پیر، 2 نومبر، 2026
Baaghi TV Logo
ٹرینڈنگ

بیٹی بوجھ نہیں،تحریر:شہزاد خان

نقطہ نظر

گاؤں کے ایک چھوٹے سے مکان میں سلیم اپنی بیوی زینب اور دو بچوں کے ساتھ رہتا تھا۔ اس کے گھر میں خوشیوں کی کمی نہیں تھی، مگر ایک خواہش ایسی تھی جو اس کے دل میں برسوں سے پل رہی تھی۔ وہ چاہتا تھا کہ اس کے گھر ایک بیٹا پیدا ہو جو اس کے بڑھاپے کا سہارا بنے، اس کے نام کو آگے بڑھائے اور خاندان کی عزت میں اضافہ کرے۔ زینب اکثر اسے سمجھاتی کہ اولاد اللہ کی نعمت ہوتی ہے، چاہے بیٹا ہو یا بیٹی، مگر سلیم کی سوچ پر معاشرے کی روایات کا گہرا اثر تھا۔


سلیم کی پہلے سے دو بیٹیاں تھیں۔ بڑی بیٹی عائشہ دس سال کی تھی اور چھوٹی بیٹی مریم سات سال کی۔ دونوں ذہین، فرمانبردار اور اپنے والد سے بے حد محبت کرنے والی تھیں۔ وہ صبح اسکول جاتیں، واپس آکر گھر کے کاموں میں ماں کا ہاتھ بٹاتیں اور شام کو اپنے والد کے آنے کا انتظار کرتیں۔ عائشہ اکثر اپنے باپ کے لیے پانی کا گلاس لے کر آتی، جبکہ مریم اپنی ننھی ننھی باتوں سے اس کا دل بہلانے کی کوشش کرتی۔ مگر سلیم ان کی محبت کو وہ اہمیت نہیں دیتا تھا جس کی وہ مستحق تھیں۔


ایک دن زینب نے سلیم کو بتایا کہ وہ دوبارہ ماں بننے والی ہے۔ یہ خبر سن کر سلیم بہت خوش ہوا۔ اس نے فوراً کہا کہ اس مرتبہ اسے یقین ہے کہ اللہ اسے بیٹا عطا کرے گا۔ اس نے گھر میں مٹھائی بانٹنے اور دوستوں کو دعوت دینے کے منصوبے بھی بنا لیے۔ عائشہ اور مریم نے بھی خوشی سے اپنی ماں کو گلے لگایا۔ مریم نے معصومیت سے پوچھا کہ امی، اس مرتبہ بھی ہماری بہن آئے گی یا ہمارا بھائی۔ زینب نے مسکرا کر جواب دیا کہ جو بھی آئے گا، وہ تمہارا پیارا سا بہن یا بھائی ہوگا۔


وقت گزرتا گیا اور زینب نے ایک خوبصورت بیٹی کو جنم دیا۔ اسپتال میں جب نرس نے سلیم کو بتایا کہ اس کے ہاں بیٹی پیدا ہوئی ہے تو اس کے چہرے کی خوشی اچانک ماند پڑ گئی۔ وہ خاموشی سے ایک طرف بیٹھ گیا۔ اسے ایسا محسوس ہوا جیسے اس کی تمام امیدیں ختم ہوگئی ہوں۔ زینب نے جب اس کی خاموشی دیکھی تو اس کی آنکھوں میں آنسو آگئے۔ وہ جانتی تھی کہ اس کے شوہر کو بیٹے کی خواہش تھی، مگر وہ اپنی نومولود بیٹی کو دیکھ کر دل ہی دل میں اللہ کا شکر ادا کر رہی تھی۔


گھر واپسی پر سلیم نے بچی کو گود میں لینے سے بھی گریز کیا۔ اس نے کہا کہ پہلے ہی دو بیٹیاں ہیں، اب تیسری بھی آگئی۔ گھر کے اخراجات کون اٹھائے گا، ان کی شادیاں کیسے ہوں گی اور ان کے لیے جہیز کہاں سے آئے گا۔ زینب نے دکھ بھرے لہجے میں کہا کہ بچیاں اللہ کی رحمت ہوتی ہیں، انہیں بوجھ سمجھنا ہماری اپنی سوچ کی کمزوری ہے۔ مگر سلیم نے اس کی بات پر کوئی توجہ نہ دی۔


