عورت: درد کی داستان ،تحریر:روبینہ یوسف
نقطہ نظر
میری آنکھوں کے سامنے ہولناک اندھیرا ہے۔ وحشت سے دل پھٹا جا رہا ہے ۔میری دل دوز چیخیں ہیں اور مجھ پر جو مٹی کا ڈھیر گر رہا ہے، اس کا وزن اتنا زیادہ بہرحال نہیں جتنا بوجھ میری روح پر میرے اپنوں کے ہاتھوں گرا ہے۔ کچھ دیر کے بعد میری قبر تیار ہو جائے گی۔ اس پر تا قیامت یہ مٹی گریہ کرے گی یا مجھے اپنی کوکھ میں رکھ کر سینچنے والا میرے ہی جیسا ایک وجود۔۔۔۔ کیونکہ میں ایک بیٹی ہوں ایک ان چاہا وجود ہوں ۔
مجھے چاروں طرف سے گھیرا جا چکا ہے۔ تنو مند ہٹے کٹے ہاتھوں نے مضبوطی سے گرفت میں لے رکھا ہے تاکہ میں کہیں بھاگ نہ جاؤں۔ تھوڑی دیر کے بعد میری اجتماعی آبرو ریزی کی جائے گی۔ بڑی بڑی پگڑیوں والوں نے یہ فیصلہ کیا ہے کیونکہ میں نے پسند کی شادی کا جرم کیا ہے۔
زمانہ رسم و رواج، کائنات کے حقیر ترین ذرات سے لے کر قدرت کے عظیم ترین راز سب جیت چکے ہیں کیونکہ مجھے کوئ بھی بچانے نہیں آیا۔۔ ہار میرا مقدر ہے! میں ایک عورت ہوں ۔
مجھ پر تھپڑ، گھونسے اور لاتےں برس رہی ہیں کیونکہ میرا بھائی مخالف قبیلے کی ایک لڑکی کو بھگا کر لے گیا ہے ۔پنچائیت کا انصاف پورا ہو چکا۔ میں ایک کھلے میدان میں بے لباس، بے آبرو پڑی ہوں۔ میری عزت میرے بھائی کے جرم کا قصاص بن چکی ہے ۔جی ہاں نام نہاد غیرت کے نام پر کالے دھبوں نے اپنی ناک کو جھکنے نہیں دیا اور مجھے پامال کر دیا
بھرا دربار ہے۔ میں ناچ رہی ہوں۔ آبرو کے رکھوالے مجھ پر نوٹ برسا رہے ہیں۔ میں اپنے غلیظ ترین وجود کے ساتھ انہیں محبوب ترین لگ رہی ہوں کیونکہ ان کی حیوانی جبلت کو تسکین دے رہی ہوں اور یہاں بھی میں ایک عورت ہوں ۔۔
یہ ایک سر ترین رات ہے صبح مجھے پیر صاحب کی "گھوڑی" بنانے کی رسم بڑے تزک و احتشام سے منائی جائے گی ۔میں وہ خوش "قسمت ترین ہستی" ہوں جس کو پیر صاحب نے خود اپنے لیے منتخب کیا ہے ۔
اس سعادت کے بعد مجھے ساری عمر تعویذ دھاگے اور لوگوں کے دکھوں کو دور کرنے کے دم کا "اذن" مل جائے گا
میں بنت حوا ہوں۔ ہابیل کا نام میرے ساتھی کے طور پر منتخب ہو چکا اور قابیل زبردستی مجھے اپنانا چاہتا ہے۔ دونوں کے درمیان کشمکش جاری ہے۔ بالآخر قابیل جیت گیا
اس نے ہابیل کو قتل کر دیا اور مجھے لے کر دور پہاڑوں میں بھاگ آیا ہے ۔بے بسی ،بے مائیگی کیا ہے؟ میں نہیں جانتی مگر مجھے چپ رہنا ہے کیونکہ میں ایک عورت ہوں ...
میں نے ابھی کچھ دیر پہلے ایک پیاری سی پری جیسی بیٹی کو جنم دیا ہے اور اب دائی اماں اسے مارنے کی تیاری کر رہی ہے۔
وہ اسے اوندھا کر دے گی۔ اس کی ریڑھ کی ہڈی پر پورا زور لگا کر اسے توڑ دے گی اور باہر جا کر اطلاع دے گی کہ "مری" ہوئی بچی پیدا ہوئی ہے ۔
اس سے پہلے بھی میں دو "مری" ہوئی بچیوں کو جنم دے چکی ہوں۔ میں کیوں کچھ بولوں کون میری سنے گا, کیونکہ میں عورت ہوں .
