آزادی سے جمہوری تسلسل کی جدوجہد تک ،تحریر:نعیم خان
نقطہ نظر
ہماری تاریخی غلطیوں کا جائزہ
شام کے پانچ بج رہے تھے۔ باغِ جناح لاہور کی فضا میں ڈھلتی دھوپ کی سنہری نرمی گھل چکی تھی اور درختوں سے آتی ٹھنڈی ہوا دن بھر کی گرمی کو آہستہ آہستہ سمیٹ رہی تھی۔ میں لاہور کے معروف کاسموپولیٹن کلب میں داخل ہوا تو باغ کے ایک پُرسکون گوشے میں استاد جی اپنے چند احباب کے ساتھ چائے کی محفل سجائے بیٹھے تھے ، چائے کی بھاپ فضا میں تحلیل ہو رہی تھی اور گفتگو ملکی سیاسی صورتِ حال پر جاری تھی۔
استاد جی کے گرد انارکلی بازار کے معروف تاجر ، ایک معروف شاعر ، سابق رکنِ صوبائی اسمبلی ، یونین کونسل 75 کے سابق چیئرمین ، پولٹری کے کاروبار سے وابستہ ایک ہردلعزیز دوست ، کرائم رپورٹر ، معروف صحافی اور چند لکھاری و کالم نگار بیٹھے تھے۔ ہر شخص اپنے تجربے ، مشاہدے اور رائے کے ساتھ محفل کو ایک الگ رنگ دے رہا تھا۔
میں اندر داخل ہوا تو سب نے محبت اور گرم جوشی سے استقبال کیا۔ سلام دعا اور خیریت دریافت کرنے کے بعد استاد جی نے اپنے قریب جگہ دیتے ہوئے مسکرا کر کہا:
خانِ اعظم ! گفتگو پاکستان کی سالمیت اور موجودہ سیاسی و عسکری صورتِ حال پر ہو رہی ہے۔ آپ بھی اپنے خیالات سے آگاہ کیجیے کہ تقریباً آٹھ دہائیوں کے اس سفر میں ہم نے کیا پایا ، کیا کھویا اور آج کہاں کھڑے ہیں ؟
اسی دوران ویٹر نے میرے سامنے چائے کا کپ رکھا۔ میں نے شکریہ ادا کیا اور عرض کیا:
استادِ محترم ! یہ سوال کسی ایک شخص ، جماعت یا ادارے سے متعلق نہیں ، ہم سب سے متعلق ہے۔ پاکستان کی تاریخ قربانیوں ، کامیابیوں ، امیدوں اور غلط فیصلوں کی مشترکہ داستان ہے۔ ہم نے آزادی حاصل کی ، دفاعی صلاحیت پیدا کی ، ایٹمی طاقت بنے اور زراعت ، صنعت ، مواصلات سمیت مختلف شعبوں میں پیش رفت کی لیکن ایک سوال مسلسل ہمارے سامنے کھڑا رہا ، کیا ہم نے ریاست کو مضبوط کرنے کے لیے اداروں کو آئین کے مطابق مضبوط کیا یا شخصیات اور وقتی ضرورتوں کی خاطر ریاستی اصولوں کو بدلتے رہے ؟
میری نظر میں پاکستان کی تاریخ کو سمجھنے کے لیے یہ دیکھنا ضروری ہے کہ ہم نے کیا فیصلے کیے ان کے نتائج کیا نکلے اور ان کی ذمہ داری کس پر عائد ہوتی ہے ؟
انارکلی کے تاجر دوست نے گفتگو میں حصہ لیتے ہوئے پوچھا:
نعیم صاحب! ملک تو عوام کے نام پر بنا تھا پھر عوام کی نمائندگی کرنے والی دستور ساز اسمبلی کو اپنا آئین بنانے میں اتنے سال کیوں لگے؟
میں نے ان کی طرف دیکھتے ہوئے کہا: آپ نے بہت بنیادی سوال اٹھایا ہے۔ قیامِ پاکستان کے وقت مہاجرین کی آبادکاری ، وسائل کی کمی ، انتظامی مشکلات اور سلامتی کے مسائل واقعی بہت بڑے تھے۔ ان مشکلات کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا لیکن آئین سازی اور عوامی نمائندگی کے نظام کو مضبوط کرنا بھی اتنا ہی ضروری تھا۔
