Baaghi TV Logo
ٹرینڈنگ

بدلتے موسم میں غذا کی اہمیت ،تحریر:ڈاکٹر نازیہ ندیم

dr nazia nadeem

جب ستمبر کے آخری ایام میں سورج کی تپش مدہم پڑنے لگتی ہے اور شام کے دامن میں خنک ہوا کے ہلکے جھونکے انگڑائی لیتے ہیں، تو بظاہر فضا بڑی دل آویز محسوس ہوتی ہے۔ فطرت کا یہ عبوری دور گرمی کے حبس سے نجات کا پیامبر بن کر آتا ہے، مگر انسان کے اندرونی نظام کے لیے یہی وہ لمحہ ہوتا ہے جہاں ایک خاموش کشمکش شروع ہو جاتی ہے۔ برصغیر کے اس خطے میں جب پنکھے کی ہوا صبح کے وقت بوجھل لگنے لگے اور رات کے پچھلے پہر چادر اوڑھنے کی ضرورت پیش آئے، تو انسانی جسم اپنے اندرونی توازن کو برقرار رکھنے کے لیے جدوجہد میں مصروف ہو جاتا ہے۔ المیہ یہ ہے کہ ہم اس ظاہری خوشگواری میں کھو کر اپنے روزمرہ کے معمولات کو گرمیوں کی طرز پر ہی چلائے رکھتے ہیں، اور اس بے دھیانی کا سب سے پہلا اور شدید شکار ہمارا نظامِ انہضام بنتا ہے۔

طبی نقطۂ نظر سے جب موسم بدلتا ہے تو فضا کے درجہ حرارت اور نمی میں آنے والی تبدیلی براہِ راست ہمارے ہاضمے اور میٹابولزم کی رفتار کو دھیما کر دیتی ہے۔ گرمیوں میں جسم کو پانی کی وافر طلب رہتی ہے اور معدہ رقیق اشیاء کو تیزی سے نبٹاتا ہے، مگر جیسے ہی خنکی کا آغاز ہوتا ہے، پیاس کم ہو جاتی ہے اور ہاضمے کے خامرے اپنی چستی کھو دیتے ہیں۔ انہی دنوں میں پیٹ کا پھولنا، غذا کا گھنٹوں معدے میں اٹکا رہنا، کھٹی ڈکاریں، متلی اور آنتوں کی سستی جیسی شکایات گھر گھر پھیل جاتی ہیں۔ معدے کی یہ خرابی محض پیٹ تک محدود نہیں رہتی، بلکہ اس کا براہِ راست اثر ہمارے اعصابی نظام پر پڑتا ہے۔ انسانی جسم میں معدہ اور دماغ آپس میں اعصاب کی ایک انتہائی حساس ڈوری سے جڑے ہوئے ہیں جسے جدید سائنس گٹ برین ایکسس کہتی ہے۔ جب آنتوں میں خمیر اور گیس بنتی ہے تو اعصاب میں کھنچاؤ، سر میں بوجھل پن، نیند میں بے چینی اور پٹھوں کا درد جنم لیتا ہے، جس سے مریض ایک ناقابلِ بیان جسمانی و ذہنی کمزوری کا شکار ہو جاتا ہے۔

اس نازک موڑ پر مہنگی ادویات اور مسکن گولیوں کے بجائے صرف اور صرف درست غذا ہی وہ حقیقی ڈھال ہے جو معدے کو بحال اور اعصاب کو توانائی فراہم کر سکتی ہے۔ المیہ یہ ہے کہ لوگ موسم بدلنے کے باوجود فریج کا ٹھنڈا پانی، مصالحے دار تلی ہوئی غذائیں اور بازاری فاسٹ فوڈ جاری رکھتے ہیں۔ یہ ٹھنڈا اور چکنائی سے لدا کھانا کمزور ہاضمے کے لیے زہرِ قاتل ثابت ہوتا ہے۔ اس موسم میں کچن کی فطری غذائیت ہی سب سے بڑی رہنمائی کرتی ہے۔ ابلی ہوئی اور شوربے دار غذائیں، تازہ موسمی سبزیاں جیسے کدو، توری، گاجر اور شلجم معدے پر بوجھ ڈالے بغیر آنتوں کی صفائی کرتی ہیں۔ ادرک، دار چینی، سفید زیرہ اور پودینہ محض کھانوں کی خوشبو کے لیے نہیں ہیں بلکہ یہ گیس کو تحلیل کرنے اور اعصابی تناؤ کو کم کرنے کا قدرتی تریاق ہیں۔ جب معدے کو ہلکی، زود ہضم اور حرارت بخش غذا ملتی ہے تو اعصابی نظام سے بوجھ اتر جاتا ہے اور جسمانی کمزوری خود بخود دور ہونے لگتی ہے۔

