پیر، 2 نومبر، 2026
Baaghi TV Logo
ٹرینڈنگ

آزادی صحافت پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا، قمر شہزاد مغل

مصنف:

صحافیوں کی آواز دبانا جمہوریت کا گلا گھونٹنے کے مترادف، حق کے قلم پر پہرے نامنظور

دھمکیوں، ہراسانی اور پیکا کے ہتھکنڈوں سے صحافت خاموش نہیں ہوگی، آزادیٔ اظہار کا تحفظ ناگزیر، نصیر احمد بھٹی

علاقائی اخبارات سے وابستہ رپورٹرز کے لیے خصوصی فلاحی پیکیج، بچوں کی تعلیم اور علاج کی سہولیات یقینی بنانے کا مطالبہ

محدود وسائل اور مہنگائی کے بوجھ تلے دبے علاقائی صحافیوں کی معاشی مشکلات کا فوری ازالہ اور خاندانوں کے تحفظ کی ضمانت دی جائے

صحافیوں اور ان کے خاندانوں کے حقوق کا مؤثر تحفظ یقینی بنایا جائے، آزادیٔ صحافت پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا، قمر شہزاد مغل

گوجرخان (قمرشہزاد) صحافیوں کے خلاف جرائم کے خاتمے کے عالمی دن، 2 نومبر، کے موقع پر قمر شہزاد مغل نائب صدر پنجاب، پاکستان میڈیا ایسوسی ایشن، اور نصیر احمد بھٹی سابق امیدوار برائے صدر پوٹھوہار پریس کلب گوجرخان نے اپنے مشترکہ بیان میں کہا ہے کہ صحافی کے قلم کو خاموش کرانا درحقیقت عوام کی آواز دبانے، حقائق پر پردہ ڈالنے اور احتساب کا راستہ روکنے کے مترادف ہے۔ جرائم پیشہ عناصر کی سرگرمیوں، اداروں میں بدعنوانی، افسران کی نااہلی، غفلت اور اختیارات کے ناجائز استعمال کو بے نقاب کرنے والے صحافیوں کو دھمکیاں دینا، ہراساں کرنا، جھوٹے مقدمات میں الجھانا اور ان کے اہلِ خانہ کو خوف زدہ کرنا کسی صورت قابلِ قبول نہیں؛ بالخصوص جب حقائق پر مبنی خبروں کا جواب دینے کے بجائے بعض عناصر پیکا کے تحت کارروائی کی دھمکیاں دے کر صحافیوں کی آواز دبانے کی کوشش کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ عالمی سطح پر صحافیوں کے تحفظ کو جمہوری معاشروں کی بنیادی ذمہ داری تسلیم کیا جاتا ہے، اقوام متحدہ بھی صحافیوں کے خلاف جرائم کی مؤثر تحقیقات، ذمہ داروں کے احتساب اور آزادیٔ اظہار کے تحفظ پر زور دیتا ہے۔ حکومتیں محض بیانات کے بجائے ایسے مؤثر قوانین اور عملی نظام وضع کریں جو صحافیوں کو دھمکیوں، تشدد، غیر قانونی دباؤ اور انتقامی کارروائیوں سے حقیقی تحفظ فراہم کریں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ وفاقی و صوبائی حکومتیں بالخصوص ان علاقائی صحافیوں، رپورٹرز کو بھی خصوصی تحفظ اور مراعات فراہم کریں جو سرکاری طور پر منظور شدہ، اے بی سی سرٹیفائیڈ اور دیگر تسلیم شدہ علاقائی اخبارات کے ساتھ وابستہ ہو کر محدود وسائل اور نامساعد معاشی حالات میں صحافتی ذمہ داریاں نبھا رہے ہیں۔ موجودہ مہنگائی کے دور میں ان صحافیوں کی قلیل آمدن، معاشی عدم استحکام اور پیشہ ورانہ مشکلات کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا؛ حکومت ایسے صحافیوں اور ان کے خاندانوں کے لیے خصوصی مالی معاونت، علاج معالجے، بچوں کی تعلیم و تربیت اور صحت کی سہولیات پر مشتمل باقاعدہ فلاحی پیکیج متعارف کرائے۔ صحافیوں کے تحفظ سے متعلق قوانین میں ان کے اہلِ خانہ کے حقوق، قانونی معاونت، روزگار کے تحفظ اور معاشی فلاح کو بھی شامل کیا جائے تاکہ قلم کے مزدور عزت اور اطمینان کے ساتھ اپنے فرائض انجام دے سکیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ قوانین کا مقصد صحافیوں اور ان کے خاندانوں کو تحفظ دینا، ان کے حقوق کی ضمانت اور آزادیٔ اظہار کو مضبوط بنانا ہونا چاہیے، نہ کہ پیکا سمیت کسی قانون کو اختلافی آوازوں یا حقائق پر مبنی خبروں کو دبانے کا ذریعہ بنایا جائے۔ کسی خبر پر اعتراض ہو تو جواب ثبوت اور قانونی طریقۂ کار کے ذریعے دیا جائے، نہ کہ صحافی کو دھمکا کر، راستہ روک کر یا ہراساں کرکے خاموش کرایا جائے۔ انہوں نے دوٹوک الفاظ میں کہا کہ صحافت اقتدار کے ایوانوں کی خوشامد نہیں بلکہ عوام کے سامنے سچ رکھنے کی ذمہ داری ہے، ہمارا قلم کسی دباؤ کے سامنے نہیں جھکے گا، کیونکہ آزاد صحافت کا تحفظ دراصل عوام کے حق، جمہوریت کے استحکام اور ریاستی اداروں کی جواب دہی کا تحفظ ہے۔