شبِ ہجر میں دل پہ یلغار کیا تھی،شاعرہ:ردا فاطمہ اعوان
نقطہ نظر
مصنف:
شبِ ہجر میں دل پہ یلغار کیا تھی
بتا رت جگوں کی وہ تکرار کیا تھی
وہ آنکھوں میں ٹھہرا ہوا خوابِ نایاب
وہ لہجے میں پنہاں سی للکار کیا تھی
ہمیں نیند سے کیوں عداوت ہوئی تھی
ترے ہجر کی یہ تپش دار کیا تھی
وہ مل کر بھی ہم سے تو تھا اجنبی سا
نگاہوں میں حائل وہ دیوار کیا تھی
لبوں پر تبسم، نگاہوں میں صحرا
بتا اس ادا کی وہ مہکار کیا تھی
ترے روٹھ جانے کا غم تو سہا تھا
مگر دل میں اٹھتی وہ جھنکار کیا تھی؟
رداؔ دل نے جس کے لیے خود کو ہارا
بتا اُس محبت کی مقدار کیا تھی
مزید پڑھیں



