منگل، 27 اکتوبر، 2026
Baaghi TV Logo
ٹرینڈنگ

فٹ پاتھ پر سونے والے بچے،تحریر: عظمیٰ شیخ

نقطہ نظر

رات کے دو بجے شہر خاموش ہو جاتا ہے۔ دکانیں بند، سڑکیں خالی اور گھروں میں بتیاں بجھ جاتی ہیں؛ مگر فٹ پاتھ جاگ رہا ہوتا ہے۔ اس پر تین بچے سوئے ہیں، جن میں بڑے کی عمر دس سال اور چھوٹے کی پانچ سال ہے۔ ان کے نیچے ایک پھٹا ہوا گتہ ہے اور اوپر کھلا آسمان۔ ایک نے اپنے بازو کو تکیہ بنایا ہے تو دوسرے نے اپنے بھائی کی قمیض کو چادر۔ پاس سے کوئی گاڑی گزرتی ہے تو تیز روشنی ان کے چہروں پر پڑتی ہے، مگر وہ نہیں جاگتے؛ تھکن نیند سے زیادہ گہری ہو تو انسان جاگتا نہیں۔

یہ کسی ایک گلی کی کہانی نہیں، یہ پورے ملک کا المیہ ہے۔ یونیسیف (UNICEF) کی رپورٹ برائے 2023ء کہتی ہے کہ دنیا میں پندرہ کروڑ بچے گلیوں میں زندگی گزارتے ہیں۔ پاکستان میں سرکاری اعداد و شمار کے مطابق تیس لاکھ سے زیادہ 'اسٹریٹ چائلڈ' ہیں۔ ان میں سے ستر فیصد غربت کی وجہ سے گھر سے نکلے، بیس فیصد گھریلو تشدد، سوتیلے والدین کے رویے یا نشے کی لت کے باعث، اور باقی یتیمی کی وجہ سے فٹ پاتھ پر آ گئے۔ لیبر فورس سروے کے مطابق، ان بچوں میں سے نوے فیصد نے کبھی اسکول کا دروازہ تک نہیں دیکھا۔

یہاں فلسفہ سوال کرتا ہے: بچہ کیا ہے؟ کیا وہ صرف ایک چھوٹا انسان ہے؟ نہیں۔ ارسطو کہتا ہے: "بچہ ریاست کا مستقبل ہے، اور جس ریاست کا مستقبل فٹ پاتھ پر سو رہا ہو، اس کا حال بھی جاگتا نہیں۔" افلاطون نے اپنی کتاب 'جمہوریہ' میں لکھا تھا کہ ریاست کو اس کے کمزور ترین فرد سے پرکھو؛ اگر کمزور ترین فرد فٹ پاتھ پر ہے تو ریاست طاقتور نہیں، بلکہ ناکام ہے۔

ہمارے دین نے اس سے بہت پہلے ہمیں سکھا دیا تھا۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: "جو شخص ہمارے چھوٹوں پر رحم نہ کرے، وہ ہم میں سے نہیں۔" حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ راتوں کو گلیوں میں گشت کرتے تھے کہ کہیں کوئی بچہ بھوکا نہ سو جائے۔ آج ہماری گلیوں میں حضرت عمرؓ کا گشت نہیں، بلکہ پولیس کی گاڑی گشت کرتی ہے، اور وہ بھی ان بچوں کو بھگانے کے لیے!

ہم ان کو بھکاری سمجھتے ہیں، حالانکہ یہ بھکاری نہیں، بلکہ حالات کے قیدی ہیں۔ میں نے ایک شام سگنل پر کھڑے ایک بچے سے پوچھا: "بیٹا! اسکول کیوں نہیں جاتے؟" وہ بولا: "باجی! اسکول میں روٹی نہیں ملتی، مجھے بھوک لگتی ہے۔" دوسرے نے کہا: "باجی! گھر پر ابا مارتا ہے، فٹ پاتھ ٹھنڈا ضرور ہے، مگر ابا کے ہاتھ سے کم ٹھنڈا ہے۔" تیسرے نے کہا: "باجی! میری ماں مر گئی، سوتیلی ماں نے گھر سے نکال دیا، اب یہی فٹ پاتھ میرا گھر ہے۔"

