عورت آخر کیا چاہتی ہے ؟تحریر : فاطمہ زہراء
نقطہ نظرسوشل میڈیا پر گردش کرتے بے شمار تبصروں کو پڑھنے کے بعد آج قلم اٹھانے کو جی چاہا۔ آج کل ایک سیریل غیر معمولی مقبولیت حاصل کیے ہوئے ہے، جس میں ابوبکر نامی کردار نے گویا ایک نئی بحث کو جنم دے دیا ہے۔ یہ کردار میری پسندیدہ قلم کار کی تخلیق ہے، سو خیال آیا کہ کیوں نہ اس کردار کے حوالے سے اٹھنے والے سوالات اور ان پر ہونے والے تبصروں کو موضوعِ سخن بنایا جائے۔
عجیب بات ہے کہ اس کردار کے حق اور مخالفت میں لکھے جانے والے تبصروں کے باوجود ایک سوال تقریباً ہر ذہن میں مشترک ہے کیا ابوبکر جیسے مرد حقیقت کی دنیا میں بھی پائے جاتے ہیں، یا ان کا وجود فقط افسانوں، ناولوں اور ڈراموں کی حد تک محدود ہے؟
کوئی اسے مثالی مرد کا استعارہ قرار دیتا ہے، کوئی اسے محض تخیل کی حسین اختراع سمجھتا ہے، اور کسی کے نزدیک ایسا کردار حقیقی زندگی کے زمینی حقائق سے یکسر بیگانہ ہے۔ میرے خیال میں بہت سی لڑکیاں اس کردار میں اپنے خوابوں کی تعبیر تلاش کرتی ہوں گی جب کہ زندگی کی تلخیوں سے آشنا بعض خواتین کے نزدیک یہ محض ایک خوش نما تصور ہے، جس کا حقیقت سے کوئی خاص تعلق نہیں۔
میں ان کے تجربات کی نفی نہیں کرتی نہ ہی ان کے مشاہدات کو یکسر رد کرنے کا ارادہ رکھتی ہوں تاہم میرے ذہن میں ایک سوال بار بار سر اٹھاتا ہے
کیا ایک اچھا انسان ہونا واقعی اس قدر دشوار ہو چکا ہے؟ کہ شرافت، خلوص اور حسنِ سلوک کی حامل شخصیت ہمیں حقیقت کے بجائے افسانے میں زیادہ قابلِ یقین محسوس ہوتی ہے؟ کیا عورت کو عزت و تکریم دینے والا مرد اس معاشرے میں اس قدر نایاب ہو گیا ہے کہ اس کا تصور بھی لوگوں کو غیر حقیقی معلوم ہونے لگا ہے؟
زمانہ بدلتا رہا نسلیں بدلتی رہیں، ترجیحات اور طرزِ زندگی میں تغیر آتا رہامگر عورت کے دل کی بعض بنیادی آرزوئیں آج بھی اپنی جگہ قائم ہیں وہ انیس سو نوے کی دہائی سے تعلق رکھتی ہو یا دو ہزار چھبیس کی جدید دنیا سے اس کی قلبی تمناؤں میں ایک قدرِ مشترک ضرور موجود ہے وہ ایک ایسے مرد کی متلاشی ہوتی ہے جس کے پاس محبت کے اظہار کے ساتھ ساتھ محبت نبھانے کا ہنر بھی ہو جس کے لہجے میں وقار، رویّے میں خلوص مزاج میں وسعتِ ظرف اور کردار میں استقامت ہو۔
وہ ایسا مرد چاہتی ہے جو اس کے ماضی کو اس کے خلاف فردِ جرم نہ بنائے، اس کی لغزشوں کو رسوائی کا وسیلہ نہ بنائے، اس کے کمزور لمحات کو طعن و تشنیع کا موضوع نہ ٹھہرائے بلکہ جب زمانے کی سختیاں اسے شکستہ و ریختہ کر دیں، جب وہ اپنے ہی وجود کے ملبے تلے دبی ہوئی محسوس ہو، تو اس کا ہاتھ تھام کر اسے پھر سے سمیٹ لے۔
