منگل، 27 اکتوبر، 2026
Baaghi TV Logo
ٹرینڈنگ

احتیاط تکلم ،تحریر: صغیرجعفری

نقطہ نظر
saghir h jafry

عمومی طور پر ہم بحیثیت مجموعی روز مرہ کی آپس میں کی گئی گفتگو یا تحریر میں بعض ایسے الفاظ نادستہ طور پر استعمال کرنے کی غلطی کر جاتے ہیں جن سے ہماری اللہ تعالٰی کے ہاں گرفت ہو جاتی ہے اس لئے ہمیں اپنے طرز تکلم میں حد درجہ احتیاط کی ضرورت ہے

مثال کے طور پر

تین (3 )الفاظ جو کبھی نہ کہیں!


پہلا لفظ کہنے والا جنّت سے نکالا گیا، دوسرا غرق ہوا، اور تیسرا زمین میں دھنسا دیا گیا


یہ 3 الفاظ ایسے ہیں جو انسان کی زندگی سے ہر نعمت کے زوال کا سبب بنتے ہیں۔ جن شخصیات نے یہ الفاظ سب سے پہلے کہے، وہی الفاظ ان کی ہلاکت کا باعث بنے، اور ہم روزمرہ کی زندگی میں بغیر سوچ سمجھے انہیں دہراتے رہتے ہیں۔


پہلا لفظ: "میں" (أنا)


﴿قَالَ أَنَا خَيْرٌ مِّنْهُ خَلَقْتَنِي مِن نَّارٍ وَخَلَقْتَهُ مِن طِينٍ﴾

[الأعراف: 12]


"اس نے کہا: میں اس سے بہتر ہوں، تو نے مجھے آگ سے پیدا کیا اور اسے مٹی سے بنایا۔"


سب سے پہلے "میں" ابلیس نے کہا تھا۔ اس نے یہ نہیں کہا کہ "میں گناہ گار ہوں"، بلکہ اس نے کہا "میں بہتر ہوں"۔ یہی "میں" اس کو قیامت تک کے لیے جنّت سے نکالے جانے کا سبب بنی۔ جب بھی آپ کہتے ہیں کہ "میں فلاں سے بہتر ہوں"، "میں اس سے زیادہ سمجھ دار ہوں"، یا "میری ذات زیادہ قیمتی ہے"، تو آپ ابلیس کے اسی جملے کو دہراتے ہیں۔ ابلیس نے خود کو دیکھا لیکن اللہ کو نہ دیکھا، اور کہا "میں اس سے بہتر ہوں"۔ لہٰذا "میں" کہنے سے بچیں، اور یوں کہیں: "یہ اللہ کی توفیق ہے، اسی نے ہدایت دی، اور اسی نے پردہ رکھا۔"


دوسرا لفظ: "میرا / میرے لیے" (لي)


﴿أَلَيْسَ لِي مُلْكُ مِصْرَ وَهَٰذِهِ الْأَنْهَارُ تَجْرِي مِن تَحْتِي﴾

[الزخرف: 51]


"کیا مصر کی بادشاہی میری نہیں ہے؟ اور یہ نہریں میرے نیچے نہیں بہہ رہی ہیں؟"


یہ لفظ سب سے پہلے فرعون نے کہا تھا۔ اس نے یہ نہیں کہا کہ بادشاہی اللہ کی ہے، بلکہ کہا "مصر کی بادشاہی میری ہے"۔ اس نے بادشاہی کو اپنی طرف منسوب کیا، اور یہی "میرا" اس کے غرق ہونے کا سبب بنا۔ جب بھی آپ کہتے ہیں "میرا گھر، میری گاڑی، میری کمپنی، میری ڈگری" اور اسے اللہ تعالیٰ کی طرف منسوب کرنا بھول جاتے ہیں، تو آپ فرعون کی بات دہراتے ہیں۔ فرعون نے اپنے مال و ملکیت کو دیکھا لیکن اس ذات کو نہ دیکھا جس نے اسے یہ سب عطا کیا۔ لہٰذا "میرا" کہنے سے بچیں، اور یوں کہیں: "یہ میرے رب کا فضل ہے، یہ وہ رزق ہے جو اللہ نے مجھے عطا کیا۔"


تیسرا لفظ: "میرے پاس" (عِندِي)


﴿قَالَ إِنَّمَا أُوتِيتُهُ عَلَىٰ عِلْمٍ عِندِي﴾ [القصص: 78]


"قارون نے کہا: یہ سب تو مجھے اس علم کی بنا پر ملا ہے جو میرے پاس ہے۔"


یہ لفظ سب سے پہلے قارون نے کہا تھا۔ جب اس سے کہا گیا کہ یہ اللہ کا مال ہے، تو اس نے کہا: "نہیں۔ یہ تو میری ذہانت، محنت اور علم کی وجہ سے میرے پاس ہے۔" چنانچہ یہی "میرے پاس" اس کا اور اس کے محل کا زمین میں دھنسا دیے جانے کا باعث بنا۔ جب بھی آپ کہتے ہیں "یہ مال میں نے اپنی ذہانت سے کمایا ہے" یا "یہ علم میں نے اپنی محنت سے حاصل کیا ہے"، تو آپ قارون کے الفاظ دہراتے ہیں۔ قارون نے سبب (اپنی محنت) کو دیکھا اور مسبب (اللہ) کو بھول گیا۔


اور ایک چوتھا لفظ بھی ہے جو ان سب سے زیادہ خطرناک ہے:


وہ یہ کہ انسان اللہ تعالیٰ کی مشیت کو شامل کیے بغیر کہے کہ "میں کل یہ کروں گا"۔


﴿وَلَا تَقُولَنَّ لِشَيْءٍ إِنِّي فَاعِلٌ ذَٰلِكَ غَدًا * إِلَّا أَن يَشَاءَ اللَّهُ﴾

[الكهف: 23-24]


"اور کسی چیز کے بارے میں ہرگز نہ کہو کہ میں کل یہ کرنے والا ہوں، مگر یہ کہ (ساتھ کہو) اگر اللہ چاہے۔"


یہ نہ کہیں کہ "میں کل کامیاب ہو جاؤں گا"، "میں کل شادی کروں گا"، یا "میں کل خریدوں گا"، جیسے کہ کل کا دن آپ کے ہاتھ میں ہو۔ کل کا دن انسان کے ہاتھ میں نہیں ہوتا۔


پس! "میں" نہ کہیں بلکہ کہیں "وہ" (اللہ)۔


"میرا" نہ کہیں بلکہ کہیں "اس کا" (اللہ کا)۔


"میرے پاس" نہ کہیں بلکہ کہیں "اس کے پاس"۔


اور "میں کل کروں گا" نہ کہیں بلکہ کہیں "ان شاء اللہ"۔

,

جس نے نعمت کی نسبت اپنی ذات کی طرف کی، اس سے وہ نعمت چھن گئی؛ اور جس نے نعمت کی نسبت اللہ تعالیٰ کی طرف کی، اس کی نعمت میں اللہ تعالٰی نے دائمی اضافہ فرمائیں دیا

ہمیں ہر حال میں توکل علی اللہ کرتے ہوئے اللہ کی عطا کردہ نعمتوں کا شکر ادا کرنا چاہئے اور ناشکری کے ساتھ ایسے الفاظ استعمال کرتے ہوئے احتیاط کرنی چاہئے جو ہمارے مواخذے کا سبب بن جائیں