عائشہ اور مریم اپنی چھوٹی بہن کو دیکھ کر بہت خوش تھیں۔ انہوں نے اس کا نام فاطمہ رکھا۔ دونوں بہنیں اس کے اردگرد بیٹھی رہتیں اور کبھی اس کے ننھے ہاتھ چومتیں تو کبھی اس کی مسکراہٹ دیکھ کر خوش ہوتیں۔ عائشہ نے ایک دن اپنے والد سے کہا کہ ابو، فاطمہ بہت پیاری ہے، آپ اسے گود میں کیوں نہیں لیتے۔ سلیم نے غصے سے جواب دیا کہ تم لوگ جاؤ اور اپنا کام کرو۔ اس کی بات سن کر عائشہ کی آنکھیں نم ہوگئیں، مگر اس نے اپنی چھوٹی بہن کے سامنے آنسو نہیں بہائے۔


دن گزرتے گئے۔ عائشہ پڑھائی میں بہت اچھی تھی۔ اس کے اساتذہ ہمیشہ اس کی ذہانت کی تعریف کرتے۔ ایک دن اسکول میں تقریری مقابلے کا اعلان ہوا جس کا موضوع تھا، عورت کی تعلیم اور معاشرے میں اس کا کردار۔ عائشہ نے اس مقابلے میں حصہ لینے کا فیصلہ کیا۔ اس نے کئی دن محنت کی اور اپنی تقریر تیار کی۔ مقابلے کے دن اس نے اتنے خوبصورت انداز میں گفتگو کی کہ پورا ہال تالیوں سے گونج اٹھا۔ اسے پہلی پوزیشن ملی اور انعام میں تعلیمی وظیفہ بھی دیا گیا۔


جب عائشہ گھر پہنچی تو اس نے خوشی سے اپنا انعام ماں کو دکھایا۔ زینب نے اسے سینے سے لگا لیا اور کہا کہ بیٹا، تم نے میرا سر فخر سے بلند کردیا۔ سلیم بھی گھر میں موجود تھا۔ اس نے انعام دیکھا تو پہلی مرتبہ اس کے چہرے پر ہلکی سی مسکراہٹ آئی، لیکن اس نے اپنی خوشی کا اظہار نہیں کیا۔ عائشہ نے خاموشی سے انعام سنبھال کر رکھ دیا۔


چند سال بعد عائشہ نے اسکول کی تعلیم مکمل کی اور میڈیکل کالج میں داخلہ لے لیا۔ اس کے تعلیمی اخراجات کے لیے وظیفہ کافی حد تک مددگار ثابت ہوا۔ وہ دن رات محنت کرتی اور اپنی ماں سے کہتی کہ ایک دن وہ ڈاکٹر بن کر غریب لوگوں کا مفت علاج کرے گی۔ مریم بھی تعلیم میں آگے بڑھ رہی تھی اور فاطمہ اب اسکول جانے لگی تھی۔ تینوں بہنوں میں بے حد محبت تھی۔


ادھر سلیم کا کاروبار مسلسل نقصان میں جا رہا تھا۔ اس نے کئی لوگوں سے قرض لے رکھا تھا۔ ایک دن اچانک اسے شدید سینے میں درد ہوا اور وہ بے ہوش ہوکر گر پڑا۔ زینب نے پڑوسیوں کی مدد سے اسے اسپتال پہنچایا۔ ڈاکٹروں نے معائنے کے بعد بتایا کہ اسے دل کا دورہ پڑا ہے اور فوری علاج کی ضرورت ہے۔ سلیم کے گھر والوں پر پریشانی کے پہاڑ ٹوٹ پڑے۔ علاج کے اخراجات بہت زیادہ تھے اور ان کے پاس اتنی رقم موجود نہیں تھی۔


عائشہ کو جب خبر ملی تو وہ فوراً کالج سے اسپتال پہنچی۔ اس نے اپنے والد کی حالت دیکھی تو اس کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے۔ اس نے ڈاکٹر سے علاج کے بارے میں تفصیل معلوم کی اور اپنی جمع کی ہوئی رقم والد کے علاج کے لیے پیش کردی۔ اس نے اپنے چند اساتذہ اور دوستوں سے بھی رابطہ کیا اور باقی رقم کا انتظام کرنے کی کوشش کی۔ مریم نے بھی اپنی چھوٹی سی جمع پونجی ماں کے ہاتھ میں رکھ دی۔ فاطمہ اپنے والد کے بستر کے پاس بیٹھ کر ان کے لیے دعا کرتی رہی۔