وہ ایسا رفیق چاہتی ہے جو اس کی خاموشی کو ہمیشہ غرور، اس کے غصے کو ہمیشہ نفرت اور اس کی بے بسی کو ہمیشہ کمزوری سے تعبیر نہ کرے، بلکہ اس کے ظاہری رویّوں کے پسِ پردہ پنہاں اضطراب، تھکن اور اذیت کو سمجھنے کی سعی کرے۔
وہ ایسا مرد چاہتی ہے جس کے نزدیک ہر اختلاف انا کی جنگ نہ ہو، ہر خاموشی جدائی کا پیش خیمہ نہ ہو اور ہر ناراضی رشتے سے دست بردار ہو جانے کا جواز نہ بنے۔ جو روٹھ جانے کو اپنی برتری اور منانے کو اپنی توہین نہ سمجھے؛ جو محبت میں پہل کرنے کو شکست نہیں، بلکہ رشتے کو بچانے کی دانش مندی سمجھے۔
وہ ایسا شریکِ حیات چاہتی ہے جس کے نزدیک ذمہ داری کوئی بارِ گراں نہیں، بلکہ محبت کا فطری تقاضا ہو؛ جس کے لیے عورت کی ضروریات پوری کرنا احسان نہ ہو، اس کی دل جوئی کرنا زحمت نہ ہو اور اس کی عزتِ نفس کا تحفظ کوئی غیر معمولی کارنامہ نہ ہو۔
اب سوال یہ ہے کہ ان تمام خواہشات میں آخر ناممکن کیا ہے؟
کیا وفاداری کوئی ایسی نایاب صفت ہے جس تک رسائی صرف افسانوی کرداروں کو حاصل ہو؟ کیا نرم خوئی، تحمل اور درگزر انسانی فطرت سے ماورا اوصاف ہیں؟ کیا کسی کی خطاؤں سے چشم پوشی کرنا، اس کی عزتِ نفس کا لحاظ رکھنا اور اس کے ابتلا و آزمائش کے ایام میں اس کے شانہ بشانہ کھڑے رہنا ایسا دشوار مرحلہ ہے جسے طے کرنا عام انسان کے بس سے باہر ہو؟
اور سب سے بڑھ کر، کیا ہمارا دین ہمیں حسنِ معاشرت، عدل، رحمت اور عورتوں کے ساتھ بھلائی کی تعلیم نہیں دیتا؟
اسلام نے عورت کے ساتھ حسنِ سلوک کو محض ایک سماجی پسند یا شخصی مہربانی نہیں ٹھہرایا، بلکہ اسے اچھے کردار اور صالح طرزِ عمل کا حصہ قرار دیا ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا:
”تم میں سب سے بہتر وہ ہے جو اپنے گھر والوں کے لیے بہتر ہو۔“
(جامع ترمذی، حدیث 3895)
پھر آخر ہم نے ایک بااخلاق، باوقار، ذمہ دار اور عورت کی عزت کرنے والے مرد کے تصور کو اس قدر نادر کیوں بنا دیا ہے کہ جب کوئی کردار ان اوصاف کا مظاہرہ کرتا ہے تو لوگ بے ساختہ کہہ اٹھتے ہیں: ایسے مرد تو صرف ڈراموں میں ہوتے ہیں!
بلاشبہ حقیقی زندگی کسی ڈرامے کا مرتب کردہ منظرنامہ نہیں۔ یہاں کردار کامل نہیں ہوتے، رشتے ہمیشہ ہموار نہیں رہتے اور محبت ہر آزمائش میں خوش نما مکالموں کا سہارا نہیں لے سکتی۔ حقیقی رشتوں کو نبھانے کے لیے جذبات سے کہیں بڑھ کر شعور، برداشت، ایثار، ذمہ داری اور مسلسل اصلاحِ ذات درکار ہوتی ہے۔
مگر کیا انسان کی نامکمل فطرت کو بدسلوکی کا جواز بنا دینا درست ہے؟ کیا خامیوں کا حامل ہونا اس امر کی دلیل ہے کہ انسان اپنے رویّوں کو بہتر بنانے کی کوشش ہی ترک کر دے؟ کیا اختلافِ مزاج کا مطلب یہ ہے کہ ایک دوسرے کی عزتِ نفس مجروح کرنا معمول سمجھ لیا جائے؟
ہرگز نہیں!
