنے ہی خواب روشن ہوں گے، اچانک موت کی تاریکی میں گم ہو گئی۔ وہ خواب جو ایک گھر کی بنیاد بن سکتے تھے، وہ امیدیں جو زندگی کو خوب صورت بناتی ہیں، اور وہ دعائیں جو ایک ماں اپنی بیٹی کے لیے مانگتی ہے، سب ایک ایسے سانحے کے سامنے بے بس دکھائی دیتے ہیں جس کا تصور بھی روح کو لرزا دیتا ہے۔

کسی بیٹی کے رخصت ہونے پر ماں باپ کے گھر میں اداسی ضرور اترتی ہے، مگر اس اداسی کے ساتھ ایک تسلی بھی ہوتی ہے کہ ان کی بیٹی ایک نئے گھر میں اپنی زندگی کا سفر شروع کر رہی ہے۔ لیکن جب وہی بیٹی زندگی کی ابتدا ہی میں موت کے حوالے ہو جائے تو والدین کے لیے دنیا کا ہر راستہ ویران ہو جاتا ہے۔ گھر کی دہلیز، جہاں کبھی اس کے قدموں کی آہٹ گونجتی تھی، اس کی ہنسی، اس کی باتیں اور اس کی موجودگی، سب یادوں میں تبدیل ہو جاتے ہیں۔ کچھ دکھ ایسے ہوتے ہیں جنہیں الفاظ بیان تو کر سکتے ہیں، مگر ان کا بوجھ محسوس نہیں کر سکتے۔

اس سانحے کا سب سے خوف ناک پہلو صرف ایک عورت کی موت نہیں، بلکہ وہ سوچ ہے جو کسی انسان کو یہ حق جتانے پر آمادہ کرتی ہے کہ اگر اسے کسی کی محبت، رفاقت یا رضامندی نہ ملے تو وہ اس کی زندگی ہی چھین لے۔ محبت کبھی جبر کا نام نہیں ہو سکتی۔ پسندیدگی کسی پر ملکیت کا دعویٰ نہیں بن جاتی، اور انکار کسی کی عزتِ نفس پر حملہ نہیں، بلکہ انسان کے بنیادی اختیار کا اظہار ہے۔

کسی عورت کا انکار کسی مرد کی توہین نہیں؛ اس کی مرضی کا احترام نہ کرنا اصل توہین ہے۔

ہم اکثر اپنی گفتگو میں غیرت، عزت، محبت اور رشتوں کے بڑے بڑے دعوے کرتے ہیں، مگر سوال یہ ہے کہ کیا غیرت کسی کی جان لینے کا نام ہے؟ کیا محبت کسی کو خوف زدہ کرنے، اس کی آزادی سلب کرنے یا اس کے وجود کو مٹا دینے کا جواز فراہم کرتی ہے؟ اگر جواب نفی میں ہے تو پھر ہمیں ان رویّوں کے خلاف خاموشی توڑنی ہوگی جو انکار کو دشمنی اور عورت کی خودمختاری کو اپنی انا کے لیے خطرہ سمجھتے ہیں۔

اسلام نے انسانی جان کو حرمت عطا کی ہے اور ظلم سے روکا ہے۔ قرآنِ مجید میں ارشاد ہے:

ترجمہ: ’’اور اس جان کو قتل نہ کرو جسے اللہ نے حرام قرار دیا ہے، مگر حق کے ساتھ۔‘‘

— سورۃ الإسراء، آیت 33

یہ محض ایک آیت نہیں، انسانی زندگی کی حرمت کا واضح اعلان ہے۔ کسی کی پسند، ناپسند یا انکار کو اپنی انا کا مسئلہ بنا کر اس کی جان لے لینا نہ محبت ہے، نہ غیرت، نہ بہادری۔ یہ ظلم ہے، اور ظلم کو کسی خوب صورت نام سے پکارنے سے اس کی حقیقت نہیں بدلتی۔

لیکن اس مقام پر ایک اور سوال بھی ہمارے سامنے کھڑا ہے: ایسے سانحات کے بعد ہمارا معاشرہ کیا کرتا ہے؟ چند روز افسوس، سوشل میڈیا پر غصے سے بھری تحریریں، مذمتی بیانات اور پھر خاموشی۔ وقت گزرنے کے ساتھ نئی خبر پرانی خبر کو ڈھانپ لیتی ہے، مگر متاثرہ خاندان کے لیے وہ دن کبھی پرانا نہیں ہوتا۔ ایک ماں کے لیے اپنی بیٹی کی جدائی کوئی وقتی موضوع نہیں؛ یہ عمر بھر کا زخم ہے۔ ایک باپ کے لیے اپنی اولاد کی میت کو کندھا دینا ایسا دکھ ہے جس کی شدت کسی خبر کی سرخی میں پوری طرح سمٹ نہیں سکتی۔