میں رو رہی ہوں منتیں کر رہی ہوں مگر میری کوئی نہیں سن رہا. میری تقدیر بھی شاید کانوں کے بغیر ہے مجھے بے ہوش کیے بغیر تیز دھار چاقو سے میرے نازک حصوں کو کاٹ کر میری ختنہ کی جا رہی ہے کیوں؟؟ تاکہ میں خاندان کی عزت پر کوئی داغ نہ لگا دوں میری شادی مجھ سے 10 سال بڑے ایک عیاش آدمی سے طے پائی ہے۔ اس کی فرمائش پر جب تک شادی نہیں ہو جاتی، مجھے پابند ناموس کیا جا رہا ہے ۔
میں مالِ غنیمت میں ہاتھ آئی ہوں۔ میری قسمت کا فیصلہ کیا جا رہا ہے ۔آخر ایک صاحب ثروت اور بااثر شخص کو خوش کرنے کے لیے مجھے اس کی طرف روانہ کر دیا جاتا ہے۔ میری کیا مجال کہ کچھ کہوں کیونکہ آپ بھولیے گا نہیں کہ میں عورت ہوں ۔۔۔۔۔
میں 12 سال کی وہ بچی ہوں جسے اس کے اپنے ہی ماموں نے اپنی ہوس کا نشانہ بنایا ہے مگر مجھ پر ہی ساری سختی کی جا رہی ہے کیونکہ میں ایک عورت ہوں ۔۔۔
میرے ساتھ کئی اور لڑکیاں بھی ہیں جو مختلف اوقات میں اپنے باپ ،چچا، بھائیوں حتٰی کہ بیٹوں کے ہاتھوں اپنی عزت تار تار کروا چکی ہیں۔
میں 14 سالہ وہ دلہن جو اپنے بوڑھے باپ کی خوشی کے لیے اسی عمر کے آدمی سے بیاہ کر جا رہی ہوں۔ میری ہونے والی سوتیلی ماں بھی میری ہی عمر کی ہے اور جائیداد کی خاطر یہ سودا کیا جا رہا ہے۔
میں ایک 15 سال کی معصوم سی لڑکی ہوں۔ کم عمری میں میری ماں کا انتقال ہو گیا تھا۔ باپ نے دوسری شادی کی۔ نئی دلہن کے چونچلوں میں وہ مجھے بھول گیا ۔موقع پا کر سوتیلی ماں کے بھائی نے میری آبرو ریزی کی اور سارا الزام مجھ پر دھر دیا۔ باپ نے گھر سے نکال دیا۔ اب میں در در کی ٹھوکریں کھاتی پھر رہی ہوں اور روٹی کے عوض اپنا جسم بیچتی ہوں ۔مجھے بتایا گیا کہ تمہیں یہ سب برداشت کرنا ہے کیونکہ تم ایک عورت ہو ۔۔۔
اج قرآن پاک سے میرا نکاح ہو گیا ہے۔ شادی تو ہر لڑکی کا ارمان ہوتا ہے ۔مجھے یہ بھی یہ خوشی نصیب ہو گئی ہے ۔سمجھ میں نہیں آرہا کہ روؤں یا ہنسوں؟ مگر یہ اطمینان ضرور ہے کہ میرا شوہر دنیاوی شوہروں کے مقابلے میں کروڑوں درجے بہتر ہے. نہ وہ مجھے دکھ دے گا نہ مجھ پر سوکن لائے گا نہ بیٹی پیدا ہونے پر جان سے مارے گا مگر دل میں درد بڑھتا جا رہا ہے نہ جانے کیوں ؟
اگ کے لپلپاتے شعلے دور سے اپنی حدت کا احساس دلا رہے ہیں۔
یہ میرے پتی کی چتا کی آگ ہے۔ مجھے زبردستی آگ میں دھکیلنے کی تیاری کی جا رہی ہے۔ میرا رونا، چلانا اور واسطے دینا ان شقی القلبوں پر کچھ بھی اثر نہیں کر رہا۔ اے میرے پتی! کاش تیری جگہ مجھے موت آ جاتی اور تجھے میری عمر لگ جاتی۔
میں ایک دلہن ہوں ایک زندہ جنازہ! مجھے میرے شوہر نے غلطی سے طلاق دے دی تھی۔ اب احساس ہونے پر زبردستی کسی اور سے میرا نکاح پڑھوانے کی تیاریاں جاری ہیں تاکہ یہ ایک "حلالہ" سارے "حرامے" کو بدل دے ۔
مختلف تہذیبوں اور مذاہب میں عورتوں کا مقام ایک متنوع اور پیچیدہ موضوع ہے۔