ہر مرد ابوبکر جیسا نہیں ہو سکتا، لیکن ہر مرد اپنے کردار میں بہتری پیدا کرنے کی سعی تو کر سکتا ہے۔ ہر شخص بے عیب نہیں ہو سکتا، لیکن اپنی غلطی تسلیم کرنے، اپنے رویّے کی ذمہ داری اٹھانے اور اپنے شریکِ حیات کے لیے ایک بہتر انسان بننے کا ارادہ تو کر سکتا ہے۔
کیونکہ عورت کی آرزو کسی افسانوی شہزادے کی جستجو نہیں؛ وہ تو فقط ایسا رفیق چاہتی ہے جس کے ساتھ زندگی گزارتے ہوئے اسے اپنی عزتِ نفس کی حفاظت کے لیے ہر روز معرکہ آرائی نہ کرنا پڑے، جس کے سامنے اپنے دکھوں کو ثابت کرنے کے لیے دلائل نہ دینے پڑیں اور جس کی محبت میں اسے اپنی ذات کی نفی نہ کرنی پڑے۔
شاید یہی وجہ ہے کہ ابوبکر جیسے کردار محض پسند نہیں کیے جاتے، بلکہ ان سے وابستہ امیدوں کو بھی غیر معمولی پذیرائی ملتی ہے۔ لوگ ان کرداروں میں صرف ایک مثالی مرد نہیں دیکھتے، بلکہ اس رویّے کی جھلک تلاش کرتے ہیں جس کی آرزو ان کے دلوں میں مدتوں سے پنہاں ہوتی ہے۔
شاید یہ کردار ہمیں اس بات کی یاد دہانی کراتے ہیں کہ محبت کا اصل حسن اختیار جتانے میں نہیں، اعتماد دینے میں ہے؛ کسی کو اپنے تابع رکھنے میں نہیں، اسے عزت دینے میں ہے؛ اور کسی کی کمزوری سے فائدہ اٹھانے میں نہیں، اس کے کمزور ترین لمحوں میں اس کا سہارا بننے میں ہے۔
جو لوگ یہ کہتے ہیں کہ ابوبکر جیسے کردار فقط ڈراموں، افسانوں اور ناولوں ہی کا حصہ ہوتے ہیں، حقیقت میں ایسے مرد کہیں نہیں پائے جاتے، اُن سے میرا سوال ہے کہ آخر اس میں ایسی کون سی انوکھی بات ہے جسے دیکھ کر حیرت زدہ ہوا جائے؟ ابوبکر جیسے کردار کوئی ایسے سرخاب کے پر نہیں کہ جن کا حقیقت میں وجود ہی نہ ہو۔ آج بھی اچھے گھرانوں میں ایسے مرد موجود ہیں جو عورت کی عزت کرنا، اُس کے جذبات کو سمجھنا اور اُسے محبت و احترام دینا جانتے ہیں زمدار بھی ہیں انکی تربیت ہی ایسے کی گئ کہ وہ عورت کو اسکا مقام دینا جانتے ہیں
کیا آپ نے رسول اللہ ﷺ کی حیاتِ طیبہ کا مطالعہ نہیں کیا، جس میں عورت کے ساتھ شفقت، احترام، رحمت اور حسنِ معاشرت کی ایسی روشن مثالیں موجود ہیں جو رہتی دنیا تک انسانیت کے لیے مشعلِ راہ ہیں؟
صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم اور اولیائے کرام رحمہم اللہ کی زندگیوں کا مطالعہ کیجیے، ان کے کردار و اطوار سے روشنی حاصل کیجیے۔ آپ کو معلوم ہوگا کہ عورت کی عزت کرنا، اس کے ساتھ نرمی سے پیش آنا، اس کے حقوق کا تحفظ کرنا اور اس کے جذبات کا لحاظ رکھنا کسی افسانوی کردار کی اختراع نہیں، بلکہ ہماری دینی تعلیمات کا روشن حصہ ہے۔
رسول اللہ ﷺ کی زندگی ہمیں یہ درس دیتی ہے کہ انسان کی عظمت اس کے اختیار، قوت یا رعب و دبدبے میں نہیں، بلکہ اس کے اخلاق، رحم دلی اور حسنِ سلوک میں پوشیدہ ہے۔ عورت کے ساتھ عزت و احترام کا معاملہ کرنا کسی مرد کی کمزوری نہیں، بلکہ اس کے حسنِ کردار کی دلیل ہے۔