یہ وہ پھول ہیں جو گملے میں نہیں، بلکہ پتھروں پر اگے ہیں۔ فیض احمد فیض نے کہا تھا:

وہ جو چاہتے تھے راج کرے گی خلقِ خدا

وہ جو چاہتے تھے، وہی ہوا، راج کر رہی ہے خلقِ خدا۔۔۔ فٹ پاتھ پر!

اقبال نے کہا تھا:

لب پہ آتی ہے دعا بن کے تمنا میری

زندگی شمع کی صورت ہو خدایا میری

مگر ان بچوں کی زندگی شمع نہیں، بلکہ وہ دھواں ہے جو جلنے سے پہلے ہی بجھ جاتا ہے۔

سلوک کے حوالے سے منٹو نے لکھا تھا: "بچے سے پوچھو کہ تمہارا گھر کہاں ہے، وہ کہے گا جہاں رات ہو جائے۔" نیلسن منڈیلا نے کہا تھا: "کسی معاشرے کی روح کا پتہ اس بات سے چلتا ہے کہ وہ اپنے بچوں کے ساتھ کیسا سلوک کرتا ہے۔"

اب سوال یہ ہے کہ ہم کیا کریں؟ گالی دینے، نفرت کرنے یا گاڑی کا شیشہ چڑھا لینے سے یہ بچے ختم نہیں ہوں گے۔

پہلا حل ریاست کا ہے: ریاست ماں جیسی ہونی چاہیے۔ ترکیہ نے اسٹریٹ چلڈرن کے لیے 'چلڈرن سپورٹ سینٹرز' بنائے، جہاں بچوں کو صرف بستر نہیں، بلکہ اسکول، کھانا، ڈاکٹر اور ماں جیسی شفقت ملتی ہے۔ بنگلہ دیش نے شیلٹر ہومز میں بچوں کو ہنر سکھایا۔ ہمارے پاس بیت المال ہے، چائلڈ پروٹیکشن بیورو ہے، مگر یہ سب دفاتر تک محدود ہیں اور فٹ پاتھ تک نہیں آتے۔ ہر ضلع میں کم از کم ایک ایسا شیلٹر ہونا چاہیے جہاں کوئی بچہ بھوکا نہ سوئے۔

دوسرا حل تعلیم اور ہنر کا ہے: ان کو زبردستی اسکول میں بٹھانے سے نہیں، بلکہ پیار سے لانے سے کام ہو گا۔ صبح تعلیم، دوپہر روٹی اور شام کو ہنر! اگر ایک بچہ موٹر مکینک، درزی یا الیکٹریشن بن جائے، تو وہ فٹ پاتھ سے نکل کر ورکشاپ میں چلا جائے گا۔

تیسرا حل ہمارا اپنا ہے: جو سب سے آسان بھی ہے اور سب سے مشکل بھی۔ ہم کیا کر سکتے ہیں؟ ہم ان کو دھتکارنے کے بجائے انسان سمجھ سکتے ہیں۔ ایک وقت کی روٹی، ایک پرانا سویٹر، ایک جوڑا جوتا، ایک کتاب اور سب سے بڑھ کر ان کے سر پر شفقت کا ہاتھ۔ ان کو 'بیٹا' کہہ کر بلانا، کسی بھی این جی او کے کام سے بڑا کام ہے۔

میں آخر میں صرف اتنا کہوں گی: یہ بچے فٹ پاتھ پر نہیں، بلکہ ہمارے ضمیر پر سو رہے ہیں۔ جب تک ہمارا ضمیر سو رہا ہے، یہ بچے فٹ پاتھ پر سوتے رہیں گے؛ جس دن ہمارا ضمیر جاگ گیا، اس دن فٹ پاتھ خود بخود خالی ہو جائے گا۔