اس موسم کی سب سے بڑی ضرورت ہائیڈریشن کا درست انتظام ہے۔ چونکہ پیاس کا احساس کم ہو جاتا ہے، اس لیے ہم نادانستہ طور پر اپنے خلیات کو پانی سے محروم کر دیتے ہیں جس سے خون گاڑھا ہوتا ہے اور قبض کی شکایت سر اٹھاتی ہے۔ دن میں وقفے وقفے سے نیم گرم پانی پینا، ادرک اور شہد کا ہلکا قہوہ استعمال کرنا، اور شام کے وقت دیسی مرغ یا ہڈیوں کی یخنی لینا جسم میں وہ نمکیات اور پروٹین بحال کرتا ہے جو تھکن کا قلع قمع کر دیتے ہیں۔ خشک میوہ جات جیسے بادام اور اخروٹ، اور بیجوں میں السی اور سفید تل اعصاب کو ضروری چکنائی فراہم کرتے ہیں تاکہ موسم کی خشک ہوا ہڈیوں اور جوڑوں کے گودے کو متاثر نہ کر سکے۔

معدے، اعصاب اور جسمانی توانائی کی تمام ضروریات کو متوازن رکھنے کے لیے روزمرہ کا ایک جامع اور متوازن شیڈول اپنانا بے حد کارآمد رہتا ہے۔ صبح بیدار ہوتے ہی ایک گلاس نیم گرم پانی میں چند قطرے لیموں اور ایک چمچ خالص شہد گھول کر پینے سے رات بھر کے فاسد مادے خارج ہوتے ہیں اور معدہ نرم پڑتا ہے۔ ناشتے کے لیے ایک ابلا ہوا دیسی انڈا، چکی کے آٹے کی پتلی روٹی یا جو کا گرم دلیہ، اور ساتھ میں ادرک و دار چینی کا ایک کپ قہوہ دن کے آغاز پر اعصاب کو حرارت اور توانائی بخشتا ہے۔ دوپہر کے وقت ایک تازہ موسمی امرود یا مسمی کا استعمال وٹامن سی کی کمی پوری کر کے قوتِ مدافعت کو جلا بخشتا ہے۔ دوپہر کے کھانے میں توری، لوکی یا مونگ کی پتلی دال شوربے دار صورت میں گندم کی ایک روٹی کے ساتھ کھانا معدے کے نظام کو پرسکون رکھتا ہے اور ہاضمے کو مشقت سے بچاتا ہے۔ عصر کے وقت چند دانے بادام، دو اخروٹ اور مٹھی بھر بھنے چنے اعصابی کمزوری اور پٹھوں کے اکڑاؤ کا سدباب کرتے ہیں۔ رات کا کھانا غروبِ آفتاب کے فوراً بعد دیسی مرغ کی یخنی، مٹن کا پتلا شوربہ اور آدھی روٹی کی صورت میں لینا چاہیے تاکہ سونے سے قبل کھانا مکمل ہضم ہو سکے۔ رات بستر پر جانے سے پہلے ایک کپ نیم گرم دودھ میں چٹکی بھر ہلدی یا گڑ کی چھوٹی سی ڈلی شامل کر کے پینا گلے کی خراش، معدے کی سوزش اور دن بھر کی اعصابی تھکن کو مٹا کر ایک پرسکون اور گہری نیند کی ضمانت بن جاتا ہے۔ جب ہم خوراک کو موسم کی پکار کے ساتھ ہم آہنگ کر لیتے ہیں تو بیماری راستہ بدل لیتی ہے اور صحت ہمارا دائمی مقدر بن جاتی ہے۔