پھر ہم کیوں ایسے کردار کو محض افسانوی تصور سمجھ کر رد کر دیتے ہیں جس کی بنیادی خوبیاں ہماری اپنی دینی تعلیمات میں موجود ہیں؟ کیوں ہمیں ڈراموں میں ایک بااخلاق مرد دیکھ کر حیرت ہوتی ہے، مگر اپنے دین کی تعلیمات میں موجود حسنِ کردار کے ان روشن نمونوں پر غور کرنے کی توفیق نہیں ہوتی؟
ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم دین کو محض پڑھیں نہیں، بلکہ سمجھیں بھی؛ اس کی تعلیمات کو صرف زبان سے بیان نہ کریں، بلکہ اپنے کردار میں بھی اتاریں۔ جب ہم سیرتِ نبوی ﷺ، صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم اور صالحین کی زندگیوں کا مطالعہ شعور و بصیرت کے ساتھ کریں گے، تو ہمیں احساس ہوگا کہ عورت کو عزت دینا، اس کے ساتھ محبت و شفقت سے پیش آنا، اس کی دل آزاری سے بچنا اور اس کے حقوق ادا کرنا کسی ڈرامہ نگار کے تخیل کی پیداوار نہیں، بلکہ ایک بہترین انسان اور باکردار مرد کی حقیقی علامات ہیں۔
ابوبکر جیسے کرداروں کو افسانوی کہہ کر رد کرنے سے پہلے ہمیں اپنے دین کی ان تعلیمات کو سمجھنا چاہیے جو ہمیں بتاتی ہیں کہ ایک بہترین مرد کی پہچان اس کا اختیار نہیں، اس کا کردار ہے؛ اس کی سخت گیری نہیں، اس کا ظرف ہے اور اس کی زبان سے ادا ہونے والے محبت کے دعوے نہیں، بلکہ اس کے عمل سے ظاہر ہونے والا حسنِ سلوک ہے۔
کیونکہ بعض اوقات جس کردار کو ہم افسانہ سمجھ رہے ہوتے ہیں، اس کے اوصاف ہمارے اپنے دین کی تعلیمات میں پہلے ہی سے موجود ہوتے ہیں؛ بس ہمیں ان تعلیمات کو سمجھنے اور اپنی زندگیوں میں نافذ کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔
شاید یہیں آ کر ایک اور سوال جنم لیتا ہے، جو برسوں سے عورت کے وجود کے ساتھ نتھی کر دیا گیا ہے آخر عورت چاہتی کیا ہے؟
یہ سوال کبھی طنز کے پیرائے میں اٹھایا جاتا ہے، کبھی الجھن کے انداز میں اور کبھی اس تاثر کے ساتھ کہ عورت کی خواہشات کا کوئی اختتام ہی نہیں۔ گویا اس کے دل کی آرزوئیں سمجھنا کوئی سربستہ راز ہو، اس کے جذبات کا احترام کرنا کوئی پیچیدہ فلسفہ ہو اور اس کے حقوق تسلیم کرنا کوئی دشوار ترین مرحلہ ہو۔
مگر میں اس سوال کے جواب میں صرف اتنا کہنا چاہوں گی کہ عورت کوئی ایسی شے نہیں مانگتی جس کا حصول ناممکن ہو، نہ ہی اس کی آرزوؤں کا تعلق کسی افسانوی دنیا سے ہے۔
وہ تو فقط اپنے وہ حقوق چاہتی ہے جو شریعت نے اسے عطا کیے ہیں وہ عزت چاہتی ہے، وقار چاہتی ہے، محبت چاہتی ہے، ذہنی سکون چاہتی ہے، وفاداری اور اعتماد چاہتی ہے۔
وہ ایسا رشتہ چاہتی ہے جہاں اس کی ذات کو بوجھ نہیں، نعمت سمجھا جائے؛ جہاں اس کی آواز کو اہمیت دی جائے، اس کے جذبات کی قدر کی جائے اور اس کی عزتِ نفس کو محبت کی بھینٹ نہ چڑھایا جائے۔ جہاں اس کے حقوق کا خیال رکھنا احسان نہ سمجھا جائے اور جہاں اسے اپنے جائز مطالبات کے لیے بار بار دستِ سوال دراز نہ کرنا پڑے۔
