جمعہ، 16 اکتوبر، 2026
Baaghi TV Logo
ٹرینڈنگ

بچوں کی تخلیقی صلاحیتوں کو پروان چڑھائیں،تحریر: دانش رحمان

نقطہ نظر
danish rehmna

تخلیقی صلاحیت انسان کی سب سے قیمتی چیز ہے یہ وہ طاقت ہے جو انسان کو صرف نقل کرنے والا نہیں بلکہ نیا بنانے والا بناتی ہے جو قومیں اپنی نئی نسل کی تخلیقی صلاحیتوں کو بروقت پہچانتی اور بڑھاتی ہیں وہ علم ٹیکنالوجی ادب اور فنون میں آگے نکل جاتی ہیں بدقسمتی سے پاکستان میں اس اہم بات کو کافی نظرانداز کیا گیا ہے ہمارا تعلیمی نظام اب بھی رٹے اور نمبروں کو کامیابی مانتا ہے تخلیقی سوچ تخیل اور آزادانہ بات کرنے کو زیادہ اہمیت نہیں دی جاتی نتیجہ یہ نکلا ہے کہ ہمارے بچے پڑھ تو رہے ہیں مگر سوچنے نیا دریافت کرنے اور کچھ نیا کرنے کی صلاحیت سے پیچھے رہتے جا رہے ہیں آج ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اس صورتحال کو سنجیدگی سے لیں اور بچوں کی تخلیقی صلاحیتوں کو بڑھانے کو قومی ترجیح بنائیں


آج کل بچوں کی تخلیقی صلاحیتیں دب جانے کی کئی وجوہات ہیں سب سے بڑی وجہ ہمارا پرانا تعلیمی نظام ہے جو سوال پوچھنے کی بجائے جواب رٹوانے پر زور دیتا ہے کلاس میں بچے سے صرف یہ توقع کی جاتی ہے کہ وہ مقررہ سبق یاد کر لے نہ کہ اپنے انداز میں سوچے یا نیا خیال پیش کرے گھر کا ماحول بھی اکثر حوصلہ توڑتا ہے بہت سے والدین بچوں کی ڈرائنگ کہانی لکھنے یا نئے کھیل بنانے کو فضول کام سمجھتے ہیں اور انہیں صرف کتابوں تک محدود رکھنا چاہتے ہیں موبائل اور سوشل میڈیا نے صورتحال مزید خراب کر دی ہے بچے اب خود کچھ بنانے کے بجائے تیار مواد دیکھنے والے بن گئے ہیں وہ دیکھتے زیادہ ہیں سوچتے کم ہیں معاشرتی دباؤ بھی ایک بڑی رکاوٹ ہے کامیابی کا مطلب اب بھی صرف اچھے نمبر اور روایتی نوکری سمجھا جاتا ہے اس لیے تخلیقی کاموں کو غیر اہم سمجھ لیا جاتا ہے ان تمام باتوں نے مل کر نئی نسل کی فطری صلاحیتوں کو دبا دیا ہے


اس صورتحال کو بدلنے کے لیے والدین اساتذہ اور معاشرے تینوں کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا والدین کو سمجھنا ہوگا کہ بچے کی تخلیقی صلاحیتیں صرف نوکری کے لیے نہیں بلکہ اس کی پوری شخصیت بنانے کے لیے ضروری ہیں انہیں چاہیے کہ بچوں کو سوال پوچھنے نئے طریقے آزمانے اور اپنی بات کہنے کی آزادی دیں گھر میں کہانیاں سنانا ڈرائنگ کا سامان دینا اور بچوں کی چھوٹی چھوٹی تخلیقات کی تعریف کرنا بہت فائدہ مند ثابت ہو سکتا ہے اساتذہ کا کردار اس سے بھی زیادہ اہم ہے کلاس روم کو صرف سبق پڑھانے کی جگہ کے بجائے سوچنے اور دریافت کرنے کا مرکز بنانا ہوگا پروجیکٹ آزادانہ بات چیت اور تخلیقی کاموں کے ذریعے بچوں میں تخیل کو جگا یا جا سکتا ہے معاشرتی سطح پر بھی تخلیقی میدانوں کو عزت دینی ہوگی ادب فنون سائنسی ایجادات اور ہنر مندی کو عام نوکریوں کے برابر اہمیت دینی ہوگی تاکہ بچے ان میدانوں میں جانے سے نہ ہچکچائیں