ہر دور میں نظریات کے اعتبار سے عورت کا کردار متنازعہ رہا ہے۔ قدیم ہندوستانی تہذیب کے ویدک دور میں عورتوں کو نسبتاً بہتر مقام حاصل تھا۔ انہیں وید پڑھنے اور تعلیم حاصل کرنے کی اجازت تھی ۔بعد کے ادوار میں ہزیمت کے غلبے کے ساتھ ان کی حیثیت کمزور ہوتی گئی۔ ستی، جہیز، بیواؤں کی دوبارہ شادی کی مخالفت جیسے رواج عام ہوئے منو سمرتی میں درج ہے عورت آزادی کی اہل نہیں ہے۔ رامائن میں سیتا کو اگنی پریکشا (اگ کا امتحان) کا امتحان دینا پڑتا ہے تاکہ اپنی پاک دامنی ثابت کرے۔ عورت کبھی بتوں کے ساتھ پوجی گئی۔ کبھی دھرم کے نام پر زندگی سے محروم ہوئی۔ اس کی آواز صدیوں تک نہ سنی گئی اور خود سوال کرنے پر پاپن کہلائی۔ دھارمک پیتریکاؤں میں عورت کو بھٹکانے والی یا کمزور فطرت کی مالک کے طور پر بھی پیش کیا گیا ہے۔
عورت کو جوئے میں ہارا جاتا ہے۔ جسمانی مشقت، جنسی عدم تحفظ، تعلیم کی کمی، پدرشاہی معاشرے کی ہمیشہ شکار رہی ہے ۔
ارسطو نے عورتوں کو "ناقص مرد" قرار دیا تھا ۔ہندو مت میں پاپ کی جڑ کہا جاتا تھا۔ چین میں عورتوں کے پاؤں باندھ کر چھوٹے رکھنے کی رسم رائج تھی جو جسمانی اذیت اور جمالیاتی ظلم کی بدترین مثال تھی۔ یہودی مکاتب فکر میں عورت کو گناہ کا ذریعہ اور آدم کے زوال کا سبب سمجھا جاتا تھا۔ بائبل کی تشریحات کے مطابق حوا کو قصوروار ٹھہرایا گیا جس کی بنیاد پر عورت کو کمتر مانا گیا۔
قرونِ وسطٰی میں عورتوں کو چڑیل قرار دے کر زندہ جلا دیا جاتا تھا۔ عورتوں کا ختنہ اور شرمگاہ پر تالا ڈالنے کی قبیح، غیر اسلامی اور وحشیانہ رسم آج بھی دنیا کے کئی قبائل میں رائج ہے۔ اس کے سب سے عدیم شواہد قدیم مصر میں ملتے ہیں جہاں فرعونک ختنہ کیا جاتا تھا ۔
آج کل کی جدید دنیا میں فرعونوں کی شکلیں بدل گئی ہیں۔ عورت پہلے جسمانی غلام تھی مگر آج وہ معاشی ،جنسی، نفسیاتی اور نظریاتی غلامی میں جکڑی گئی ہے ۔
عالمی پورن انڈسٹری کئی عرب ڈالرز کی مارکیٹ ہے جہاں لاکھوں عورتوں کو جنسی اشیاء کی طرح استعمال کیا جاتا ہے۔ دھوکے ،غربت اور دباؤ کے ذریعے لڑکیوں کو اس میں دھکیلا جاتا ہے ہر سال عصمت فروشی جبری شادی یا جنسی غلامی کے لیے عورتیں سمگل کی جاتی ہیں۔ دنیا بھر میں انسانی سمگلنگ کی شکار 70 فیصد عورتیں اور لڑکیاں ہیں۔
جدید کارپوریٹ دنیا میں عورتوں کو اکثر ترقی اور روزگار کے بدلے جنسی تعلقات کا دباؤ برداشت کرنا پڑتا ہے۔
ان کو اکثر اعلٰی عہدوں پر پہنچنے سے روکا جاتا ہے چاہے وہ قابلیت میں مردوں سے بہت بہتر ہوں۔
اجرت دینے کے معاملے میں بھی شدید ناانصافی کی جاتی ہے۔ اشتہارات اور فلموں میں عورت کو جنسی کشش کے ہتھیار کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔
