بدھ، 28 اکتوبر، 2026
Baaghi TV Logo
ٹرینڈنگ

دورِ حاضر میں تعلیم کا معیار،تحریر:عظمیٰ شیخ

نقطہ نظر

​تعلیم کسی بھی تہذیب کی فکری دھڑکن اور اس کے بقا کا ضامن ہوتی ہے۔ جب کسی معاشرے میں تعلیم کا معیار زوال پذیر ہوتا ہے، تو وہ معاشرہ بحرانِ زر کے ساتھ ساتھ بحرانِ فکر کا بھی شکار ہو جاتا ہے۔ دورِ حاضر میں جب ہم تعلیمی اداروں اور نظامِ تعلیم کا طائرانہ جائزہ لیتے ہیں، تو یہ تلخ حقیقت عیاں ہوتی ہے کہ ہم نے تعلیم کے آفاقی اور فلسفیانہ مقاصد کو پسِ پشت ڈال کر اسے محض ایک تجارتی منڈی اور نوکری حاصل کرنے کا لائسنس بنا دیا ہے۔ فلسفہِ تعلیم کی تاریخ بتاتی ہے کہ سقراط سے لے کر اقبال تک، تمام مفکرین نے اس بات پر زور دیا کہ تعلیم انسان کے اندر موجود پوشیدہ جوہرِ قابل کو جلا بخشتی ہے اور اسے کائنات، حیات اور خود اپنے وجود سے آگاہ کرتی ہے۔ سقراطی طریقۂ تدریس سوال اٹھانے اور تنقیدی شعور کو بیدار کرنے پر مبنی تھا۔ مگر دورِ حاضر کے تعلیمی نظام نے اس فلسفے کو دفن کر کے طلباء کو ایسے روبوٹس میں بدل دیا ہے جو سوال کرنے کی صلاحیت سے عاری اور محض معلومات کو رٹنے کے عادی ہو چکے ہیں۔ جرمن فلسفی عمانویل کانٹ کے نزدیک تعلیم کا مقصد انسان کی فکری نابالغی کا خاتمہ اور اسے خود مختار عقل عطا کرنا ہے، لیکن آج کا تعلیمی نظام انسان کو فکری طور پر بالغ کرنے کے بجائے اسے ایک ایسی دوڑ میں دھکیل دیتا ہے جہاں اس کا مقصد صرف نمبروں کی بازی جیتنا رہ جاتا ہے۔


​اگر ہم آج کے تعلیمی منظرنامے پر اعداد و شمار اور تحقیقی زاویے سے نظر دوڑائیں تو یہ تضاد واضح نظر آتا ہے کہ تعلیمی ادارے اب تحقیق گاہیں نہیں بلکہ طوطا بنانے کی فیکٹریاں بن چکے ہیں۔ امتحان پاس کرنے کا معیار یہ طے کرتا ہے کہ کس نے نصاب کو کتنا ہو بہو نقل کیا، نہ کہ کس نے کیا نیا سوچا۔ معاشرے میں ڈگری یافتہ افراد کی شرح میں تو بے پناہ اضافہ ہوا ہے، مگر اخلاقی رواداری، تنقیدی شعور اور سماجی حساسیات میں خطرناک حد تک گراوٹ آئی ہے۔ یہ ایک ایسا فکری تضاد ہے جہاں انسان کے ہاتھ میں کاغذ کی بڑی ڈگری تو ہوتی ہے، مگر ظرف اور شعور کے پیمانے خالی ہوتے ہیں۔ تعلیم اب فلاحی یا ریاست کی بنیادی ذمے داری نہیں رہی، بلکہ نجی تعلیمی مافیا کے ہاتھوں ایک منافع بخش انڈسٹری بن چکی ہے جہاں علم کو تول کر بیچا جاتا ہے۔ ہمارے معاشرے کی عجیب ستم ظریفی ہے کہ ہم نے تعلیم کا معیار ناپنے کے لیے جو پیمانے مقرر کیے ہیں، وہ بڑے دلچسپ ہیں۔ شادی کے رشتوں سے لے کر سماجی پروٹوکول تک، سب کچھ جی پی اے اور بینک بیلنس کی بنیاد پر طے ہوتا ہے۔ والدین کی شدید خواہش ہوتی ہے کہ ان کا بچہ ایک ایسی فکری مشین بن جائے جو بغیر سوچے سمجھے بس ڈگریاں سمیٹتا جائے۔ بچہ اگر سوال پوچھے تو اسے بدتمیزی قرار دیا جاتا ہے، اور اگر وہ خاموشی سے کتاب رٹ لے تو اسے لائق فرزند کا خطاب مل جاتا ہے۔ نتیجہ یہ ہے کہ ہمارے پاس نوکریوں کے لیے تو امیدوار مل جاتے ہیں، مگر بحران کے وقت قوم کی رہنمائی کرنے والا کوئی مفکر یا فکری معمار نظر نہیں آتا۔


​اس فکری اور تعلیمی دلدل سے نکلنے کے لیے ہمیں سطحی اصلاحات کے بجائے بنیادی نوعیت کے اقدامات کرنا ہوں گے۔ نصابِ تعلیم کو مارکیٹ کی ہوس کے بجائے فلسفہ، اخلاقیات، منطق اور تنقیدی فکر پر استوار کیا جائے، اور بچوں کو بچپن سے ہی کیوں اور کیسے کا فلسفہ سکھایا جائے۔ تعلیمی اداروں کو ایسے ماحول سے پاک کیا جائے جہاں سزاؤں کے خوف سے طلباء کی زبان بندی کی جاتی ہے، بلکہ تعلیمی عمل مباحثے، مکالمے اور تحقیق پر مبنی ہونا چاہیے۔ تعلیمی اداروں میں گریڈنگ اور نمبروں کی اندھی تقلید کو ختم کر کے عملی صلاحیت اور کردار سازی کو کامیابی کا اصل معیار بنایا جائے۔ تعلیم کو تجارتی منڈیوں اور فیسوں کے چنگل سے آزاد کرا کے ریاست کی بنیادی ذمہ داری بنایا جائے تاکہ ہر خاص و عام کو یکساں اور معیاری فکری تربیت مل سکے۔ مختصر یہ کہ جب تک تعلیم کو روٹی، کپڑا اور مکان کے حصول کا محض ایک روایتی آلہ سمجھا جاتا رہے گا، ہم فکری پستی کے اسی گڑھے میں گرتے رہیں گے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم تعلیم کو کاغذ کے ٹکڑوں اور ڈگریوں کے خول سے نکال کر ایک زندہ حقیقت بنائیں، جو انسان کو انسان بنا سکے اور معاشرے کو تاریکیوں سے نکال کر فکری بلوغت کی روشنی عطا کر سکے۔