ہمیں یہ بھی سمجھنا ہوگا کہ عورتوں کے خلاف تشدد صرف کسی ایک فرد کی ذہنیت کا مسئلہ نہیں رہتا، جب معاشرے میں دھمکیوں کو معمولی سمجھا جائے، ہراسانی کو نظرانداز کیا جائے، اور کسی کی مرضی کے خلاف اصرار کو محبت کا نام دے دیا جائے۔ ہر انکار کے بعد قتل نہیں ہوتا، لیکن ہر انکار کے حق کو تسلیم کرنا ایک محفوظ معاشرے کی بنیادی شرط ہے۔ کسی کو دھمکانا، تعاقب کرنا یا اس کی زندگی کو خوف میں مبتلا کرنا قابلِ قبول رویہ نہیں۔ ایسے معاملات میں خاندان، تعلیمی اداروں، سماجی حلقوں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو سنجیدگی سے اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔

حکومت اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی ذمہ داری ہے کہ ایسے واقعات کی غیر جانب دارانہ تحقیقات ہوں، ذمہ دار افراد کو شواہد اور قانونی تقاضوں کے مطابق انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے، اور متاثرہ خاندان کو تحفظ اور انصاف کی فراہمی یقینی بنائی جائے۔ قانون کی مضبوطی صرف سزا کے اعلان سے نہیں، بلکہ اس وقت ثابت ہوتی ہے جب خطرے کی ابتدائی علامات کو سنجیدگی سے لیا جائے، شکایات پر کارروائی ہو اور کسی بااثر یا کمزور شخص کے لیے انصاف کے معیار الگ نہ ہوں۔

تاہم تبدیلی صرف قانون سے نہیں آئے گی۔ اس کے لیے گھروں میں تربیت، تعلیمی اداروں میں احترامِ انسانیت کی تعلیم، اور معاشرے میں ایسی سوچ کی حوصلہ شکنی بھی ضروری ہے جو مردانگی کو اختیار جتانے اور عورت کی خاموشی کو فرمانبرداری سمجھتی ہے۔ بیٹوں کو یہ سکھانا ہوگا کہ انکار سننا بھی کردار کی مضبوطی ہے؛ بیٹیوں کو یہ اعتماد دینا ہوگا کہ ان کی مرضی اور سلامتی اہم ہیں؛ اور ہر فرد کو یہ سمجھنا ہوگا کہ عزت مانگی نہیں، اپنے کردار سے کمائی جاتی ہے۔

صبا طفیل کے قتل سے متعلق الزامات کی حتمی حقیقت تحقیقات اور عدالتی کارروائی سے سامنے آئے گی، لیکن اس واقعے نے جو بنیادی سوال ہمارے سامنے رکھا ہے، اس سے نظریں نہیں چرائی جا سکتیں: کیا ہمارے معاشرے میں ایک عورت کو اپنی زندگی کے فیصلے کرنے اور اپنی مرضی ظاہر کرنے کا حق محفوظ ہے؟ اگر ہم اس سوال کا جواب صرف تعزیتی الفاظ میں دیں گے تو ہم ایک اور سانحے کے لیے اپنی اجتماعی بے حسی کو زندہ رکھیں گے۔

ایک جنازہ اٹھتا ہے تو صرف ایک جسم زمین کے سپرد نہیں ہوتا؛ اس کے ساتھ ایک خاندان کی دنیا، بے شمار امیدیں اور مستقبل کے کئی خواب بھی دفن ہو جاتے ہیں۔ مگر معاشرے کی اصل آزمائش اس وقت شروع ہوتی ہے جب جنازہ واپس قبرستان میں رہ جاتا ہے اور زندہ لوگ اپنے معمولات کی طرف لوٹ جاتے ہیں۔ کیا ہم اس واقعے سے کوئی سبق سیکھیں گے، یا چند دن بعد اسے بھی بھلا دیں گے؟

صبا طفیل کے لیے انصاف کا مطالبہ صرف ایک خاندان کا مطالبہ نہیں ہونا چاہیے۔ یہ ہر اس عورت کے تحفظ کا سوال ہے جو اپنی مرضی سے جینا چاہتی ہے، ہر اس والدین کے اطمینان کا سوال ہے جو اپنی بیٹی کو محفوظ دیکھنا چاہتے ہیں، اور ہر اس معاشرے کے ضمیر کا امتحان ہے جو خود کو مہذب کہتا ہے۔

یاد رکھیے، انکار کسی کی زندگی ختم کرنے کا جواز نہیں، بلکہ دوسرے انسان کی مرضی کا احترام کرنے کا موقع ہے۔ جس معاشرے میں عورت کا انکار اس کی جان کے لیے خطرہ بن جائے، وہاں صرف ایک مجرم نہیں، ہمارے اجتماعی رویّوں کو بھی کٹہرے میں کھڑا ہونا چاہیے۔

کیونکہ انسانیت کا اصل معیار یہ نہیں کہ ہم کسی کی موت پر کتنے آنسو بہاتے ہیں؛ اصل معیار یہ ہے کہ ہم زندہ انسانوں کے حقِ زندگی، حقِ انتخاب اور عزت کی حفاظت کے لیے کیا کرتے ہیں۔