Baaghi TV Logo
ٹرینڈنگ

بچوں کی تربیت کا بحران ،تحریر: سائرہ علی

نقطہ نظر

آج ہمارے معاشرے میں اگر سب سے بڑا کوئی بحران ہے تو وہ معاشی بحران نہیں، سیاسی بحران نہیں، بلکہ بچوں کی تربیت کا بحران ہے۔ ہم نے عمارتیں تو اونچی بنا لیں، ہاتھ میں مہنگے موبائل تو دے دیے، انگریزی میڈیم اسکولوں میں داخلے تو دلوا دیے، لیکن ہم اپنی اصل ذمہ داری، یعنی ایک اچھا انسان بنانا، بھول گئے ہیں۔

یہ بحران ایک دن میں پیدا نہیں ہوا۔ یہ سالوں کی غفلت کا نتیجہ ہے۔

والدین کی عدم موجودگی:

پرانے زمانے میں مشترکہ خاندانی نظام تھا۔ بچہ دادی کی گود میں کہانیاں سنتا تھا، دادا سے اخلاق سیکھتا تھا۔ آج میاں بیوی دونوں نوکری پر ہیں، یا اگر ماں گھر پر بھی ہے تو اس کے ہاتھ میں موبائل ہے۔ بچے کو وقت دینے کے بجائے ہم اس کے ہاتھ میں موبائل پکڑا کر کہتے ہیں "جاؤ، تنگ نہ کرو"۔ بچہ جسمانی طور پر گھر میں ہے، لیکن ذہنی طور پر یوٹیوب، ٹک ٹاک اور گیمز کی دنیا میں پرورش پا رہا ہے۔ ماں باپ کی غیر موجودگی میں موبائل ہی اس کا مربی بن گیا ہے۔

تربیت اور آسائش میں فرق ختم ہونا:

ہم نے تربیت کو آسائش سمجھ لیا ہے۔ ہمارا خیال ہے کہ بچے کو برانڈڈ کپڑے پہنانا، مہنگی کتابیں لانا اور فاسٹ فوڈ کھلانا ہی تربیت ہے۔ نہیں! یہ آسائش ہے۔ تربیت یہ ہے کہ آپ بچے کو سلام کرنا سکھائیں، بڑوں کا ادب سکھائیں، جھوٹ سے نفرت سکھائیں، اپنا جھوٹا برتن خود اٹھانا سکھائیں۔ آج کا بچہ ضد کر کے ہر چیز حاصل کر لیتا ہے، کیونکہ والدین کو "نا" کہنا نہیں آتا۔ یہ "نا" نہ کہنا ہی کل کو اسے ضدی، خودغرض اور ناکام انسان بناتا ہے۔

اسکول - تعلیم ہے، تربیت نہیں:

ہمارے اسکول نمبروں کی فیکٹریاں بن گئے ہیں۔ 98 فیصد نمبر لینے والا بچہ اگر استاد سے بدتمیزی کرے، تو والدین فخر سے کہتے ہیں "بچہ ذہین ہے، بس ذرا غصے کا تیز ہے"۔ ہم نے ادب کو کمزوری اور بدتمیزی کو ذہانت سمجھ لیا ہے۔ اسکول میں اخلاقیات کا پیریڈ تو ہے، لیکن عملی تربیت صفر ہے۔

سوشل میڈیا - بے لگام استاد:

یہ بحران کی سب سے خطرناک وجہ ہے۔ 10 سال کے بچے کے ہاتھ میں ایسا موبائل ہے جس میں پوری دنیا کی اچھائی اور برائی دونوں موجود ہیں۔ وہ گالی، فحاشی، تشدد، سب کچھ بغیر کسی فلٹر کے دیکھ رہا ہے۔ وہ ٹک ٹاکر کو اپنا ہیرو سمجھتا ہے، جس کی واحد قابلیت ناچ گانا ہے۔ اس کے خواب ڈاکٹر یا سائنسدان بننے کے نہیں، بلکہ راتوں رات وائرل ہونے کے ہیں۔ اس کی زبان سے اردو کے خوبصورت الفاظ کے بجائے شارٹ کٹس اور گالیاں نکلتی ہیں۔ حل کیا ہے؟اس بحران کا حل کسی حکومت کے پاس نہیں، یہ حل ہمارے گھروں میں ہے۔

اول: وقت دیں، چیزیں نہیں: بچے کو روزانہ کم از کم ایک گھنٹہ خالص وقت دیں، بغیر موبائل کے۔ اس سے بات کریں، اس کی بات سنیں، اس کے ساتھ کھیلیں۔ بچے کو آپ کے پیسے نہیں، آپ کا وقت چاہیے۔

دوم: خود نمونہ بنیں: بچہ وہ نہیں سیکھتا جو آپ کہتے ہیں، وہ وہ سیکھتا ہے جو آپ کرتے ہیں۔ اگر آپ خود ہر وقت موبائل پر ہیں، جھوٹ بولتے ہیں، ملازمین سے بدتمیزی کرتے ہیں، تو بچہ بھی وہی کرے گا۔ گھر میں نماز، سچ، اور شکر کا ماحول بنائیں۔

سوم: "نا" کہنا سیکھیں: بچے کی ہر جائز ناجائز خواہش پوری نہ کریں۔ اسے صبر، انتظار اور قناعت سکھائیں۔ اسے بتائیں کہ ہر چیز فوراً نہیں ملتی، محنت کرنی پڑتی ہے۔

چہارم: موبائل کو کنٹرول کریں: 14 سال سے کم عمر بچے کو ذاتی موبائل ہرگز نہ دیں۔ اگر دینا مجبوری ہے تو اس میں پیرنٹل کنٹرول لگائیں اور وقت مقرر کریں۔ بچے کے سونے کی جگہ پر موبائل نہیں ہونا چاہیے۔

آخر میں بس اتنا کہوں گی کہ بچے پودوں کی طرح ہوتے ہیں۔ اگر آپ نے شروع میں ان کی کانٹ چھانٹ نہ کی، انہیں سیدھا نہ رکھا، تو وہ ٹیڑھے درخت بن جائیں گے، جنہیں بعد میں سیدھا کرنا ناممکن ہو جائے گا۔ آج ہم اپنے بچوں کو انگریز تو بنا رہے ہیں، لیکن انسان بنانا بھول رہے ہیں۔ اور یاد رکھیں، اگر تربیت میں کوتاہی ہوئی، تو کل کو یہی بچے ہمارے لیے نہیں، بلکہ معاشرے کے لیے بھی ایک بحران بن جائیں گے۔