امریکی خارجہ پالیسی انتخابات کے بعد بھی بنیادی سمت تبدیل ہونے کی توقع نہ رکھیں،تجزیہ: شہزاد قریشی
نقطہ نظر
.امریکی انتخابات، خارجہ پالیسی میں تبدیلی کی امیدیں دم توڑ گئیں واشنگٹن کے اسٹریٹجک مفادات بدستور مقدم رہیں گے
.عالمی طاقتیں خوش فہمی سے نکلیں امریکی خارجہ پالیسی میں فوری تبدیلی کی توقع قبل از وقت ہے
تجزیہ شہزاد قریشی
بین الاقوامی سیاست کا ایک بنیادی اصول ہے کہ خارجہ پالیسی محض انتخابی نتائج یا حکومتوں کی تبدیلی سے یکسر تبدیل نہیں ہوتی۔ جو ممالک یہ امید لگائے بیٹھے ہیں کہ امریکی انتخابات کے بعد واشنگٹن کی خارجہ پالیسی میں کوئی بڑی تبدیلی آئے گی، انہیں فی الحال ایسی توقعات قائم نہیں کرنی چاہییں۔ امریکہ کی خارجہ پالیسی کا تعین صرف وائٹ ہاؤس میں بیٹھنے والی شخصیت نہیں کرتی، بلکہ اس کے پیچھے قومی مفادات، عالمی اسٹریٹجک ترجیحات، دفاعی تقاضے، معاشی مفادات، کانگریس اور بین الاقوامی طاقتوں کے ساتھ تعلقات کا ایک وسیع نظام موجود ہے۔ صدر تبدیل ہو سکتا ہے، سیاسی ترجیحات کے اظہار کا انداز بدل سکتا ہے، لیکن امریکی مفادات کا بنیادی ڈھانچہ عموماً برقرار رہتا ہے۔ آج کے عالمی حالات میں مشرقِ وسطیٰ، ایران، اسرائیل، یوکرین، روس اور چین کے ساتھ امریکی تعلقات ایسے معاملات ہیں جنہیں محض انتخابی نتائج کے تناظر میں نہیں دیکھا جا سکتا۔ 2026 کے امریکی وسط مدتی انتخابات میں ڈیموکریٹس نے کانگریس کے دونوں ایوانوں میں کامیابی حاصل کی ہے، لیکن اس کے باوجود صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے پاس خارجہ پالیسی اور قومی سلامتی کے معاملات میں وسیع اختیارات برقرار ہیں۔ کانگریس نگرانی، بجٹ اور قانون سازی کے ذریعے اثرانداز ضرور ہو سکتی ہے، مگر فوری طور پر امریکی پالیسی کا رخ تبدیل ہونا لازمی نہیں۔
مزید پڑھیں