قراردادِ مقاصد 12 مارچ 1949ء کو منظور ہوئی مگر آئین سازی پر اتفاقِ رائے پیدا کرنے میں برسوں لگ گئے۔ مشرقی پاکستان کی آبادی زیادہ تھی جبکہ مغربی پاکستان کے صوبوں کے اپنے سیاسی اور انتظامی مطالبات تھے۔ مرکز میں اختیارات کی تقسیم پر اختلافات بھی برقرار رہے۔
24 اکتوبر 1954ء کو گورنر جنرل غلام محمد نے دستور ساز اسمبلی تحلیل کر دی۔ اسمبلی کے صدر مولوی تمیزالدین خان نے اس اقدام کو سندھ ہائی کورٹ میں چیلنج کیا اور وہاں کامیابی حاصل کی لیکن وفاقی عدالت نے فیصلہ ان کے خلاف دے دیا۔
اس واقعے نے منتخب اداروں اور حکومتی اختیار کے تعلق پر ایک گہرا سوال چھوڑا۔ بالآخر 1956ء میں پہلا آئین نافذ ہوا مگر 7 اکتوبر 1958ء کو صدر اسکندر مرزا نے مارشل لا نافذ کر دیا اور جنرل ایوب خان کو چیف مارشل لا ایڈمنسٹریٹر مقرر کیا۔ اسی ماہ ایوب خان نے اسکندر مرزا کو اقتدار سے الگ کرکے خود اقتدار سنبھال لیا۔ ہمارا پہلا آئین جمہوری نظام کو مضبوط کرنے کا موقع بن سکتا تھا لیکن سیاسی عدم استحکام اور اقتدار کی کشمکش نے اسے زیادہ دیر چلنے نہ دیا۔
استاد جی نے اثبات میں سر ہلایا۔ یعنی ریاست کے ابتدائی برسوں ہی میں آئینی تسلسل کا مسئلہ پیدا ہو گیا تھا۔
جی استاد جی ! اور اس کا اثر صرف اس وقت کی حکومت تک محدود نہیں رہا۔ آنے والے برسوں میں بھی یہ مثال سامنے رہی کہ سیاسی بحران کے دوران آئینی راستہ اختیار کرنے کے بجائے غیر معمولی اقدامات کیے جا سکتے ہیں۔
تفکر میں ڈوبے شاعر نے سگریٹ ایش ٹرے میں بجھاتے ہوئے سوال کیا: نعیم صاحب ! ایوب خان کے دور میں تو ترقی کے بڑے چرچے تھے پھر اسی دور پر اتنی تنقید کیوں ہوتی ہے ؟
میں نے مسکرا کر کہا: تاریخ کا تقاضا ہے کہ کسی دور کی کامیابیوں اور خامیوں دونوں کو دیکھا جائے۔ ایوب خان کے دور میں صنعت ، بنیادی ڈھانچے اور بعض ترقیاتی منصوبوں میں پیش رفت ہوئی ، لیکن سیاسی عمل میں عوام کی شمولیت محدود رہی۔ معاشی ترقی کے فوائد کی منصفانہ تقسیم پر سوال اٹھے اور مشرقی پاکستان میں محرومی کا احساس بڑھتا گیا۔
ترقی صرف کارخانوں ، سڑکوں اور معاشی اعداد و شمار کا نام نہیں اگر کسی علاقے کے لوگ محسوس کریں کہ فیصلے ان کی رائے کے بغیر ہو رہے ہیں اور وسائل کی تقسیم منصفانہ نہیں تو مادی ترقی کے باوجود ریاست پر ان کا اعتماد کمزور ہو سکتا ہے۔
1965ء کی جنگ سے پہلے آپریشن جبرالٹر کے تحت مقبوضہ کشمیر میں مسلح افراد داخل کرنے کی کوشش کی گئی اس کے بعد حالات بگڑے ، بھارت نے فوجی کارروائیاں بڑھائیں اور تنازع پاکستان اور بھارت کے درمیان جنگ تک پہنچ گیا۔