کچھ دنوں کی مسلسل کوششوں کے بعد سلیم کی طبیعت بہتر ہونے لگی۔ جب اسے ہوش آیا تو اس نے اپنے بستر کے قریب عائشہ کو بیٹھے دیکھا۔ وہ اس کے ہاتھ میں پانی کا گلاس لیے اس کی خدمت کر رہی تھی۔ مریم دوائیں ترتیب دے رہی تھی اور فاطمہ خاموشی سے اس کے پاؤں دبا رہی تھی۔ سلیم کی آنکھوں سے آنسو نکل پڑے۔ اس نے اپنی بیوی کو قریب بلایا اور بھرائی ہوئی آواز میں کہا کہ میں ساری زندگی بیٹے کی خواہش کرتا رہا، مگر آج میری بیٹیوں نے ثابت کردیا کہ محبت، خلوص اور خدمت کا کوئی صنف نہیں ہوتی۔


زینب نے نرمی سے کہا کہ اولاد اللہ کی امانت ہے۔ ہم اسے اپنی خواہشات کے ترازو میں نہیں تول سکتے۔ بیٹیاں کسی باپ پر بوجھ نہیں ہوتیں، بلکہ وہ گھر کی رونق، ماں باپ کی محبت اور خاندان کی عزت ہوتی ہیں۔ سلیم نے اپنی بیٹیوں کو قریب بلایا اور ان سے معافی مانگی۔ اس نے عہد کیا کہ اب وہ کبھی کسی بیٹی کو بوجھ نہیں سمجھے گا اور ان کی تعلیم و تربیت میں کوئی کمی نہیں چھوڑے گا۔


عائشہ نے اپنے والد کا ہاتھ تھام کر کہا کہ ابو، ہمیں آپ سے دولت یا جائیداد نہیں چاہیے، ہمیں صرف آپ کی محبت اور حوصلہ افزائی چاہیے۔ آپ ہمارا ساتھ دیں گے تو ہم زندگی میں بہت کچھ کر سکتی ہیں۔ سلیم نے تینوں بیٹیوں کو سینے سے لگا لیا۔ اس دن اسے احساس ہوا کہ جس بیٹے کو وہ بڑھاپے کا سہارا سمجھتا تھا، اس کی بیٹیوں نے ہی مشکل وقت میں اس کا ہاتھ تھاما تھا۔


چند سال بعد عائشہ ایک کامیاب ڈاکٹر بن گئی، مریم نے اعلیٰ تعلیم حاصل کرکے استاد بننے کا خواب پورا کیا اور فاطمہ بھی اپنی تعلیم میں نمایاں کامیابیاں حاصل کرنے لگی۔ سلیم اب ہر جگہ فخر سے اپنی بیٹیوں کا ذکر کرتا تھا۔ وہ لوگوں کو سمجھاتا کہ اولاد کی قدر اس کی جنس سے نہیں بلکہ اس کے کردار، تربیت اور محبت سے کی جانی چاہیے۔


اس نے اپنی زندگی کے تجربے سے یہ سیکھ لیا تھا کہ بیٹی پیدا ہونا کسی خاندان کی محرومی نہیں بلکہ ایک خوبصورت نعمت ہے۔ بیٹی اگر تعلیم یافتہ ہو تو وہ خاندان کی پہچان بنتی ہے، اگر باصلاحیت ہو تو معاشرے کی ترقی میں کردار ادا کرتی ہے اور اگر محبت کرنے والی ہو تو والدین کے بڑھاپے کا مضبوط سہارا بن جاتی ہے۔


حقیقت یہی ہے کہ بیٹی بوجھ نہیں ہوتی، بوجھ تو وہ سوچ ہوتی ہے جو اسے بیٹے سے کم سمجھتی ہے۔ جس گھر میں بیٹیوں کو عزت، تعلیم اور محبت دی جاتی ہے، وہاں خوشیوں کے چراغ کبھی مدھم نہیں ہوتے۔ والدین کو چاہیے کہ اپنی بیٹیوں کے خوابوں کو پر لگائیں، ان کے راستوں میں رکاوٹیں نہ بنیں، کیونکہ بیٹیاں صرف گھر نہیں سنبھالتیں بلکہ نسلوں کی تقدیر بھی بدل سکتی ہیں۔


ختم شد