ہفتہ، 31 اکتوبر، 2026
Baaghi TV Logo
ٹرینڈنگ

عورت کا اصل تحفظ،​تحریر: ردا فاطمہ اعوان

نقطہ نظر

​عورت کے لیے دنیا کی سب سے محفوظ پناہ گاہ ہمیشہ اس کے باپ کا گھر ہوتا ہے۔ وہ دائرہ جہاں وہ بغیر کسی خوف کے سانس لے سکتی ہے، جہاں اس کی خاموشی کو بھی سمجھا جاتا ہے ، جہاں اس کے چہرے کی معمولی سی اداسی بھی سوال بن کر ابھرتی ہے اور جہاں اس کی چھوٹی موٹی لغزشوں کو محبت کی نرم چادر میں چھپا لیا جاتا ہے۔ باپ کا گھر محض سیمٹ،اینٹوں اور دیواروں کا نام نہیں، بلکہ یہ ایک ایسا مضبوط حصار ہے جہاں عورت کو اپنی موجودگی کا جواز یا ثبوت نہیں دینا پڑتا۔ وہ جیسی بھی ہو، وہاں اس کے وجود کے لیے ہمیشہ ایک پرسکون جگہ موجود رہتی ہے۔

​مگر ہماری معاشرتی روایات میں عورت کی زندگی کا ایک اہم اور فیصلہ کن موڑ نکاح کو ٹھہرایا جاتا ہے۔ اسے یہ باور کرایا جاتا ہے کہ اب اس کی منزل بدل رہی ہے، اب اسے ایک نیا تحفظ ملنے جا رہا ہے، اور اب کوئی ایسا ہے جو اس کا نگہبان ہوگا۔ وہ بھی ان حسین خوابوں کو آنکھوں میں سجائے ایک نئے سفر پر گامزن ہو جاتی ہے۔ اپنے والدین، بہن بھائیوں، بچپن کی مہکتی یادوں اور مانوس ماحول کو خیرباد کہہ کر ایک نئے گھر میں قدم رکھتی ہے جہاں ہر چہرہ اور ہر رشتہ اس کے لیے اجنبی ہوتا ہے۔ وہ اپنے ساتھ صرف چند سامان کے صندوق نہیں لاتی، بلکہ اپنی امیدیں، بے لوث محبتیں، پاکیزہ اعتماد اور ایک خوبصورت مستقبل کے خواب بھی لے کر آتی ہے۔

​مگر سوال یہ ہے کہ کیا ہر عورت کو نکاح کے بعد وہ حقیقی تحفظ میسر آتا ہے جس کا یقین اسے دلایا گیا تھا؟

​حقیقت اس کے برعکس ہے۔ بہت سی عورتوں کے لیے ازدواجی زندگی راحت کے بجائے ایک طویل اور کٹھن آزمائش بن جاتی ہے۔ اسے ہر موڑ پر خود کو درست اور بے خطا ثابت کرنا پڑتا ہے۔ کبھی اپنوں کے رویّوں کا خوف، کبھی کسی کی بے بنیاد ناراضی کا اندیشہ، کبھی رشتوں کی کچی ڈور میں غلط فہمیوں کا وسوسہ اور کبھی طلاق کی لٹکتی ہوئی تلوار اس کے ذہنی سکون کو ریزہ ریزہ کر دیتی ہے۔ اسے یہ اندیشہ بھی گھیرے رکھتا ہے کہ کہیں کوئی اس کے خلاف زہر نہ گھول دے، کہیں کسی تیسرے شخص کی مداخلت اس کے گھر میں دراڑ نہ ڈال دے، اور کہیں برسوں کا اعتماد چند لمحوں کی بدگمانی کی نذر نہ ہو جائے۔

​یہ کیسا نام نہاد تحفظ ہے جہاں عورت کو اپنے وجود، اپنے کردار اور اپنی وفاداری کی صفائیاں دینی پڑیں؟

​ازدواجی رشتہ محض ایک چھت کے نیچے اکٹھے رہنے کا نام نہیں، بلکہ یہ دو روحوں کے مابین باہمی اعتماد، احترام، تحمل اور احساس کا مقدس بندھن ہے۔ اگر اس رشتے میں عورت کو اپنی آواز بلند کرنے کا حق حاصل نہ ہو، اگر اس کی خاموشی کو اس کی مجبوری یا کمزوری سمجھ لیا جائے، اگر اس کے جذبات کی کوئی وقعت نہ ہو اور اگر ہر معمولی اختلاف پر رشتہ توڑنے کی دھمکیاں دی جائیں، تو پھر وہ چاہے کتنے ہی عالیشان گھر میں کیوں نہ ہو، خود کو بے گھر ہی محسوس کرتی ہے۔

​محبت صرف خوبصورت جملے بولنے کا نام نہیں ہے۔ محبت تو وہ شفا بخش احساس ہے جو انسان کو دوسرے انسان کے لیے جائے پناہ بنا دیتا ہے۔ اعتبار وہ بیش قیمت دولت ہے جو رشتوں کو عمر بھر کا استحکام دیتی ہے اور تحفظ وہ گھنی چھاؤں ہے جس میں انسان بلا کسی خوف کے اپنی زندگی کے دن پورے کر سکے۔ مگر المیہ یہ ہے کہ یہ تینوں نعمتیں صرف نصیب والیوں کے حصے میں آتی ہیں۔ ہر مرد محافظ نہیں ہوتا نہ ہر عورت اتنی خوش قسمت ہوتی کہ اسے ایسا شریکِ حیات ملے جو اس کی عزتِ نفس، خوداری اور جذبات کی حفاظت کا ہنر جانتا ہو۔