اس واقعے سے سبق ملتا ہے کہ قومی سلامتی سے متعلق بڑے فیصلوں میں سیاسی مقاصد ، فوجی منصوبہ بندی ، مخالف فریق کے ممکنہ ردِعمل اور طویل مدتی نتائج کا حقیقت پسندانہ جائزہ ضروری ہوتا ہے۔ ریاستیں صرف نیت سے نہیں ، فیصلوں کے نتائج سے بھی پہچانی جاتی ہیں۔
سابق رکنِ صوبائی اسمبلی نے پوچھا: تو کیا ہم ہر ناکامی کا الزام صرف فوج یا سیاست دانوں پر ڈال کر بری الذمہ ہو سکتے ہیں؟
میں نے جواب دیا: نہیں جناب ! ایسا کرنے سے ہم تاریخ سمجھنے کے بجائے اسے اپنی پسند کے مطابق تقسیم کر دیں گے۔ سیاسی قیادت کی غلطیوں ، سول انتظامیہ کے کردار ، فوجی مداخلت اور عدالتی فیصلوں کا جائزہ الگ الگ بھی لینا ہوگا اور ان کے باہمی تعلق کو بھی سمجھنا ہوگا۔ اصول یہ ہونا چاہیے کہ جس کے پاس جتنا اختیار تھا اس کے فیصلوں اور نتائج کی ذمہ داری بھی اسی تناسب سے دیکھی جائے۔
سابق چیئرمین یونین کونسل نے سنجیدہ لہجے میں پوچھا: نعیم صاحب ! پاکستان ٹوٹنے کے سانحے کو آپ کس نظر سے دیکھتے ہیں ؟ کیا یہ صرف سیاسی قیادت کی ناکامی تھی یا ریاست کے دوسرے حصے بھی اس میں شریک تھے ؟
میں چند لمحے خاموشی کے بعد گویا ہوا: یہ ہماری تاریخ کا انتہائی دردناک باب ہے۔ مشرقی پاکستان کی علیحدگی کو کسی ایک شخصیت یا ادارے کی غلطی قرار دینا تاریخی حقیقت کو محدود کر دے گا۔
1955ء میں ون یونٹ قائم کرکے مغربی پاکستان کے صوبوں کو ایک انتظامی اکائی میں ضم کیا گیا تاکہ مشرقی اور مغربی پاکستان کے درمیان نمائندگی میں برابری پیدا کی جا سکے۔ لیکن اس بندوبست نے چھوٹے صوبوں کی شناخت اور اختیارات کے مسائل بھی پیدا کیے۔ دوسری طرف مشرقی پاکستان کی آبادی زیادہ ہونے کے باوجود سیاسی اقتدار کی تقسیم پر اختلافات برقرار رہے۔
زبان کا تنازع ، معاشی عدم مساوات ، صوبائی خودمختاری کے مطالبات اور مرکز پر بڑھتے ہوئے عدم اعتماد نے دونوں حصوں کے درمیان فاصلے گہرے کر دیے۔
دسمبر 1970ء کے عام انتخابات میں شیخ مجیب الرحمٰن کی عوامی لیگ نے قومی اسمبلی میں واضح اکثریت حاصل کی۔ جمہوری اصول کا تقاضا تھا کہ اکثریتی جماعت کو حکومت بنانے اور آئینی معاملات پر آگے بڑھنے کا موقع دیا جاتا۔ لیکن اقتدار کی منتقلی پر اختلافات پیدا ہوئے۔ یکم مارچ 1971ء کو قومی اسمبلی کا اجلاس ملتوی کر دیا گیا اور مذاکرات ناکام ہوتے گئے۔
25 مارچ 1971ء کی رات فوجی کارروائی شروع ہوئی جس کے بعد بحران مسلح تصادم اور انسانی المیے میں تبدیل ہو گیا۔ بڑے پیمانے پر انسانی جانیں ضائع ہوئیں بہت سے لوگ بے گھر ہوئے اور لاکھوں افراد نے سرحد پار پناہ لی۔
دسمبر 1971ء میں بھارت کی فوجی مداخلت اور جنگ کے بعد مشرقی پاکستان الگ ہو کر بنگلہ دیش بن گیا۔
