منگل، 20 اکتوبر، 2026
Baaghi TV Logo
ٹرینڈنگ

گوجرخان میں ایل پی جی مافیا بے لگام، 3300 کا سرکاری سلنڈر دو نرخوں میں فروخت

LPG-696×342
مصنف:

ریلیف کے حکومتی دعوے بے نقاب، ایل پی جی مہنگی فروخت پر انتظامیہ اور پیرا فورس خاموش تماشائی

چھوٹے دکانداروں پر کارروائیاں، پلانٹس مالکان پر ہاتھ ڈالنے سے گریز کیوں؟ سرکاری نرخ چیلنج، غریب مہنگائی کے رحم و کرم پر

گوجرخان (قمرشہزاد) اوگرا کے اعلان کردہ سرکاری نرخ کے مطابق ایل پی جی سلنڈر کی قیمت 3300 روپے بتائی جا رہی ہے، جبکہ گوجرخان اور گردونواح میں گھریلو صارفین کو یہی سلنڈر مبینہ طور پر 6 ہزار سے 6400 روپے تک فروخت کیا جا رہا ہے۔ سرکاری نرخ اور بازار میں وصول کی جانے والی قیمت کے درمیان ہزاروں روپے کا فرق وفاقی و صوبائی حکومتوں کے عوامی ریلیف کے دعوؤں پر سوالیہ نشان ہے۔شہری حلقوں، بالخصوص مزدور اور متوسط طبقے نے شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ابھی سردیوں کا باقاعدہ آغاز بھی نہیں ہوا، مگر ایل پی جی کی قیمتوں کو جیسے پر لگ گئے ہیں۔ حکومت اگر سرکاری نرخ مقرر کرتی ہے تو اس پر عمل درآمد یقینی بنانا کس کی ذمہ داری ہے؟ مقامی انتظامیہ، متعلقہ محکمے اور پیرا فورس عوام کو مقررہ نرخ پر گیس کی فراہمی یقینی بنائیں۔ شہریوں کے مطابق غریب اور دیہاڑی دار طبقہ مہنگی قدرتی گیس کے متبادل کے طور پر ایل پی جی استعمال کرتا ہے، مگر اگر اسے بھی مقررہ نرخ سے کہیں زیادہ قیمت پر خریدنا پڑے تو حکومتی ریلیف کے دعوے محض اعلانات بن کر رہ جاتے ہیں۔ شہریوں نے سوال اٹھایا کہ جب سرکاری نرخ موجود ہے تو عام صارف کو اسی قیمت پر سلنڈر کیوں دستیاب نہیں، اور سرکاری نرخ کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف مؤثر کارروائی کیوں دکھائی نہیں دیتی؟ شہری حلقوں نے الزام عائد کیا کہ ایل پی جی کی قیمتوں پر قابو پانے کے لیے ہونے والی کارروائیاں مبینہ طور پر چھوٹے دکانداروں اور ڈسٹری بیوٹرز تک محدود رہتی ہیں، جبکہ قیمتوں کے تعین اور سپلائی کے بالائی مراحل، بالخصوص پلانٹس کی سطح پر، مؤثر نگرانی اور کارروائی کے حوالے سے صورتِ حال واضح نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر پلانٹس سے گیس مہنگے داموں فراہم ہونے کی شکایات موجود ہیں تو متعلقہ حکام کو پوری سپلائی چین کی جانچ کرنی چاہیے؛ محض نچلی سطح پر کارروائی سے مسئلے کا مستقل حل ممکن نہیں۔ شہریوں نے سوال کیا کہ کیا پلانٹس مالکان کے خلاف کارروائی میں کوئی رکاوٹ ہے، یا حکومتی نرخ نافذ کرنے والے ادارے اپنی ذمہ داری پوری کرنے میں ناکام ہیں؟ انہوں نے وفاقی حکومت، حکومتِ پنجاب، اوگرا، ضلعی انتظامیہ اور پیرا فورس کے اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا کہ گوجرخان میں ایل پی جی کی فروخت، پلانٹس سے ترسیل اور ڈسٹری بیوٹرز کی قیمتوں کا فوری جائزہ لیا جائے، خلاف ورزیوں کی شفاف تحقیقات کی جائیں اور قانون کے مطابق ذمہ داروں کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کرکے گھریلو صارفین کو مقررہ نرخ پر گیس کی فراہمی یقینی بنائی جائے۔ شہریوں کا کہنا تھا کہ عوام کو ریلیف دینے کے دعوے اسی وقت حقیقت بنیں گے جب سرکاری نرخ کاغذوں سے نکل کر بازار میں نافذ ہوں گے، ورنہ مہنگائی کا بوجھ ایک بار پھر غریب کے کندھوں پر ہی رہے گا۔