منگل، 13 اکتوبر، 2026
Baaghi TV Logo
ٹرینڈنگ

گورنر راج اور عوام ،تحریر: مریم خان

نقطہ نظر

حالیہ انتظامی تبدیلیوں کے بعد عوام کی تشویش مزید اہمیت اختیار کر گئی ہے۔ گورنر راج کے نفاذ کے بعد صوبے کے مختلف علاقوں میں سڑکوں کی بندش، تعلیمی اداروں کی تعطیلات اور آمدورفت میں مشکلات کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں۔ ایسے حالات میں سب سے زیادہ متاثر وہ لوگ ہوتے ہیں جن کی زندگی پہلے ہی محدود وسائل اور روزانہ کی محنت پر منحصر ہے۔

ایک دیہاڑی دار مزدور کے لیے راستے بند ہونے کا مطلب صرف سفر میں تاخیر نہیں بلکہ ممکنہ طور پر ایک دن کی آمدنی سے محرومی ہے۔ ایک طالب علم کے لیے تعلیمی ادارے کی بندش محض چھٹی نہیں بلکہ اس کے تعلیمی تسلسل میں خلل ہے۔ ایک مریض کے لیے راستے کی رکاوٹ کسی معمولی پریشانی کا نام نہیں بلکہ بعض اوقات زندگی اور موت کے درمیان کھڑی ایک دیوار بن سکتی ہے۔

ہمیں یہ حقیقت تسلیم کرنی چاہیے کہ امن و امان کا قیام ریاست کی بنیادی ذمہ داری ہے۔ شہریوں کی جان و مال کا تحفظ کسی بھی انتظامی نظام کی اولین ترجیح ہونا چاہیے۔ تاہم امن کا حقیقی مفہوم صرف سڑکوں پر خاموشی یا بازاروں میں معمول کی سرگرمیوں کی بحالی نہیں۔ امن وہ کیفیت ہے جس میں ایک ماں اپنے بچے کو بے خوف ہو کر اسکول بھیج سکے، ایک تاجر اطمینان سے کاروبار کرے اور ایک نوجوان اپنے مستقبل کے بارے میں سوچتے ہوئے مایوسی کا شکار نہ ہو۔

خیبر پختونخوا کے عوام کسی غیر معمولی رعایت کے طلب گار نہیں۔ وہ صرف اپنے بنیادی حقوق اور ضروری سہولتوں کی فراہمی چاہتے ہیں۔ انہیں ایسے ہسپتال چاہییں جہاں علاج میسر ہو، ایسے تعلیمی ادارے چاہییں جہاں معیاری تعلیم دی جائے اور ایسے سرکاری دفاتر چاہییں جہاں معمولی کام کے لیے کئی کئی دن انتظار نہ کرنا پڑے۔

ایک اور اہم مسئلہ عوام اور انتظامیہ کے درمیان اعتماد کا ہے۔ جب فیصلوں کی وجوہات اور ان کے ممکنہ اثرات واضح انداز میں لوگوں تک نہیں پہنچتے تو بے یقینی جنم لیتی ہے۔ افواہیں اسی خلا میں پروان چڑھتی ہیں جہاں مستند معلومات کی کمی ہو۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ انتظامی فیصلوں کے ساتھ عوام کو بروقت آگاہ رکھنے کا مؤثر نظام بھی موجود ہو تاکہ شہری اپنے روزمرہ معاملات کی منصوبہ بندی کر سکیں۔

یہ بھی ضروری ہے کہ ترقیاتی منصوبوں، تعلیمی سرگرمیوں اور صحت کی سہولتوں کا تسلسل برقرار رہے۔ انتظامی تبدیلیوں کے دوران عوامی فلاح کے منصوبے تعطل کا شکار نہیں ہونے چاہییں۔ ایک ادھوری سڑک، زیرِ تعمیر اسکول یا نامکمل ہسپتال کی قیمت بالآخر عوام ہی ادا کرتے ہیں۔ منصوبوں کی کامیابی کا معیار ان کے افتتاح کی تقریبات نہیں بلکہ ان سے مستفید ہونے والے لوگوں کی تعداد ہونی چاہیے۔