​ہمارے معاشرے کا ایک اور المیہ اور عجیب تضاد بھی قابلِ غور ہے۔ بیٹی جب تک باپ کی دہلیز پر ہوتی ہے، اس کی ذرا سی تکلیف پر پورا گھر بے چین ہو جاتا ہے۔ اس کی پیشانی کا بل بھی والدین کو رات بھر سونے نہیں دیتا۔ لیکن جب وہی بیٹی بیاہ کر دوسرے گھر سدھار جاتی ہے، تو معاشرہ اسے طعنے اور درس دینا شروع کر دیتا ہے کہ اب تمہارا اوڑھنا بچھونا یہی ہے، ہر زیادتی اور تکلیف پر خاموش رہنا سیکھو، کیونکہ رشتے صرف برداشت سے نبھائے جاتے ہیں۔ کوئی یہ عقل کی بات نہیں کرتا کہ برداشت کی بھی ایک آخری حد ہوتی ہے اور ہر خاموشی رضامندی کی سند نہیں ہوتی۔

​عورت بھی گوشت پوست کی ایک انسان ہے۔ اس کے بھی اپنے خواب ہیں، تمنائیں ہیں، دل کی دھڑکنیں ہیں اور ایک غیرت مند عزتِ نفس ہے۔ اسے بھی پورا حق حاصل ہے کہ وہ اپنے گھر میں اطمینان سے سانس لے، اپنی رائے کا اظہار کرے، اپنی پسند و ناپسند کھل کر بیان کرے اور کسی بھی فکری اختلاف کی صورت میں ڈرانے دھمکانے کے بجائے دلائل اور مکالمے کا موقع پائے۔ نکاح عورت کو اس کے بنیادی انسانی حقوق سے محروم کرنے کا پروانہ نہیں، بلکہ باہمی حقوق تسلیم کرنے اور زندگی کا بوجھ بانٹنے کا عہد ہے۔

​بیٹی چاہے عمر کے کسی بھی پڑاؤ پر ہو، بوڑھی ہو یا جوان، باپ کے گھر میں اس کے لیے محبت، عزت اور احترام کی جگہ ہمیشہ کشادہ رہنی چاہیے۔ اگر زندگی کے کسی موڑ پر وہ تھک ہار جائے، اگر اس کے نئے رشتے اسے سکون دینے کے بجائے اذیت کے کوڑے برسائیں، تو اس کے والدین کے گھر کے دروازے اس پر بند نہیں ہونے چاہئیں۔ اسے یہ احساسِِ آہنی ملنا چاہیے کہ اس کی پشت پر اب بھی ایک مضبوط دیوار موجود ہے جہاں اس کی فریاد سنی جائے گی اور جہاں اس کی عزتِ نفس کو حرفِ آخر مانا جائے گا۔

​عورت عموماً رشتے بناتے بناتے، سنوارتے اور نبھاتے نبھاتے خود کو ہی فراموش کر دیتی ہے۔ کبھی بیٹی، کبھی بہن، کبھی شفیق بیوی اور کبھی قربان ہوتی ماں بن کر وہ سب کے لیے جیتی چلی جاتی ہے، مگر اس طویل اور تھکا دینے والے سفر میں کوئی اس سے یہ نہیں پوچھتا کہ "تم اندر سے کیسی ہو؟" "تمہیں کس چیز کی ضرورت ہے؟" یا "تمہارے دل کی اتھاہ گہرائیوں میں کیا طوفان اٹھ رہے ہیں؟"

​آج ضرورت اس تلخ حقیقت کو سمجھنے کی ہے کہ ہم عورت کے تحفظ کو محض ایک مرد، ایک گھر یا ایک شادی شدہ رشتے تک محدود نہ کریں، بلکہ اسے اس کا بنیادی اور پیدائشی حق تسلیم کریں۔ ہمیں ایک ایسا باشعور معاشرہ تشکیل دینا ہوگا جہاں عورت رخصت ہوتے وقت اس خوف میں مبتلا نہ ہو کہ اب واپسی کے تمام راستے ہمیشہ کے لیے مسمار ہو چکے ہیں۔ جہاں نکاح اس کے لیے قید خانہ نہ بنے بلکہ ایک پرسکون رفاقت ثابت ہو، اور جہاں شوہر صرف زبانی دعویدار نہ ہو بلکہ اپنے عملی رویّے سے تحفظ کی ضمانت بنے۔

​یاد رکھیے! بیٹی کی رخصتی کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ باپ کے گھر سے اس کا رشتہ اور اس کی ملکیت ہمیشہ کے لیے ختم ہو گئی۔ وہ آج بھی اسی گھر کا مان اور اسی آنگن کی شہزادی ہے، اور اسے زندگی کے کسی بھی مرحلے پر اپنے اصل گھر لوٹنے کے لیے کسی کی اجازت یا جواز کی قطعاً ضرورت نہیں ہونی چاہیے۔