فلاحی حکمرانی کا نیا چہرہ، مریم نواز اور عوامی خدمت کا پنجاب ماڈل،تجزیہ:شہزاد قریشی
نقطہ نظر
اقتدار نہیں، عوام مرکزِ نگاہ: پنجاب میں مریم نواز کی فلاحی سیاست کا ابھرتا منظرنامہ
اپنا گھر، اپنی چھت سے موبائل ہسپتال تک: پنجاب میں عوامی ریلیف کے ایک نئے دور کی کہانی
تجزیہ : شہزاد قریشی
پنجاب میں فلاحی حکمرانی کا نیا باب.
پاکستان کے چاروں صوبوں کی سیاسی اور انتظامی کارکردگی کا غیر جانبدارانہ جائزہ لیا جائے تو پنجاب میں وزیراعلیٰ مریم نواز شریف کی حکمرانی کا ایک نمایاں پہلو فلاحی طرزِ حکمرانی کے طور پر سامنے آتا ہے۔ سیاست میں اختلافِ رائے اپنی جگہ، لیکن جہاں کوئی مثبت کام دکھائی دے، وہاں اس کا اعتراف بھی دیانت داری کا تقاضا ہوتا ہے۔
مریم نواز شریف نے اقتدار سنبھالنے کے بعد اپنی توجہ کا مرکز پنجاب کے عام اور کمزور طبقے کو بنایا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے بیشتر منصوبوں کا رخ براہِ راست عام آدمی کی ضروریات کی طرف ہے۔ سستا پنجاب اور عوامی ریلیف کے دیگر اقدامات اس سوچ کی عکاسی کرتے ہیں کہ حکمرانی کا اصل مقصد ریاست اور شہری کے درمیان فاصلے کم کرنا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بعض فلاحی منصوبوں کو بین الاقوامی سطح پر بھی پذیرائی حاصل ہوئی اور انہیں ایک مؤثر عوامی ماڈل کے طور پر دیکھا گیا۔
’’اپنا گھر، اپنی چھت‘‘ جیسے منصوبے محض سرکاری اعلانات نہیں بلکہ ان لاکھوں خاندانوں کی امید ہیں جو برسوں سے اپنے گھر کے خواب کو حقیقت بنتا دیکھنا چاہتے ہیں۔ ایک غریب انسان کے لیے چھت صرف اینٹوں اور دیواروں کا نام نہیں ہوتی بلکہ عزت، تحفظ اور مستقبل کی ضمانت ہوتی ہے۔ اگر کوئی حکومت اس خواب کی تعبیر کے لیے عملی اقدامات کرتی ہے تو اسے یقینا عوامی خدمت کے زمرے میں شمار کیا جائے گا۔
صحت کے شعبے میں پنجاب کے موبائل میڈیکل یونٹس بھی خصوصی توجہ کے مستحق ہیں۔ یہ محض گاڑیاں نہیں بلکہ چلتے پھرتے طبی مراکز ہیں جو دور افتادہ دیہات اور پسماندہ علاقوں تک علاج کی سہولت پہنچا رہے ہیں۔ جہاں کبھی مریضوں کو میلوں سفر کرنا پڑتا تھا، وہاں آج علاج اور تشخیص کی سہولت ان کی دہلیز تک پہنچ رہی ہے۔ یہ وہ طرزِ حکمرانی ہے جس میں ریاست خود عوام کے پاس جاتی ہے۔
امن و امان اور جرائم کے خلاف اقدامات بھی حکومتی کارکردگی کا اہم حصہ ہیں۔ پنجاب پولیس کے نظام میں بہتری، عوامی شکایات کے ازالے اور فوری دادرسی کی کوششیں اس بات کی نشاندہی کرتی ہیں کہ حکومت انتظامی ڈھانچے کو زیادہ مؤثر بنانے کی خواہش رکھتی ہے۔ اگرچہ کسی بھی نظام میں بہتری کی گنجائش ہمیشہ باقی رہتی ہے، لیکن سمت کا درست ہونا بھی اپنی اہمیت رکھتا ہے۔
یقیناً مریم نواز شریف کوئی غیر معمولی ہستی نہیں، وہ بھی ایک سیاسی اور انتظامی شخصیت ہیں اور ہر حکومت کی طرح ان کی حکومت سے بھی غلطیاں سرزد ہو سکتی ہیں۔ لیکن کسی بھی حکمران کا اصل امتحان اس کی ترجیحات سے ہوتا ہے۔ موجودہ منظرنامے میں یہ تاثر مضبوط ہوتا جا رہا ہے کہ پنجاب حکومت کی توجہ کا محور عام آدمی، غریب خاندان، مریض، کسان اور محروم طبقہ ہے۔
یہ دراصل ایک سیاسی اور انتظامی تسلسل بھی ہے۔ میاں نواز شریف کے دورِ وزارتِ اعلیٰ سے شروع ہونے والی عوامی خدمت اور فلاحی منصوبوں کی روایت، شہباز شریف کے ترقیاتی ماڈل سے گزرتی ہوئی آج مریم نواز شریف کے دور میں ایک نئے انداز کے ساتھ آگے بڑھتی دکھائی دیتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پنجاب میں حکمرانی کے اس ماڈل کو محض سیاسی نعرے کے بجائے عملی اقدامات کی کسوٹی پر پرکھا جا رہا ہے۔
تاریخ ہمیشہ نتائج کی بنیاد پر فیصلے کرتی ہے، دعوؤں کی بنیاد پر نہیں۔ تاہم آج کے حالات میں یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ مریم نواز شریف نے پنجاب میں فلاحی حکمرانی، عوامی خدمت اور سماجی تحفظ کے ایک ایسے بیانیے کو فروغ دیا ہے جس کا مرکز و محور اقتدار نہیں بلکہ عام شہری کی زندگی میں آسانی پیدا کرنا ہے۔ اگر یہ رفتار اور سمت برقرار رہی تو پنجاب میں فلاحی حکمرانی کا یہ باب آنے والے برسوں میں سیاسی مباحث کا ایک اہم حوالہ بن سکتا ہے۔
مزید پڑھیں





