ڈگریوں کے انبار اور عملی میدان کا المیہ،تحریر:پیر انتظار حسین مصور
نقطہ نظر
ہمارے معاشرے کا سب سے بڑا روگ یہ ہے کہ ہم نے علم کو ہنر، شعور اور تخلیق سے توڑ کر اسے محض چند کاغذ کے ٹکڑوں کی دوڑ بنا ڈالا ہے۔ بچپن ہی سے بچے کے ہاتھ میں پینسل کی کوملتا چھین کر رٹے کے بوجھ سے لدی کتابیں تھما دی جاتی ہیں۔ پھر بیس پچیس سال اسی چکی میں پسنے کے بعد جب وہ ہاتھ میں فریم شدہ ڈگریاں اٹھائے عملی دنیا کے میدان میں اترتا ہے، تو اسے پتہ چلتا ہے کہ اس کی ان اسناد کی مارکیٹ میں دھلے ٹکے کی اوقات نہیں۔
ماں باپ اپنی زندگی کی پوری جمع پونجی، ماتھے کا پسینہ اور آنکھوں کے ان گنت ارمان اس آس پر قربان کر دیتے ہیں کہ بیٹا یا بیٹی سند لے کر آئے گی تو کسمپرسی کے یہ دن سکھ میں بدل جائیں گے۔ مگر کوئی یہ سوچنے کی زحمت ہی نہیں کرتا کہ جس تعلیمی نظام کی بنیاد ہی رٹے اور نقل پر رکھی گئی ہو، وہ معاشرے کو فکری اور معاشی طور پر کیسے سنوار سکتا ہے؟ ہمارے ادارے تو ایسے بے کار کارخانے بن چکے ہیں جو ایسی ڈگریاں اگل رہے ہیں جو بند کمرے کے اے سی دفاتر کے سوا کہیں کام نہیں آتیں، جبکہ باہر سڑکوں پر عملی زندگی کا میدان سینہ تانے کھڑا ہوتا ہے۔
پھر انجام کیا ہوتا ہے؟ بے روزگاری، مایوسی کا دلدل اور اس کے بعد شارٹ کٹ کی وہ اندھی دوڑ جس کا انجام تباہی کے سوا کچھ نہیں۔
جب نوجوان یہ دیکھتا ہے کہ سالوں کی مشقت اور لاکھوں روپے پھونکنے کے بعد بھی اس کے ہاتھ خالی ہیں، تو معاشرہ اس پر طعنوں کی بارش شروع کر دیتا ہے۔ یار دوست اسے شارٹ کٹ اپنانے کا درس دیتے ہیں، اور سوشل میڈیا کا یہ مصنوعی شور اسے راتوں رات امیر بننے کے جھوٹے سراب دکھاتا ہے۔ وہ نوجوان جو اپنے بازوؤں کی طاقت سے کچھ کرنے کا جوہر رکھتا تھا، اب سفارش کی پرچیوں اور نوکری کے اشتہاروں کے آگے ہاتھ پھیلانے پر مجبور ہو جاتا ہے۔ آہستہ آہستہ اس کا اندرونی توازن ٹوٹ جاتا ہے اور اس کی تمام تر تخلیقی صلاحیتیں دم توڑ جاتی ہیں۔
تلخ سچائی تو یہ ہے کہ ہم نے ہنر کو طعنہ اور محض سفید پوش بابو گری کو عزت سمجھنے کی گھناؤنی غلطی کی ہے۔ دنیا کا کوئی بھی کونہ اٹھا کر دیکھ لیں؛ قومیں کاغذ کے ڈھیروں سے نہیں، بلکہ ہنر مند ہاتھوں اور بیدار مغز ذہنوں سے ابھرتی ہیں۔ جس قوم نے اپنے بچوں کو ہنر سے کاٹ کر انہیں صرف غلامی کی پٹی پڑھانی شروع کر دی، اس کا زوال تاریخ کا مقدر بن جاتا ہے۔
اب بھی وقت ہے کہ اس فرسودہ اور غلامانہ سوچ کو دفن کر دیا جائے۔ یہ ڈگریوں کے انبار انسان کے پیٹ کی آگ نہیں بجھا سکتے۔ کاغذ کی سند تو پانی کے ایک چھینٹے یا وقت کے ایک جھونکے سے مٹ سکتی ہے، مگر ہاتھ کا ہنر اور خود اپنے بل بوتے پر جینے کی صلاحیت انسان کو دنیا کے کسی کونے میں بھوکا نہیں مرنے دیتی۔
اے میرے دیس کے نوجوان! اندھے کنویں میں ڈگریاں پھینکنے کے بجائے اب بھی اپنے اندر چھپے کسی ہنر کو پہچان۔ کسی کی غلامی یا سرکاری نوکری کے منتظر بیٹھنے سے بہتر ہے کہ اپنے ہی بازوؤں کے زور پر کوئی نیا راستہ نکال لے، کیونکہ اپنی محنت سے جلائی گئی مٹی کی وہ چھوٹی سی دیا سلائی بھی ان ادھار کی بڑی بڑی چمکدار لائٹوں سے کہیں زیادہ دیرپا اور سچی روشنی دیتی ہے جو ذرا سی آندھی میں بجھ جایا کرتی ہیں۔
مزید پڑھیں