اس سانحے میں سیاسی قیادت کی ناکامی ، اکثریتی مینڈیٹ کے مطابق اقتدار منتقل نہ ہونا ، فوجی کارروائی ، انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیاں اور بیرونی مداخلت سب کا جائزہ ان کے تاریخی تناظر میں لینا چاہیے۔
یہ تسلیم کرنا ضروری ہے کہ بھارت کی فوجی مداخلت سانحے کا اہم حصہ تھی لیکن اس سے پہلے پیدا ہونے والے داخلی سیاسی بحران کو نظرانداز کرنا بھی درست نہیں ہوگا۔
سب سے بڑا سبق یہ ہے کہ جب وفاقی انصاف ، جمہوری مینڈیٹ ، سیاسی مکالمے اور انسانی جان کی حرمت کو طاقت کے مقابلے میں ثانوی حیثیت دی جائے تو نقصان کسی ایک حکومت یا جماعت کا نہیں پوری ریاست کا ہوتا ہے۔
محفل میں کچھ دیر خاموشی رہی۔ استاد جی نے آہستہ سے کہا: یہ واقعی ایسا زخم ہے جسے صرف یاد کرنے سے نہیں اس سے سبق سیکھنے سے سمجھا جا سکتا ہے۔
جی بالکل! میں نے اثبات میں جواب دیا۔
پولٹری کے کاروبار سے وابستہ دوست نے گفتگو آگے بڑھائی: خان جی! 1971ء کے بعد تو ہمیں اپنی غلطیوں کا احساس ہو جانا چاہیے تھا۔ پھر ملک کو سنبھالنے کے لیے کیا اقدامات ہوئے ؟
میں نے کہا: سانحۂ مشرقی پاکستان کے بعد ذوالفقار علی بھٹو کی حکومت نے 1973ء کا آئین منظور کرانے میں اہم کردار ادا کیا۔ قومی اسمبلی نے یہ آئین 10 اپریل 1973ء کو منظور کیا ، 12 اپریل کو اس کی توثیق ہوئی اور 14 اگست 1973ء کو نافذ ہوا۔ مختلف سیاسی جماعتوں کے اتفاق سے بننے والا یہ آئین پارلیمانی نظام اور وفاقی ڈھانچے کے لیے اہم پیش رفت تھا۔ آج بھی یہی آئین ہماری ریاستی زندگی کی بنیاد ہے۔
لیکن آئین کی منظوری اور آئینی روایت کی تشکیل دو مختلف کام ہیں۔ قومیانے کی پالیسی کے بعض فیصلوں نے کاروباری اعتماد اور صنعتی کارکردگی پر منفی اثرات مرتب کیے اگرچہ مختلف شعبوں میں ان کے نتائج یکساں نہیں تھے۔
1977ء کے انتخابات کے بعد دھاندلی کے الزامات ، حزبِ اختلاف کی تحریک اور سیاسی مذاکرات کی ناکامی نے بحران کو بڑھا دیا۔ 5 جولائی 1977ء کو جنرل ضیاء الحق نے مارشل لا نافذ کر دیا۔ یوں ایک بار پھر سیاسی تنازع کا حل آئینی اور جمہوری عمل کے بجائے فوجی مداخلت کی صورت میں نکلا۔ عدالتوں کے بعض فیصلوں نے بھی اس اقدام کو قانونی جواز فراہم کیا۔
یہاں ایک اہم فرق سمجھنا ہوگا سیاسی حکومت کی کارکردگی پر تنقید کرنا اور اس کی جگہ غیر آئینی طریقے سے اقتدار سنبھالنے کو درست سمجھنا دو الگ باتیں ہیں۔ حکومتیں غلطیاں کر سکتی ہیں لیکن ان کا حل آئینی نظام کے اندر تلاش کرنا ہی ریاستی استحکام کی بنیاد ہے۔
استاد جی نے بات آگے بڑھائی: گویا مسئلہ صرف حکمرانوں کے بدلنے کا نہیں تھا بلکہ یہ بھی تھا کہ اقتدار کی تبدیلی کے لیے مستقل اور قابلِ اعتماد اصول کیوں نہ بن سکے۔
بالکل استاد جی !
