ہفتہ، 31 اکتوبر، 2026
Baaghi TV Logo
ٹرینڈنگ

بدگمانی، تحریر: ماہ جبین اظہر

نقطہ نظر
mah jabeen b

ہم دوسروں کی چند لمحوں کی خاموشی کو اپنے ذہن میں کتنی طویل کہانی بنا دیتے ہیں۔ کسی کا پیغام دیر سے دیکھنا، جواب دینے میں تاخیر کرنا یا کسی مصروفیت کی وجہ سے بات نہ کر پانا ہمارے ذہن میں کئی طرح کے سوالات کو جنم دیتا ہے۔ ہم حقیقت جانے بغیر خود ہی فیصلے کرنے لگتے ہیں، دوسروں کے رویوں کے پیچھے چھپے مطلب تلاش کرتے ہیں اور پھر اپنے ہی بنائے ہوئے خیالات کی وجہ سے پریشان ہوتے رہتے ہیں۔

قرآن مجید ہمیں انسانی فطرت کی ایک اہم کمزوری کی طرف متوجہ کرتے ہوئے ارشاد فرماتا ہے:

وَكَانَ الْإِنْسَانُ عَجُولًا

(اور انسان بڑا جلد باز ہے۔)

شاید ہماری یہی جلد بازی ہمیں حقیقت جاننے سے پہلے دوسروں کے بارے میں رائے قائم کرنے پر مجبور کر دیتی ہے۔ ہم بھول جاتے ہیں کہ ہر خاموشی بے رخی نہیں ہوتی، ہر تاخیر بے اعتنائی نہیں ہوتی اور ہر مصروفیت محض ایک بہانہ نہیں ہوتی۔

قرآن مجید ہمیں واضح ہدایت دیتا ہے:

"اے ایمان والو! بہت سے گمانوں سے بچو، بے شک بعض گمان گناہ ہوتے ہیں۔"

لیکن افسوس کہ ہم دوسروں کے بارے میں بدگمانی کرتے ہوئے یہ بھول جاتے ہیں کہ ہمارا ایک بے بنیاد خیال نہ صرف کسی دوسرے کے ساتھ ہمارے تعلق کو متاثر کر سکتا ہے بلکہ ہمارے اپنے ذہنی سکون کو بھی برباد کر سکتا ہے۔

آج کے دور میں سوشل میڈیا اور بالخصوص واٹس ایپ نے ہماری زندگیوں میں ایک عجیب سی بے چینی پیدا کر دی ہے۔ ہم کسی کو کوئی ضروری پیغام یا عام سا مواد بھیجتے ہیں تو ہماری نظریں بار بار موبائل کی اسکرین پر جاتی ہیں۔ ہم انتظار کرتے ہیں کہ سامنے والا کب ہمارا پیغام دیکھے گا اور کب جواب دے گا۔ اگر وہ جلدی جواب نہ دے تو ہمارے ذہن میں سوالات کا ایک سلسلہ شروع ہو جاتا ہے۔ کیا ہم اس شخص کے لیے غیر ضروری ہو گئے ہیں؟ کیا اس کے دل سے ہماری محبت ختم ہو گئی ہے؟ کیا وہ ہمارے بجائے کسی اور کے ساتھ مصروف ہے؟ اگر وہ اپنی مصروفیت کا بتا رہا ہے تو کیا واقعی مصروف ہے یا بات نہ کرنے کا بہانہ بنا رہا ہے؟ کیا وہ شخص بدل گیا ہے؟

یہ تمام سوالات ہمارے ذہن میں اس قدر جگہ بنا لیتے ہیں کہ ہم اپنی ذہنی سکون تک کھو بیٹھتے ہیں۔ ایک معمولی سی بات کو سوچ سوچ کر ہم اپنے لیے پریشانیوں کا پہاڑ کھڑا کر لیتے ہیں۔ حقیقت جانے بغیر کسی کے رویے کی تشریح شروع کر دیتے ہیں اور پھر انہی خیالات کی بنیاد پر اپنے تعلقات میں دوریاں پیدا کر لیتے ہیں۔

حالانکہ ممکن ہے کہ جس شخص کے جواب کا ہم انتظار کر رہے ہیں وہ کسی گھریلو پریشانی میں مبتلا ہو، کسی ضروری کام میں مصروف ہو، طبیعت ناساز ہو یا کسی ایسی مشکل سے گزر رہا ہو جس کا ہمیں علم ہی نہ ہو۔ یہ بھی ممکن ہے کہ اس نے پیغام دیکھ لیا ہو لیکن اس وقت جواب دینے کی ذہنی کیفیت میں نہ ہو۔ لیکن ہم اس کی مجبوری سمجھنے کے بجائے اپنے ذہن میں منفی کہانیاں تخلیق کرنے لگتے ہیں۔

