منگل، 27 اکتوبر، 2026
Baaghi TV Logo
ٹرینڈنگ

بزرگ، گھر کی رونق،تحریر : سدرہ قیوم

نقطہ نظر

ہمارے ہاں ایک پرانا جملہ بزرگوں کی زبان سے اکثر سننے کو ملتا ہے: "بزرگ گھر کی رونق ہوتے ہیں۔" یہ جملہ اتنی بار دہرایا گیا ہے کہ اب اس کی معنویت پر ہم رک کر سوچتے ہی نہیں۔ حالانکہ اس ایک جملے میں ایک پوری تہذیب سانس لیتی ہے۔

رونق کا مطلب صرف روشنی، شور یا چہل پہل نہیں۔ رونق وہ احساس ہے جو گھر کو گھر بناتا ہے۔ اینٹ، گارے اور سیمنٹ سے مکان بنتا ہے، مگر مکان کو گھر وہ وجود بناتا ہے جس کی موجودگی سے دل کو قرار ملے۔ بزرگ ایسا ہی وجود ہوتے ہیں۔ ان کی کھانسی کی آواز رات کے سناٹے میں تحفظ کا احساس دیتی ہے، ان کی تسبیح کے دانوں کی کھٹ کھٹ میں دعاؤں کی گونج ہوتی ہے، اور ان کی چارپائی کے گرد بیٹھنے والے بچے دراصل تاریخ کی کلاس میں بیٹھے ہوتے ہیں۔

بزرگوں کے پاس وہ علم ہے جو کسی یونیورسٹی کے نصاب میں نہیں ملتا۔ انہوں نے زندگی کو کتابوں سے نہیں، دھوپ چھاؤں سے سیکھا ہے۔ انہوں نے قحط بھی دیکھے ہیں اور خوشحالی بھی، ہجرتوں کے دکھ بھی سہے ہیں اور آبادکاری کی مشقتیں بھی۔ ان کا ایک جملہ بعض اوقات پوری کتاب پر بھاری ہوتا ہے۔ جب گھر میں کوئی الجھن آ پڑتی ہے، کوئی رشتہ ٹوٹنے لگتا ہے یا کوئی فیصلہ مشکل ہو جاتا ہے، تو بزرگ کی ٹھنڈی اور ٹھہری ہوئی رائے الجھی ڈور کو سلجھا دیتی ہے۔ وہ جذبات کی شدت میں نہیں بہتے، کیونکہ وقت نے انہیں ٹھہراؤ سکھا دیا ہے۔

دادی اور نانی کی کہانیاں محض وقت گزاری نہیں ہوتیں۔ ان میں اخلاق کے سبق، تہذیب کی روایات اور خاندان کی تاریخ پوشیدہ ہوتی ہے۔ جس بچے نے اپنے دادا سے یہ سنا ہو کہ پرانے وقتوں میں پڑوسی کے گھر کا چولھا ٹھنڈا ہوتا تو پورا محلہ بھوکا سوتا تھا، اس کے دل میں ہمدردی کا بیج خود بخود پڑ جاتا ہے۔ آج کے بچے کو موبائل کی اسکرین پر ہزاروں کہانیاں مل جاتی ہیں، مگر وہ کہانی نہیں ملتی جس میں سنانے والے کی آواز کانپتی ہو، آنکھوں میں نمی ہو اور ہاتھ ماتھے پر شفقت سے پھر رہا ہو۔

ہمارے معاشرے میں یہ یقین بجا طور پر موجود ہے کہ بزرگوں کی دعائیں گھر کے گرد حصار کا کام کرتی ہیں۔ ماں باپ کی رضا کو جنت کا دروازہ کہا گیا ہے۔ قرآنِ کریم نے والدین کے سامنے "اُف" تک کہنے سے منع فرمایا اور ان کے لیے نرمی اور عاجزی کے ساتھ جھکے رہنے کا حکم دیا۔ یہ محض اخلاقی نصیحت نہیں، ایک مکمل سماجی نظام کی بنیاد ہے جس میں کمزور اور ضعیف کو بوجھ نہیں، برکت سمجھا جاتا ہے۔