عورت کو زیادہ خوبصورت ،زیادہ سمارٹ، زیادہ جنسی نظر آنے کے غیر حقیقی دباؤ میں رکھا گیا ہے جس کے باعث ذہنی بیماریاں بڑھ رہی ہیں۔ جنگوں اور تنازعات میں عورتیں ریپ اور جنسی ہتھیار کے طور پر استعمال ہوتی ہیں۔ آج کل کا سوشل میڈیا اس مخلوق کا بدترین استحصال کر رہا ہے۔
ان کی تصاویر، ویڈیوز کو بغیر اجازت عام کیا جا رہا ہے۔ آن لائن بلیک میلنگ، ٹرولنگ اور جنسی دھمکیاں عام ہیں ۔
انسٹاگرام اور دیگر پلیٹ فارمز پر عورت کو لائکس اور فالوورز کی بھوک میں خود نمائی کی نفسیاتی غلامی میں جھونک دیا گیا ہے ۔
غور طلب بات یہ ہے کہ مردوں کے جرائم کی پردہ پوشی کی جاتی ہے۔ ان کا وجود اگر باعث ننگ و عار بھی ہوگا تو انہیں بچانے کے لیے خاندانی حمیت و غیرت پانی بھرنے چلی جاتی ہے۔ بے تحاشہ روپیہ خرچ کر کے تعلقات کو بروئے کار لا کر ان کو بچا لیا جاتا ہے جبکہ بیٹیوں سے کوئی غلطی ہو جائے تو اسے شدید ترین نفرت
کا نشانہ بنا کر گھر بدر کر دیا جاتا ہے۔کسمپرسی کی موت کے نتیجے میں اس کی میت کی سرپرستی بھی کوئی قبول نہیں کرتا۔
خود کو اسلام کے پیروکار بڑے تفاخر سے دور جہالت کی بدترین رسموں کو آج بھی اپنائے ہوئے ہیں۔
اسلام کی تعلیمات ان کے جوتے کی نوک پر ہے۔ طاغوتی طاقتوں کے آلۂ کار اپنی بہن بیٹیوں کے ساتھ یہ سب کرنے والے ننگِ دین ننگِ ملت، ننگِ
قوم ہیں۔ کاش کبھی زندہ دفن کی گئی بیٹیوں کے بھی کے لیے بھی ملک گیر دھرنا دیا جائے ۔ننھی ننھی بچیوں کی آبرو ریزی کے خلاف کراچی سے خیبر تک ہاتھوں میں ہاتھ ڈالے ایک ہجومِ بے کراں نظر آۓ ۔ کاش حرف دعا سے مظلوموں کا مقدر بدل جائے۔ سب سے بڑی ستم ظریفی تو یہ ہے کہ عورتوں کی حفاظت کے لیے اگر قوانین بنائے بھی گئے ہیں تو ان پر عمل درآمد تو دور کی بات ہے، فریاد رسی کے لیے عدالتوں تک عورتوں کی رسائی بھی نہیں ہونے دی جاتی۔ اس شقاوت کو مٹانے کے لیے ملکی سطح پر بڑے اقدامات کرنے ہوں گے۔ جب عورت انتقام یا بدلے کا نشانہ بنتی ہے تو وہ کسی کی ماں، بہن، بیوی اور بیٹی نہیں رہتی صرف عورت بن جاتی ہے۔ ایسی مخلوق جس کے سائے سے بھی بھاگنا چاہیے۔ غم ۔۔۔نہیں!!
دکھ۔۔ درد۔۔۔ نہیں!! اذیت و بے مائیگی۔۔۔ نہیں!! توہین ۔۔۔۔بےعزتی۔۔۔۔ شرمندگی۔۔۔۔ ندامت۔۔۔ نہیں۔۔۔ نہیں!! پستی... بدنامی... ہزیمت ....نہیں... نہیں!! ناموس پر کالا دھبہ؟ نہیں!! ہرگز نہیں.... کائنات کی لغت میں میری توہین و اہانت کو بیان کرنے والے الفاظ ہی نہیں ہیں۔
میں اپیل کرتی ہوں کہ میری روح کی پامالی بیان کرنے کے لیے نئے معنی و مفاہیم والی لغت ترتیب دی جائے جو کہ غیرت مند اور حقیقی معنوں میں معزز افراد ترتیب دیں شاید کہ میرا مقدر بدل جائے۔
بنت حوا کے بارے میں اسلامی تعلیمات اور فرامین قرانِ کسی کو یاد نہیں ہیں۔
ذہنی طور پر ہم تاریک ترین دور سے گزر رہے ہیں ۔چراغ کون جلائے گا؟؟، منبر پر بیٹھا خطیب اور وعظ کرنے والا واعظ۔۔۔ سب کے الفاظ بے اثر ہو چکے ہیں۔
اٹھ جائیے جاگ جائیے ایسا نہ ہو کہ وقت گہری نیند سو جائے۔
مزید پڑھیں