بدگمانی کا سب سے بڑا نقصان یہ ہے کہ یہ انسان سے اس کا ذہنی سکون چھین لیتی ہے۔ ہم دوسروں کے رویوں کو اپنے لیے مسئلہ بنا لیتے ہیں۔ ایک شخص شاید اپنی زندگی میں معمول کے مطابق مصروف ہوتا ہے، لیکن ہم اس کے ایک جواب نہ دینے کو اپنی بے قدری سمجھ بیٹھتے ہیں۔ پھر یہی سوچ ہمارے لہجے میں تلخی پیدا کرتی ہے اور بعض اوقات ہم ایسے رشتوں کو بھی خراب کر دیتے ہیں جنہیں برسوں کی محبت اور خلوص سے بنایا ہوتا ہے۔

بدگمانی صرف واٹس ایپ کے پیغامات تک محدود نہیں بلکہ یہ ہمارے روزمرہ کے تعلقات میں بھی جگہ بنا لیتی ہے۔ کوئی سلام کا جواب نہ دے تو ہم سمجھتے ہیں کہ اسے غرور آ گیا ہے۔ کوئی محفل میں بات نہ کرے تو ہم اسے اپنی بے عزتی سمجھ لیتے ہیں۔ کوئی ہماری دعوت قبول نہ کر سکے تو ہم اس کے خلوص پر شک کرنے لگتے ہیں۔ یوں ہم دوسروں کے حالات جانے بغیر ان کے بارے میں فیصلے صادر کر دیتے ہیں۔

ہمیں یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ ہر شخص ہر وقت ہمارے لیے دستیاب نہیں ہو سکتا۔ ہر کسی کی اپنی مصروفیات، ذمہ داریاں اور مسائل ہوتے ہیں۔ ضروری نہیں کہ ہر خاموشی بے رخی ہو اور ہر تاخیر بے اعتنائی کی علامت ہو۔ بعض اوقات خاموشی کے پیچھے ایسی مجبوریاں ہوتی ہیں جن سے ہم بالکل ناواقف ہوتے ہیں۔

بدگمانی کا ایک اور پہلو یہ بھی ہے کہ یہ ہمارے اندر بے اعتمادی کو جنم دیتی ہے۔ ہم دوسروں کی نیتوں پر شک کرنے لگتے ہیں، ان کے اچھے رویوں کو بھی شک کی نگاہ سے دیکھتے ہیں اور رفتہ رفتہ اپنے قریبی لوگوں سے بھی بدظن ہو جاتے ہیں۔ اس طرح ایک ایسا فاصلہ پیدا ہو جاتا ہے جسے ختم کرنے میں کبھی کبھی برسوں لگ جاتے ہیں۔

ہمیں چاہیے کہ کسی کے بارے میں رائے قائم کرنے سے پہلے حقیقت جاننے کی کوشش کریں۔ اگر کوئی بات پریشان کر رہی ہے تو بدگمانی پالنے کے بجائے براہِ راست اور اچھے انداز میں پوچھ لیں۔ اگر جواب نہ ملے تو کچھ وقت انتظار کر لیں۔ ہر بات کو اپنی ذات سے جوڑنا اور ہر رویے کو اپنی بے قدری سمجھنا بھی درست نہیں۔

زندگی بہت مختصر ہے۔ اسے دوسروں کے رویوں کی تشریح کرتے اور منفی خیالات میں الجھ کر گزارنے کے بجائے محبت، اعتماد اور اچھے گمان کے ساتھ گزارنا چاہیے۔ ہمیں دوسروں کے لیے آسانیاں پیدا کرنی چاہئیں، نہ کہ اپنے ذہن میں ان کے خلاف ایسی باتیں جمع کرنی چاہئیں جن کا حقیقت سے کوئی تعلق ہی نہ ہو۔

بدگمانی پہلے ہمارے اپنے ذہن کو پریشان کرتی ہے، پھر ہمارے رویوں میں تلخی پیدا کرتی ہے اور بالآخر ہمارے خوبصورت رشتوں کو متاثر کرتی ہے۔ اس لیے کسی کے بارے میں برا سوچنے سے پہلے ایک لمحے کے لیے خود سے ضرور پوچھیے کہ کیا میرے پاس اپنے گمان کو سچ ثابت کرنے کی کوئی ٹھوس وجہ بھی ہے یا میں صرف اپنی سوچ کی بنیاد پر کسی کو قصوروار ٹھہرا رہا ہوں؟

ہمیں اپنی سوچ کو مثبت بنانا ہوگا، دوسروں کی مجبوریوں کو سمجھنا ہوگا اور اپنے دلوں میں ایک دوسرے کے لیے گنجائش پیدا کرنی ہوگی۔ کیونکہ ضروری نہیں کہ ہر شخص ہمیں ہر وقت جواب دے، لیکن یہ ضرور ضروری ہے کہ ہم کسی کے بارے میں فیصلہ کرنے سے پہلے اس کا موقف جاننے کی کوشش کریں۔

کیونکہ اچھا گمان دلوں کو جوڑتا ہے، جبکہ بدگمانی دلوں میں فاصلے پیدا کر دیتی ہے۔