بچوں کی تخلیقی صلاحیتوں کو پروان چڑھائیں،تحریر: دانش رحمان
نقطہ نظر
تخلیقی صلاحیت انسان کی سب سے قیمتی چیز ہے یہ وہ طاقت ہے جو انسان کو صرف نقل کرنے والا نہیں بلکہ نیا بنانے والا بناتی ہے جو قومیں اپنی نئی نسل کی تخلیقی صلاحیتوں کو بروقت پہچانتی اور بڑھاتی ہیں وہ علم ٹیکنالوجی ادب اور فنون میں آگے نکل جاتی ہیں بدقسمتی سے پاکستان میں اس اہم بات کو کافی نظرانداز کیا گیا ہے ہمارا تعلیمی نظام اب بھی رٹے اور نمبروں کو کامیابی مانتا ہے تخلیقی سوچ تخیل اور آزادانہ بات کرنے کو زیادہ اہمیت نہیں دی جاتی نتیجہ یہ نکلا ہے کہ ہمارے بچے پڑھ تو رہے ہیں مگر سوچنے نیا دریافت کرنے اور کچھ نیا کرنے کی صلاحیت سے پیچھے رہتے جا رہے ہیں آج ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اس صورتحال کو سنجیدگی سے لیں اور بچوں کی تخلیقی صلاحیتوں کو بڑھانے کو قومی ترجیح بنائیں
آج کل بچوں کی تخلیقی صلاحیتیں دب جانے کی کئی وجوہات ہیں سب سے بڑی وجہ ہمارا پرانا تعلیمی نظام ہے جو سوال پوچھنے کی بجائے جواب رٹوانے پر زور دیتا ہے کلاس میں بچے سے صرف یہ توقع کی جاتی ہے کہ وہ مقررہ سبق یاد کر لے نہ کہ اپنے انداز میں سوچے یا نیا خیال پیش کرے گھر کا ماحول بھی اکثر حوصلہ توڑتا ہے بہت سے والدین بچوں کی ڈرائنگ کہانی لکھنے یا نئے کھیل بنانے کو فضول کام سمجھتے ہیں اور انہیں صرف کتابوں تک محدود رکھنا چاہتے ہیں موبائل اور سوشل میڈیا نے صورتحال مزید خراب کر دی ہے بچے اب خود کچھ بنانے کے بجائے تیار مواد دیکھنے والے بن گئے ہیں وہ دیکھتے زیادہ ہیں سوچتے کم ہیں معاشرتی دباؤ بھی ایک بڑی رکاوٹ ہے کامیابی کا مطلب اب بھی صرف اچھے نمبر اور روایتی نوکری سمجھا جاتا ہے اس لیے تخلیقی کاموں کو غیر اہم سمجھ لیا جاتا ہے ان تمام باتوں نے مل کر نئی نسل کی فطری صلاحیتوں کو دبا دیا ہے
اس صورتحال کو بدلنے کے لیے والدین اساتذہ اور معاشرے تینوں کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا والدین کو سمجھنا ہوگا کہ بچے کی تخلیقی صلاحیتیں صرف نوکری کے لیے نہیں بلکہ اس کی پوری شخصیت بنانے کے لیے ضروری ہیں انہیں چاہیے کہ بچوں کو سوال پوچھنے نئے طریقے آزمانے اور اپنی بات کہنے کی آزادی دیں گھر میں کہانیاں سنانا ڈرائنگ کا سامان دینا اور بچوں کی چھوٹی چھوٹی تخلیقات کی تعریف کرنا بہت فائدہ مند ثابت ہو سکتا ہے اساتذہ کا کردار اس سے بھی زیادہ اہم ہے کلاس روم کو صرف سبق پڑھانے کی جگہ کے بجائے سوچنے اور دریافت کرنے کا مرکز بنانا ہوگا پروجیکٹ آزادانہ بات چیت اور تخلیقی کاموں کے ذریعے بچوں میں تخیل کو جگا یا جا سکتا ہے معاشرتی سطح پر بھی تخلیقی میدانوں کو عزت دینی ہوگی ادب فنون سائنسی ایجادات اور ہنر مندی کو عام نوکریوں کے برابر اہمیت دینی ہوگی تاکہ بچے ان میدانوں میں جانے سے نہ ہچکچائیں