افسوس کہ آج یہ منظر بدل رہا ہے۔ مشترکہ خاندانی نظام سمٹ رہا ہے۔ روزگار کی تلاش میں نوجوان شہروں اور ملکوں کی طرف نکل جاتے ہیں اور بوڑھے والدین پیچھے اکیلے رہ جاتے ہیں۔ جو ساتھ رہتے ہیں، ان میں بھی بہت سے گھروں میں بزرگ ایک کونے میں سمٹ کر رہ گئے ہیں۔ ان کی بات سننے کے لیے کسی کے پاس وقت نہیں۔ ان کی نصیحت "پرانے زمانے کی باتیں" کہہ کر ٹال دی جاتی ہے۔ ان کی بیماری کو بوجھ اور ان کے سوالوں کو مداخلت سمجھا جانے لگا ہے۔ ہمارے شہروں میں اولڈ ایج ہومز کا بڑھنا، جو کبھی ہماری روایت کا حصہ ہی نہ تھے، ایک خاموش سماجی المیے کی علامت ہے۔

سب سے بڑا دکھ تنہائی کا ہے۔ بزرگ کو روٹی، دوا اور کپڑا تو شاید مل جاتا ہو، مگر جس چیز کی انہیں سب سے زیادہ ضرورت ہوتی ہے، یعنی توجہ، وہ سب سے کم ملتی ہے۔ کوئی ان کے پاس بیٹھ کر حال پوچھے، پرانی باتیں سنے، ان کی بات پر ہنسے، یہ چھوٹی چھوٹی چیزیں ان کے لیے دوا سے بڑھ کر ہیں۔

بزرگوں کی خدمت کوئی احسان نہیں، قرض ہے۔ جس ہاتھ نے ہمیں چلنا سکھایا، اس ہاتھ کو سہارا دینا ہمارا فرض ہے۔ جس زبان نے ہمیں پہلا لفظ سکھایا، اس کی بات صبر سے سننا ہمارا حق ادا کرنا ہے۔ چند باتیں اگر ہم اپنا لیں تو بہت فرق پڑ سکتا ہے:

روزانہ کچھ وقت صرف بزرگوں کے ساتھ بیٹھنے کے لیے مخصوص کیا جائے، بغیر موبائل کے۔

گھر کے فیصلوں میں ان کی رائے لی جائے، تاکہ انہیں اپنی اہمیت کا احساس رہے۔

بچوں کو ان کے ساتھ وقت گزارنے کی ترغیب دی جائے۔

ان کی صحت کا باقاعدگی سے خیال رکھا جائے اور ان کی چھوٹی چھوٹی خواہشوں کو اہمیت دی جائے۔

جو بزرگ دور ہیں، ان سے فون اور ملاقات کا رشتہ زندہ رکھا جائے۔

بزرگوں کے بغیر گھر ایسا ہے جیسے پھل دار درخت کے بغیر باغ، جس کی چھاؤں اٹھ جائے تو دھوپ کی شدت کا اندازہ ہوتا ہے۔ جب تک وہ ہمارے درمیان ہیں، ان کی قدر کر لینی چاہیے، کیونکہ جب وہ رخصت ہوتے ہیں تو صرف ایک فرد نہیں جاتا، ایک پورا کتب خانہ، ایک دعاؤں کا خزانہ اور ایک شفقت بھرا سایہ اٹھ جاتا ہے۔ پھر لوگ برسوں ان کی خالی چارپائی کو دیکھ کر سوچتے ہیں کہ کاش کچھ وقت اور مل جاتا، کاش کچھ باتیں اور سن لی ہوتیں۔

اس پچھتاوے سے بچنے کا ایک ہی طریقہ ہے: آج، ابھی، اپنے گھر کے بزرگ کے پاس جا کر بیٹھ جائیں۔ یقین کیجیے، رونق صرف ان کے گھر کی نہیں، آپ کی اپنی زندگی کی بھی بڑھ جائے گی۔