ایک مقامی صحافی نے پوچھا: نعیم خان صاحب ! ضیاء الحق کے دور میں افغان جنگ کے دوران پاکستان کا کردار نہایت اہم تھا۔ کیا اس جنگ کے اثرات آج بھی ہمارے معاشرے میں محسوس کیے جا سکتے ہیں؟
میں نے ان کی طرف متوجہ ہو کر کہا: 1979ء میں سوویت یونین کے افغانستان میں داخلے کے بعد پاکستان خطے کی ایک بڑی جنگ کا اہم محاذ بن گیا۔ امریکہ ، سعودی عرب اور دوسرے شراکت داروں کی مدد سے افغان مزاحمت کو سہارا دیا گیا۔ اس وقت کے حکمرانوں کے سامنے سلامتی اور خارجہ پالیسی سے متعلق اپنے مقاصد تھے لیکن کسی بھی بڑی پالیسی کا جائزہ صرف اس کے فوری فائدے سے نہیں لیا جا سکتا۔
افغان جنگوں کے دوران اسلحے کی دستیابی ، منشیات کی معیشت ، مسلح گروہوں کے پھیلاؤ اور مذہبی و عسکری شدت پسندی کے لیے سازگار ماحول نے پاکستانی معاشرے کو متاثر کیا۔ تاہم آج کی ہر دہشت گردی کو صرف اسی ایک جنگ کا نتیجہ قرار دینا درست نہیں ، بعد کے علاقائی تنازعات ، ریاستی پالیسیاں ، مقامی حالات ، اسمگلنگ ، منشیات و اسلحہ کا کاروبار اور عالمی تبدیلیاں بھی اہم اسباب رہے ہیں۔
اصل سوال یہ ہونا چاہیے کہ کیا ہم نے وقتی فائدے کے ساتھ معاشرتی استحکام ، قانون کی حکمرانی اور آنے والی نسلوں کے تحفظ کو بھی اتنی ہی اہمیت دی ؟
خارجہ پالیسی کی کامیابی صرف اس بات سے نہیں ناپی جا سکتی کہ کسی وقت کسی حریف کو کتنا نقصان پہنچا یہ دیکھنا بھی ضروری ہے کہ بیس یا تیس سال بعد اپنے معاشرے کو اس پالیسی کی کیا قیمت ادا کرنا پڑی۔
ایک سینئر کرائم رپورٹر نے سوال کیا: نعیم صاحب ! 1988ء میں ضیاء الحق کے بعد جمہوریت واپس آئی لیکن حکومتیں بار بار ختم ہوتی رہیں۔ جمہوری نظام مستحکم کیوں نہ ہو سکا ؟
1988ء سے 1999ء تک بے نظیر بھٹو اور نواز شریف کی حکومتیں باری باری قائم ہوئیں۔ سیاسی جماعتوں کے درمیان بداعتمادی ، حکومت اور صدر کے اختیارات کی کشمکش ، طاقت ور ریاستی حلقوں کا سیاسی عمل میں اثر و رسوخ اور حکومتی کارکردگی پر تنازعات اس دور کی نمایاں خصوصیات تھیں۔
1990ء ، 1993ء اور 1996ء میں منتخب حکومتیں اپنی مدت پوری نہ کر سکیں۔ سیاست دانوں سے بھی غلطیاں ہوئیں۔ سیاسی جماعتیں اکثر مخالفین کو حریف کے بجائے دشمن سمجھنے لگیں اور احتساب کے مطالبات کئی مرتبہ سیاسی لڑائی کا حصہ بن گئے۔
لیکن حکومتوں کی غلطیوں کا مطلب یہ نہیں کہ انہیں ہٹانا مسائل کا مستقل حل تھا۔ اس طرزِ عمل نے جمہوری اداروں کو پختہ ہونے کا موقع نہیں دیا اور سیاسی جماعتوں کے درمیان اصولوں پر مبنی تعاون کمزور رہا۔