مگر افسوس کہ آج بعض مردوں کے لیے عورت کو یہ سب دینا گویا ایک دشوار ترین مرحلہ بن چکا ہے۔ وہ اس سے محبت تو چاہتے ہیں، مگر اس کے جذبات کی ذمہ داری اٹھانے سے گریزاں رہتے ہیں؛ اس کی وفاداری تو چاہتے ہیں، مگر اسے اعتماد دینے میں تنگ دلی کا مظاہرہ کرتے ہیں؛ اس کی رفاقت تو چاہتے ہیں، مگر اس کے ذہنی سکون کا خیال رکھنا ضروری نہیں سمجھتے۔
وہ عورت کو اپنی زندگی میں شامل تو کرنا چاہتے ہیں، مگر اس کے احساسات کو اپنی ترجیحات میں جگہ دینے سے کتراتے ہیں۔ اس سے بے لوث محبت کی توقع تو رکھتے ہیں، مگر خود اپنی انا کے حصار سے باہر نکلنے پر آمادہ نہیں ہوتے۔
حالاں کہ عورت کی خواہشات کوئی سربستہ راز نہیں، نہ ہی اس کے دل کو سمجھنے کے لیے کسی فلسفیانہ موشگافی کی ضرورت ہے۔ بس شرط یہ ہے کہ اسے سمجھنے کی خواہش ہو، اسے عزت دینے کا ظرف ہو اور اس کے حقوق تسلیم کرنے کا حوصلہ ہو۔
یہ سمجھنا بھی ضروری ہے کہ عورت کسی کامل انسان کی طلب گار نہیں۔ وہ جانتی ہے کہ انسان خطا کا پتلا ہے، رشتوں میں اختلافات جنم لیتے ہیں اور زندگی ہمیشہ ایک ہی ڈگر پر نہیں چلتی۔ وہ یہ مطالبہ نہیں کرتی کہ اس کا شریکِ حیات کبھی غلطی نہ کرے وہ تو فقط یہ چاہتی ہے کہ غلطی کے بعد احساسِ ندامت بھی ہو، اختلاف کے بعد احترام بھی باقی رہے اور ناراضی کے باوجود محبت اپنی جگہ قائم رہے۔
وہ بے عیب مرد نہیں، باکردار مرد چاہتی ہے؛ بے خطا انسان نہیں، اپنی خطا تسلیم کرنے والا انسان چاہتی ہے؛ اور محض محبت کے دعوے نہیں، اپنے عمل سے محبت کا یقین دلانے والا رفیق چاہتی ہے۔
اب تو یہ بات سب کو سمجھ آ جانی چاہیے کہ عورت آخر چاہتی کیا ہے؛ وہ کسی افسانوی شہزادے کی منتظر نہیں، بلکہ ایک ایسے انسان کی خواہش مند ہے جس کے کردار میں خلوص، رویّے میں احترام، محبت میں وفاداری اور رشتے میں ذمہ داری اور خیر خواہی ہو
کیونکہ عورت کو سمجھنا مشکل نہیں، مشکل صرف یہ ہے کہ بعض لوگ اسے وہ حق دینے پر آمادہ نہیں ہوتے جس کی وہ بجا طور پر حق دار ہے۔
اور اگر عزت، خلوص، تحفظ اور حسنِ معاشرت کی خواہش کو غیر حقیقی خواب قرار دیا جانے لگا ہے، تو شاید ہمیں عورت کی خواہشات پر سوال اٹھانے سے پہلے اپنے معاشرتی رویّوں کا محاسبہ کرنا چاہیے۔
کسی عورت کا یہ چاہنا کہ اس کے ساتھ محبت کے ساتھ عزت بھی کی جائے، اس کے زخموں پر نمک چھڑکنے کے بجائے مرہم رکھا جائے اور اس کے کمزور لمحوں میں اسے تنہا نہ چھوڑا جائے، کوئی غیر معمولی مطالبہ نہیں۔
یہ تو فقط ایک مہذب رشتے کی بنیادی ضرورت ہے
دین نے ہمیں حسنِ سلوک سکھایا ہے، سیرتِ نبوی ﷺ نے ہمیں اس کا عملی نمونہ دکھایا ہے اور تاریخ نے ہمیں ایسے باکردار انسانوں کی مثالیں دی ہیں جن کی زندگیاں آج بھی ہمارے لیے مشعلِ راہ ہیں۔ ضرورت صرف اس بات کی ہے کہ ہم ان تعلیمات کو اپنی زندگیوں میں جگہ دیں۔
بعض کردار افسانوں میں تخلیق ہوتے ہیں، مگر بعض سوالات ہماری حقیقت کا چہرہ بے نقاب کر دیتے ہیں۔ اور شاید اب وقت آ گیا ہے کہ ہم ان سوالات سے نظریں چرانے کے بجائے اپنے کردار کا محاسبہ کریں۔
مزید پڑھیں





