عالمی یومِ اینستھیزیا، لاہور جنرل ہسپتال میں آگاہی واک اور سیمینار کا انعقاد

لاہور جنرل ہسپتال شعبہ اینستھیزیا اور پاکستان سوسائٹی آف اینستھیزیالوجسٹس لاہور کے اشتراک سے عالمی یومِ اینستھیزیا کے موقع پر لاہور جنرل ہسپتال میں آگاہی سیمینار اورواک کاانعقادکیاگیا۔
سیمینار کا عنوان before during and beyond surgeryتھا ،اس میں جدید طریقہ علاج، محفوظ آپریشنز، میڈیکل تحقیق کے فروغ اور شعبہ اینستھیزیا کو درپیش چیلنجز پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
پروفیسر شاہدہ خواجہ نےسیمینارمیں بطور مہمان خصوصی اور پروفیسر رانا الطاف نے گیسٹ آف آنرشرکت کی، تقریب میں پروفیسر فرخ افضل،پروفیسر اشرف ضیا، چیف آرگنائزر ڈاکٹر علی سبطین حیدر سمیت لاہور کے ہسپتالوں سے ماہرین اور نوجوان ڈاکٹرز نے شرکت کی۔ پرنسپل امیر الدین میڈیکل کالج اور صدر پاکستان سوسائٹی آف اینستھیزیالوجسٹس لاہور پروفیسر ڈاکٹر جودت سلیم نے اس موقع پرگفتگوکرتے ہوئےکہا کہ جدید میڈیکل تحقیق اور محفوظ آپریشنز کے فروغ میں اینستھیزیا کے شعبے کو کلیدی اہمیت حاصل ہے، آپریشن کے دوران مریض کی سانس، دل کی دھڑکن اور دیگر اہم جسمانی افعال کی مسلسل نگرانی بے ہوشی کی مناسب سطح برقرار رکھنے اور ہنگامی حالات میں فوری طبی فیصلوں کے ذریعے اینستھیزیالوجسٹس مریض کی زندگی کے تحفظ اور آپریشن کی کامیابی میں بنیادی کردار ادا کرتے ہیں۔
طبی ماہرین نے واضح کیا کہ اینستھیزیا صرف مریض کو بے ہوش کرنے تک محدود نہیں بلکہ آپریشن سے قبل طبی معائنہ اور تشخیصی رپورٹس کا جائزہ، دورانِ آپریشن اہم جسمانی افعال کی نگرانی اور بعد از آپریشن درد سے نجات سمیت علاج کے پورے عمل کا لازمی جزو ہے، جدید اینستھیزیا نے پیچیدہ آپریشنز کو زیادہ محفوظ بنایا ہے جبکہ اس شعبے میں مسلسل تحقیق، جدید ٹیکنالوجی کا استعمال اور طبی عملے کی پیشہ ورانہ تربیت علاج کے معیار کو مزید بہتر بنانے کے لیے ناگزیر ہے۔
پینل ڈسکشن کے ماڈریٹر پروفیسر فرخ افضل اور صدر پاکستان سوسائٹی آف اینستھیزیالوجسٹس پاکستان پروفیسر رانا الطاف نے ملک میں اینستھیزیا کے ماہرین کی کمی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ تجربہ کار معالجین کو ملک میں سازگار پیشہ ورانہ ماحول، بہتر مراعات، ملازمت کا تحفظ اور ترقی کے مساوی مواقع فراہم کرنا ضروری ہے، ان اقدامات سے نوجوان ڈاکٹروں کی حوصلہ افزائی کے ساتھ قومی صحت کے نظام کو مستحکم بنایا جا سکتا ہے اور مریضوں کے لیے محفوظ آپریشنز کی سہولیات برقرار رکھی جا سکتی ہیں۔
سرپرستِ اعلیٰ پاکستان سوسائٹی آف اینستھیزیالوجسٹس لاہور اور مہمانِ خصوصی پروفیسر شاہدہ خواجہ نے کہا کہ برین ڈرین کی روک تھام، نوجوان معالجین کی حوصلہ افزائی اور طبی تحقیق کے فروغ کے لیے مؤثر پالیسی سازی وقت کی اہم ضرورت ہے، انہوں نے زور دیا کہ شعبہ اینستھیزیا سے وابستہ ماہرین کے مسائل حل کرنے اور ان کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کو نکھارنے کے لیے ٹھوس اقدامات کیے جائیں تاکہ ان کی مہارت سے ملک میں طبی سہولیات کا معیار مزید بلند کیا جا سکے۔
پروفیسر ڈاکٹر جودت سلیم نے کہا کہ پنجاب میں ضلع و تحصیل کی سطح پر اینستھیزیا سے وابستہ ڈاکٹرز کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں میں اضافے کے لیے باقاعدگی سے جدید رجحانات کے بارے میں آگاہی فراہم کی جا رہی ہے تاکہ نوجوان ڈاکٹرز طب کے شعبے میں عالمی سطح پر ہونے والی جدید پیشرفت سے باخبر رہیں ۔
اس موقع پر ڈاکٹر علی سبطین حیدر نے گفتگو کرتے ہوئے شعبہ اینستھیزیا کی ترقی، جدید تحقیق کے فروغ، تربیت یافتہ ماہرین کی دستیابی اور مریضوں کو محفوظ آپریشنز کی سہولیات فراہم کرنے کے لیے مثبت تجاویز پیش کیں، سیمینار کے اختتام پر کیک کاٹا گیا اور آگاہی واک کا اہتمام کیا گیا۔
مزید پڑھیں