مئی 1998ء میں پاکستان نے ایٹمی تجربات کیے جو ملکی دفاعی تاریخ کا اہم موڑ تھے۔ تاہم اس کے بعد پابندیوں اور معاشی دباؤ کا سامنا بھی کرنا پڑا۔
مئی 1999ء کی کارگل جنگ نے فوجی منصوبہ بندی ، سیاسی قیادت کو اعتماد میں لینے اور خارجہ پالیسی میں حکومت اور فوج کے درمیان ہم آہنگی کے حوالے سے اہم سوالات پیدا کیے۔
12 اکتوبر 1999ء کو جنرل پرویز مشرف نے اقتدار سنبھال لیا اور جمہوری تسلسل ایک بار پھر ٹوٹ گیا۔
تاریخ کا سبق یہی ہے کہ کسی ادارے یا جماعت کو اپنی وقتی کامیابی کے لیے ایسے اقدامات نہیں کرنے چاہییں جن سے ریاست کے مستقل اصول کمزور پڑ جائیں۔
ایک باریش دوست نے گفتگو میں حصہ لیتے ہوئے پوچھا: نعیم صاحب ! پرویز مشرف کے دور میں معاشی ترقی اور استحکام کے بڑے دعوے کیے گئے لیکن نائن الیون کے بعد دہشت گردی کی جنگ میں پاکستان کی شمولیت نے ملک کو شدید جانی ، معاشی اور سماجی نقصان پہنچایا۔ ترقی کے ان دعوؤں اور بعد میں سامنے آنے والے سنگین نتائج کے درمیان یہ تضاد کیسے پیدا ہوا ؟
میں نے چائے کے کپ پر نظر ڈالی۔ سوال و جواب کی بحث میں ایسا کھویا کہ چائے پینے کا ہوش ہی نہ رہا۔ ٹھنڈی چائے مجھے ویسے بھی پسند نہیں تھی ، سو ایک حسرت بھری نگاہ کپ پر ڈالی اور جواب دینے کے لیے لب کھولے۔
پرویز مشرف کے دور میں بعض شعبوں میں معاشی سرگرمیاں تیز ہوئیں ، مواصلاتی شعبے میں وسعت آئی اور نجی میڈیا کو فروغ ملا۔ اس کے ساتھ اختیارات کے ارتکاز اور سیاسی عمل کی محدودیت سے متعلق سوالات بھی موجود رہے۔
11 ستمبر 2001ء کے حملوں کے بعد پاکستان نے امریکہ کی قیادت میں دہشت گردی کے خلاف جنگ میں اہم کردار ادا کیا۔ اس پالیسی کے نتیجے میں بین الاقوامی تعاون اور بعض معاشی فوائد حاصل ہوئے لیکن پاکستان کو دہشت گرد حملوں ، فوجی اور شہری ہلاکتوں ، بے گھر ہونے والے خاندانوں ، معاشی نقصانات اور داخلی عدم استحکام کی بھاری قیمت بھی ادا کرنا پڑی۔
بعد کے برسوں میں مختلف مسلح گروہوں نے پاکستان کے اندر حملے کیے اور ریاست کو ان کے خلاف طویل کارروائیاں کرنا پڑیں۔
یہ کہنا درست نہیں ہوگا کہ دہشت گردی کے تمام اسباب صرف ایک حکومت یا ایک خارجہ پالیسی میں پوشیدہ تھے۔ تاہم یہ سوال ضرور اٹھتا ہے کہ قومی سلامتی کی پالیسیوں میں پارلیمان کی نگرانی ، شفافیت ، انتہا پسندی کے خلاف مستقل حکمتِ عملی اور متاثرہ علاقوں کی بحالی کو کس حد تک ترجیح دی گئی۔
