جمعہ، 30 اکتوبر، 2026
Baaghi TV Logo
ٹرینڈنگ

بچوں کی تربیت،تحریر:ایمن ریاض

نقطہ نظر
aiman riaz

بچے ہر آنگن کے مہکتے پھول ہوتے ہیں جن سے گھر کے ماحول میں خوشبو اور تازگی قائم رہتی ہے۔ کبھی یہ بچے اپنی شرارتوں سے سب کے لبوں پر مسکراہٹ کے پھول بکھیرتے ہیں تو کبھی کوئی بچہ اپنی خاموش اور سنجیدہ طبیعت کی بنا پر داد و تحسین حاصل کرتا ہے۔

جس طرح بنیاد مضبوط ہو تو عمارت قائم رہتی ہے، بالکل اسی طرح بچوں کی تربیت عمدہ ہو تو وہ بڑے ہو کر معاشرے کا بہترین اور مفید فرد ثابت ہوتے ہیں۔ لیکن بچوں کو باصلاحیت کیسے بنایا جائے کہ وہ بڑے ہو کر ملک و قوم پر بوجھ نہ بنیں؟ یہ سوال اکثر والدین کے ذہن میں ابھرتا رہتا ہے۔

بعض والدین اور تعلیمی ادارے بچے پر اس قدر ذہنی اور تعلیمی بوجھ لاد دیتے ہیں کہ اس کی قدرتی صلاحیتیں ذات کے اندر ہی دفن ہو کر رہ جاتی ہیں۔ بچوں کو باصلاحیت اور خود اعتماد بنانے کے لیے ان کی حوصلہ افزائی نہایت ضروری ہے۔ بچے کے چھوٹے سے چھوٹے مثبت کام کو بھی سراہا جائے، اس سے اس کے اندر مزید کام کرنے کا نیا جذبہ اور شوق پیدا ہوتا ہے۔

بچوں کو بولنے اور اپنی رائے کا اظہار کرنے کا پورا موقع دیا جانا چاہیے۔ اگر بچہ کوئی سادہ یا غیر منطقی سوال بھی کرے تو اس پر اس کی حوصلہ افزائی کی جائے۔ اسے کہیں: ”واہ بیٹا! آپ نے تو بہت اچھا سوال پوچھا ہے۔“

ہمارا دینِ اسلام ایک کامل اور مکمل ضابطۂ حیات ہے، اور اس کے پیروکاروں کے لیے اس میں ہر قدم پر رہنمائی اور آسانیاں موجود ہیں۔ ایک بار حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے لوگوں سے ایک آیت کی تفسیر کے بارے میں سوال کیا۔ لوگ جواب نہ دے سکے، لیکن آپ کے کم سن شاگرد حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما نے عرض کیا کہ اس کے بارے میں میرے ذہن میں کچھ ہے۔ حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ان کی حوصلہ افزائی کرتے ہوئے ارشاد فرمایا:

”اے میرے بھتیجے! اگر تمہیں معلوم ہے تو ضرور بتاؤ اور اپنے آپ کو کم تر نہ سمجھو۔“ (صحیح بخاری)

آج کل بچوں کے معاملے میں ہر کوئی جج بننے کی کوشش کرتا ہے، اور اخلاقیات سکھانے کے چکر میں اکثر ان کے نازک احساسات کو مجروح کر دیتا ہے۔ بچوں کی غلطی پر انہیں سخت ڈانٹ ڈپٹ کے بجائے تحمل اور پیار سے سمجھانا چاہیے۔ بڑوں کی موجودگی میں اگر بچے کچھ بولنا چاہیں تو انہیں بولنے دیں، البتہ بڑوں سے بات کرنے کے آداب اور تمیز پہلے سے ہی سکھا دیں۔ بچہ اگر کوئی اچھا کام کرے تو اسے سراہیں، اور ہو سکے تو بطورِ تحفہ کوئی چھوٹی چیز بھی دیں۔ حوصلہ افزائی ملنے سے بچوں کو قلبی سہارا محسوس ہوتا ہے اور وہ نئے چیلنجز کا سامنا کرنے کے لیے تیار ہو جاتے ہیں۔

اگر کوئی بچہ پڑھائی میں بہت زیادہ نمایاں نہیں ہے، تو والدین کو چاہیے کہ اس پر حد سے زیادہ سختی نہ کریں، بلکہ یہ جاننے کی کوشش کریں کہ ان کے بچے کا فطری رجحان کس طرف ہے اور اس کی اس مخصوص صلاحیت کو سراہیں۔ مثال کے طور پر اگر آپ کے بچے کا رجحان ڈرائنگ یا آرٹس کی طرف زیادہ ہے اور وہ باقی مضامین میں خاطر خواہ توجہ نہیں دے رہا، تو اس سے پیار سے بات کریں۔ اسے سمجھائیں کہ اگر وہ بنیادی مضامین بھی اچھے طریقے سے پڑھے گا، تو اسے آگے چل کر آرٹس کے شعبے میں بہت بہترین مواقع میسر آئیں گے۔ اس سے بچہ ان مواقع کو حاصل کرنے کے لیے باقی پڑھائی پر بھی دل لگا کر توجہ دے گا۔ اس کے برعکس، اگر آپ بچے پر سختی کرتے ہیں، اسے ڈرائنگ بنانے سے روکتے ہیں اور زبردستی پڑھائی ٹھونستے ہیں، تو بچہ پڑھائی اور والدین دونوں سے بیزار ہو جائے گا، اور ممکن ہے کہ کسی بری صحبت کا شکار ہو جائے۔

بچوں کی حوصلہ افزائی اور نفسیات ایک ایسا موضوع ہے جو نہایت اہمیت کا حامل ہے۔ اس سلسلے میں ہمارے ذرائع ابلاغ اور ڈراما انڈسٹری کو بھی اپنا بھرپور کردار ادا کرنا چاہیے، جیسا کہ ڈراما ”پنجرہ“ میں دکھایا گیا کہ کس طرح والدین کی بے جا سختی اور حوصلہ افزائی نہ کرنے کے باعث گھر کا شیرازہ بکھر جاتا ہے اور بچے غلط راہ پر نکل جاتے ہیں۔ اس کے ذریعے والدین کو یہ واضح پیغام دیا گیا ہے کہ اپنے بچوں کی نفسیات کو سمجھیں اور ان کی صلاحیتوں پر انہیں داد دینا سکھائیں۔

اکثر بچے وہ کام زیادہ کرتے ہیں جس سے انہیں بڑوں کی توجہ حاصل ہو۔ اس لیے والدین کو چاہیے کہ وہ اپنی تمام تر توجہ بچے کے مثبت رویوں کی طرف مرکوز رکھیں۔ تعریف اور حوصلہ افزائی کی بدولت بچہ نہ صرف زیادہ جلدی اور اچھا سیکھتا ہے، بلکہ والدین اور بچوں کے درمیان خوشگوار اور مضبوط تعلق بھی استوار ہوتا ہے۔

بچوں کی شخصیت پر تنقید کے بجائے ان کی خوبیوں کی آبیاری کرنا ہی کامیاب تربیت کی بنیاد ہے۔ والدین کی شفقت، مسلسل حوصلہ افزائی اور بہترین رہنمائی ہی بچوں کو مستقبل کا با وقار اور خود اعتماد انسان بناتی ہے۔