پشاور صرف صوبائی دارالحکومت نہیں بلکہ خیبر پختونخوا کی تہذیبی، تعلیمی اور معاشی شناخت کا ایک اہم مرکز ہے۔ اس شہر کی ضروریات کو محض انتظامی فائلوں تک محدود نہیں رکھا جا سکتا۔ اس کی تاریخی اہمیت کے ساتھ اس کے موجودہ مسائل کو سمجھنا بھی ضروری ہے۔ یہاں کے بازاروں، تعلیمی اداروں، ہسپتالوں اور رہائشی علاقوں میں بسنے والے لوگ ایسے اقدامات کے منتظر ہیں جن کے مثبت اثرات انہیں اپنی زندگی میں محسوس ہوں۔

سیاسی اور انتظامی فیصلوں کے بارے میں مختلف آرا ہونا فطری بات ہے۔ ہر شہری کو اپنے نقطۂ نظر کے اظہار کا حق حاصل ہے، لیکن اختلاف کے اس ماحول میں ایک مشترکہ حقیقت کو نظرانداز نہیں کیا جانا چاہیے کہ صوبے کا امن، ترقی اور عوامی خوش حالی سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ حکومت ہو، انتظامیہ ہو، سیاسی قیادت ہو یا ریاستی ادارے، سب کی کوششوں کا حاصل ایک محفوظ اور خوش حال معاشرہ ہونا چاہیے۔

ہمیں یہ بھی سوچنا ہوگا کہ کیا عوامی مسائل کو صرف ہنگامی حالات میں یاد کرنا کافی ہے؟ کیا مہنگائی، بے روزگاری، ناقص شہری سہولتیں اور تعلیمی مشکلات ایسے مسائل نہیں جن پر مستقل توجہ درکار ہے؟ حالات معمول پر آنے کے بعد بھی یہ سوال اپنی جگہ موجود رہیں گے۔ ان کا حل وقتی اعلانات سے نہیں بلکہ مستقل منصوبہ بندی، مؤثر نگرانی اور عملی اقدامات سے ممکن ہوگا۔

عوام کو بڑے بڑے وعدوں سے زیادہ چھوٹی چھوٹی آسانیوں کی ضرورت ہے۔ کسی سرکاری ہسپتال میں بروقت دوا مل جانا، کسی بچے کا بلا رکاوٹ اسکول پہنچ جانا، کسی نوجوان کو باعزت روزگار میسر آنا اور کسی بزرگ کا سرکاری دفتر سے عزت کے ساتھ اپنا کام کروا لینا بھی اچھی حکمرانی کی نمایاں مثالیں ہیں۔

اقتدار اور اختیار اپنی جگہ اہم ہیں لیکن ان کی اصل قدر اسی وقت سامنے آتی ہے جب ان کے ثمرات عام شہری تک پہنچیں۔ تاریخ میں فیصلوں کے تذکرے ضرور محفوظ ہوتے ہیں مگر لوگوں کے دلوں میں وہی ادوار جگہ بناتے ہیں جن میں ان کی زندگی آسان ہوئی ہو۔

آج خیبر پختونخوا کے عوام کو سب سے زیادہ ضرورت اعتماد، تحفظ اور معاشی اطمینان کی ہے۔ انہیں یہ یقین چاہیے کہ حالات جیسے بھی ہوں، ان کے بچوں کی تعلیم، روزگار، علاج اور بنیادی ضروریات نظرانداز نہیں ہوں گی۔

کیونکہ عوام صرف آبادی کے اعداد و شمار نہیں ہوتے۔ ان کے خواب ہوتے ہیں، ان کی محرومیاں ہوتی ہیں اور ان کی خاموشی میں بھی بے شمار سوال پوشیدہ ہوتے ہیں۔

اقتدار کے فیصلے ایوانوں میں ہوتے ہیں مگر ان کا اصل امتحان عوام کی زندگی میں ہوتا ہے۔ سوال صرف یہ نہیں کہ صوبے کا انتظام کون سنبھالے گا، اصل سوال یہ ہے کہ عوام کی زندگی کون سنوارے گا؟