طاقت کا استعمال بعض حالات میں ضروری ہو سکتا ہے لیکن پائیدار امن کے لیے انصاف ، تعلیم ، روزگار ، مؤثر مقامی انتظامیہ اور شہریوں کا اعتماد بھی ضروری ہے۔
استاد جی نے چائے کا کپ میز پر رکھتے ہوئے پوچھا: خان صاحب ! 2008ء کے بعد منتخب حکومتوں نے ایک دوسرے کو اقتدار منتقل کیا۔ کیا یہ پیش رفت ملک کے مسائل حل کرنے کے لیے کافی نہیں تھی ؟
میں نے باادب عرض کیا: استاد جی ! منتخب حکومتوں کا اپنی مدت پوری کرنا اور اقتدار کی آئینی منتقلی جمہوری تسلسل کے لیے اہم پیش رفت تھی۔ اٹھارہویں آئینی ترمیم نے صوبائی خودمختاری اور وفاقی اختیارات کی تقسیم میں بھی اہم تبدیلیاں کیں لیکن انتخابات کا انعقاد جمہوریت کا صرف ایک حصہ ہے۔ اس کے ساتھ مضبوط بلدیاتی نظام ، اداروں کی جواب دہی ، قانون کی یکساں عمل داری ، شفاف حکمرانی اور عوامی خدمات کی فراہمی بھی ضروری ہیں۔
توانائی کے شعبے میں گردشی قرضہ بڑھتا رہا ، ٹیکس کا دائرہ محدود رہا ، برآمدات میں پائیدار اضافہ نہ ہو سکا اور سرکاری اداروں کے خساروں اور قرضوں نے معیشت پر دباؤ ڈالا۔ مختلف حکومتوں نے اصلاحات کے وعدے کیے لیکن مشکل فیصلے کئی مرتبہ مؤخر کیے گئے۔
کمزور ٹیکس وصولی ، محدود پیداواری صلاحیت ، درآمدات پر انحصار اور بیرونی مالی مدد کی بار بار ضرورت ایسے مسائل ہیں جو ایک حکومت سے دوسری حکومت تک منتقل ہوتے رہے۔
عالمی منڈیوں ، تیل کی قیمتوں ، موسمی آفات اور علاقائی سلامتی کے حالات نے بھی معیشت کو متاثر کیا۔ اس لیے ہر بحران کا ذمہ دار صرف موجودہ حکومت کو ٹھہرانے کی بجائے ہمیں یہ دیکھنا ہوگا کہ بنیادی معاشی اصلاحات کئی دہائیوں سے ادھوری کیوں ہیں۔
حکومتیں بدلتی رہیں لیکن معاشی پالیسیوں میں تسلسل اور طویل مدتی منصوبہ بندی وہ مقام حاصل نہ کر سکی جس کی ضرورت تھی۔
استاد جی نے سر ہلاتے ہوئے کہا: اچھا نعیم صاحب ! ماضی کے ادوار کی کشمکش تو ہم نے دیکھ لی۔ اب سوال یہ ہے کہ 2018ء کے بعد کے سیاسی حالات نے ملک کی سمت ، معیشت اور قومی یکجہتی پر کیا اثرات مرتب کیے ؟ کیا ہم واقعی آگے بڑھے ہیں یا آج بھی اقتدار کی کشمکش کے اسی دائرے میں گھوم رہے ہیں ؟
استاد جی ! اس سوال کا جواب دینے کے لیے ہمیں حالیہ سیاسی تاریخ کا جائزہ لینا ہوگا۔ اصل امتحان یہ ہے کہ کیا ہم ماضی کی غلطیوں سے سبق سیکھ کر آگے بڑھے یا انہیں نئے کرداروں اور نئے نعروں کے ساتھ دہراتے رہے ؟
استاد جی نے چائے کا آخری گھونٹ لیا اور بولے: تو پھر خانِ اعظم ! اب اسی سوال کو آگے بڑھاتے ہیں۔ شاید ہماری تاریخ کا سب سے اہم سبق ابھی باقی ہے۔
جاری ہے۔۔۔
مزید پڑھیں