عملی طور پر بچوں کی تخلیقی صلاحیتوں کو بڑھانے کے کئی اچھے طریقے ہیں سب سے پہلے انہیں اچھی کتابیں اور رسائل فراہم کیے جائیں کہانیاں نظمیں اور اچھے رسائل بچوں کے تخیل کو تیز کرتے ہیں جب بچہ کوئی کہانی پڑھتا ہے تو وہ اپنے ذہن میں منظر بناتا ہے کرداروں سے جڑتا ہے اور مختلف انجام سوچتا ہے یہ عمل خود بخود اس کی تخلیقی صلاحیت کو متحرک کرتا ہے لکھنے کی عادت ڈالنا بھی بہت ضروری ہے بچوں کو اپنی ڈائری لکھنے کہانیاں لکھنے یا اپنے مشاہدات قلمبند کرنے کی ترغیب دی جائے ڈرائنگ موسیقی ڈرامہ اور ہاتھ کے کام بھی تخلیقی ذہن بنانے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں اس کے علاوہ انہیں سوال پوچھنے کی آزادی دی جائے اور ان کے سوالات کو بے وقوفی کہہ کر رد نہ کیا جائے فطرت کے قریب رکھنا مشاہدے کی عادت ڈالنا اور آزادانہ کھیلنے کا موقع دینا بھی تخلیقی صلاحیتوں کو نکھارتا ہے آج کل کچھ اچھی کاوشیں بھی سامنے آ رہی ہیں بعض رسائل اور پلیٹ فارم ننھے لکھاریوں کو اپنی تخلیقات پیش کرنے کا موقع دے رہے ہیں جو واقعی ایک اچھا قدم ہے ایسے پلیٹ فارم بچوں میں اعتماد پیدا کرتے ہیں اور انہیں بتاتے ہیں کہ ان کی سوچ اور بات بھی قیمتی ہے
آخر میں یہ سمجھنا بہت ضروری ہے کہ بچوں کی تخلیقی صلاحیتوں کو بڑھانا کوئی اضافی کام نہیں بلکہ قومی ضرورت ہے ایک ایسی نسل جو صرف رٹے ہوئے جوابات دے وہ کبھی نئی ایجادات نہیں کر سکتی ادب کے نئے دریچے نہیں کھول سکتی اور مشکل مسائل کا حل نہیں نکال سکتی ہمیں فیصلہ کرنا ہوگا کہ ہم اپنے بچوں کو صرف امتحانی مشین بنانا چاہتے ہیں یا سوچنے تخلیق کرنے اور آگے بڑھنے والی نسل اگر ہم نے آج اس بات کو نظرانداز کیا تو کل ہم ایک ایسی نسل کے ساتھ کھڑے ہوں گے جو معلومات تو رکھتی ہوگی مگر سمجھ اور تخلیقی طاقت سے خالی ہوگی والدین اساتذہ پالیسی ساز اور پورا معاشرہ سب کو مل کر اس طرف توجہ دینی ہوگی بچوں کو سوال پوچھنے دیں غلطیاں کرنے دیں نیا آزمانے دیں اور اپنی آواز بلند کرنے دیں کیونکہ جو قوم اپنی نئی نسل کی تخلیقی صلاحیتوں کو دباتی ہے وہ دراصل اپنا مستقبل دباتی ہے آج ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اس حقیقت کو قبول کریں اور عملی قدم اٹھائیں صرف تب ہی ہم ایک ایسی نسل تیار کر سکیں گے جو نہ صرف اپنے مسائل حل کرے بلکہ دنیا کو نئی راہیں بھی دکھائے بچوں کی تخلیقی صلاحیتوں کو بڑھانا دراصل قوم کے روشن مستقبل کی بنیاد رکھنا ہے یہ کام آج سے شروع کرنا ہوگا کل بہت دیر ہو چکی ہوگی
مزید پڑھیں