عملی طور پر بچوں کی تخلیقی صلاحیتوں کو بڑھانے کے کئی اچھے طریقے ہیں سب سے پہلے انہیں اچھی کتابیں اور رسائل فراہم کیے جائیں کہانیاں نظمیں اور اچھے رسائل بچوں کے تخیل کو تیز کرتے ہیں جب بچہ کوئی کہانی پڑھتا ہے تو وہ اپنے ذہن میں منظر بناتا ہے کرداروں سے جڑتا ہے اور مختلف انجام سوچتا ہے یہ عمل خود بخود اس کی تخلیقی صلاحیت کو متحرک کرتا ہے لکھنے کی عادت ڈالنا بھی بہت ضروری ہے بچوں کو اپنی ڈائری لکھنے کہانیاں لکھنے یا اپنے مشاہدات قلمبند کرنے کی ترغیب دی جائے ڈرائنگ موسیقی ڈرامہ اور ہاتھ کے کام بھی تخلیقی ذہن بنانے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں اس کے علاوہ انہیں سوال پوچھنے کی آزادی دی جائے اور ان کے سوالات کو بے وقوفی کہہ کر رد نہ کیا جائے فطرت کے قریب رکھنا مشاہدے کی عادت ڈالنا اور آزادانہ کھیلنے کا موقع دینا بھی تخلیقی صلاحیتوں کو نکھارتا ہے آج کل کچھ اچھی کاوشیں بھی سامنے آ رہی ہیں بعض رسائل اور پلیٹ فارم ننھے لکھاریوں کو اپنی تخلیقات پیش کرنے کا موقع دے رہے ہیں جو واقعی ایک اچھا قدم ہے ایسے پلیٹ فارم بچوں میں اعتماد پیدا کرتے ہیں اور انہیں بتاتے ہیں کہ ان کی سوچ اور بات بھی قیمتی ہے


آخر میں یہ سمجھنا بہت ضروری ہے کہ بچوں کی تخلیقی صلاحیتوں کو بڑھانا کوئی اضافی کام نہیں بلکہ قومی ضرورت ہے ایک ایسی نسل جو صرف رٹے ہوئے جوابات دے وہ کبھی نئی ایجادات نہیں کر سکتی ادب کے نئے دریچے نہیں کھول سکتی اور مشکل مسائل کا حل نہیں نکال سکتی ہمیں فیصلہ کرنا ہوگا کہ ہم اپنے بچوں کو صرف امتحانی مشین بنانا چاہتے ہیں یا سوچنے تخلیق کرنے اور آگے بڑھنے والی نسل اگر ہم نے آج اس بات کو نظرانداز کیا تو کل ہم ایک ایسی نسل کے ساتھ کھڑے ہوں گے جو معلومات تو رکھتی ہوگی مگر سمجھ اور تخلیقی طاقت سے خالی ہوگی والدین اساتذہ پالیسی ساز اور پورا معاشرہ سب کو مل کر اس طرف توجہ دینی ہوگی بچوں کو سوال پوچھنے دیں غلطیاں کرنے دیں نیا آزمانے دیں اور اپنی آواز بلند کرنے دیں کیونکہ جو قوم اپنی نئی نسل کی تخلیقی صلاحیتوں کو دباتی ہے وہ دراصل اپنا مستقبل دباتی ہے آج ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اس حقیقت کو قبول کریں اور عملی قدم اٹھائیں صرف تب ہی ہم ایک ایسی نسل تیار کر سکیں گے جو نہ صرف اپنے مسائل حل کرے بلکہ دنیا کو نئی راہیں بھی دکھائے بچوں کی تخلیقی صلاحیتوں کو بڑھانا دراصل قوم کے روشن مستقبل کی بنیاد رکھنا ہے یہ کام آج سے شروع کرنا ہوگا کل بہت دیر ہو چکی ہوگی