سیرتِ النبی ﷺ ، ہمارے لیے کامل نمونہ،تحریر: مبراء عبدالقیوم
نقطہ نظر
اللہ تعالیٰ نے انسان کی رہنمائی کے لیے انبیائے کرام علیہم السلام کو مبعوث فرمایا اور اس سلسلۂ نبوت کو حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ پر مکمل فرما دیا۔ آپ ﷺ کی ذاتِ اقدس پوری انسانیت کے لیے رحمت، ہدایت اور بہترین نمونہ ہے۔ قرآنِ کریم میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
"بے شک تمہارے لیے رسول اللہ ﷺ کی زندگی میں بہترین نمونہ ہے۔"
(سورۃ الاحزاب: 21)
سیرتِ النبی ﷺ صرف تاریخ کا ایک باب نہیں بلکہ زندگی گزارنے کا مکمل دستور ہے۔ آپ ﷺ کی حیاتِ مبارکہ کے ہر پہلو میں ہمارے لیے رہنمائی موجود ہے؛ چاہے وہ عبادت ہو، اخلاق ہو، معاملات ہوں، معاشرت ہو یا انسانوں سے محبت و حسنِ سلوک۔
رسولِ اکرم ﷺ نے ایسے معاشرے میں آنکھ کھولی جہاں جہالت، ظلم، تعصب اور کمزوروں پر زیادتی عام تھی۔ آپ ﷺ نے اپنی دعوتِ حق کے ذریعے لوگوں کو توحید، عدل، مساوات اور انسانیت کا درس دیا۔ آپ ﷺ نے یہ واضح فرمایا کہ انسان کی فضیلت مال، رنگ، نسل یا خاندان سے نہیں بلکہ تقویٰ اور نیک کردار سے ہے۔
آپ ﷺ کا اخلاقِ کریمانہ دشمنوں کو بھی متاثر کر دیتا تھا۔ قرآنِ کریم نے آپ ﷺ کے اخلاق کی گواہی دیتے ہوئے فرمایا:
"اور بے شک آپ ﷺ عظیم اخلاق پر فائز ہیں۔"
(سورۃ القلم: 4)
آپ ﷺ بچوں سے بے حد محبت فرماتے، بڑوں کا احترام کرتے، غریبوں اور مسکینوں کا خیال رکھتے اور یتیموں کے ساتھ شفقت کا معاملہ فرماتے۔ آپ ﷺ نے پڑوسی کے حقوق کی تاکید فرمائی اور مسلمانوں کو ایک دوسرے کا بھائی قرار دیا۔ آپ ﷺ کی زندگی ہمیں سکھاتی ہے کہ حقیقی عظمت دوسروں کو کمتر سمجھنے میں نہیں بلکہ دوسروں کے لیے آسانی اور خیر کا ذریعہ بننے میں ہے۔
فتحِ مکہ کے موقع پر آپ ﷺ کے سامنے وہ لوگ موجود تھے جنہوں نے آپ ﷺ اور آپ کے ساتھیوں کو بے شمار تکالیف پہنچائی تھیں۔ اگر آپ ﷺ چاہتے تو بدلہ لے سکتے تھے، مگر رحمتِ عالم ﷺ نے عام معافی کا اعلان فرما کر دنیا کو عفو و درگزر کی ایسی مثال عطا کی جس کی نظیر ملنا مشکل ہے۔
آپ ﷺ کی عبادت بھی ہمارے لیے بہترین نمونہ ہے۔ آپ ﷺ راتوں کو اللہ تعالیٰ کے حضور قیام فرماتے، دعا کرتے اور اپنی امت کے لیے فکر مند رہتے۔ آپ ﷺ نے ہمیں بتایا کہ دنیا کی کامیابی عارضی ہے، اصل کامیابی اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے میں ہے۔
آج ہم سیرتِ النبی ﷺ کا ذکر تو بہت کرتے ہیں، محبتِ رسول ﷺ کے دعوے بھی کرتے ہیں، مگر اصل سوال یہ ہے کہ ہم اپنی زندگی میں آپ ﷺ کی تعلیمات کو کتنا اختیار کرتے ہیں؟ اگر ہماری زبان دوسروں کو تکلیف دیتی ہے، ہمارے معاملات میں دھوکا ہے، ہمارے دل میں نفرت ہے اور ہم حقوق العباد سے غافل ہیں تو ہمیں اپنے دعوائے محبت پر غور کرنا چاہیے۔
سیرتِ النبی ﷺ ہمیں صرف نعتیں پڑھنے یا واقعات سننے کا نام نہیں سکھاتی، بلکہ یہ ہمیں اپنے کردار کو بدلنے کا راستہ دکھاتی ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم سچ بولیں، وعدہ پورا کریں، والدین کا احترام کریں، چھوٹوں سے شفقت کریں، بڑوں کی عزت کریں، ضرورت مندوں کی مدد کریں اور اپنے ہر معاملے میں انصاف کو اختیار کریں۔
رسولِ اکرم ﷺ کی سیرت ایک ایسا چراغ ہے جو قیامت تک انسانیت کو راستہ دکھاتا رہے گا۔ اگر ہم اپنی زندگیوں کو آپ ﷺ کی سنت کے مطابق ڈھال لیں تو نہ صرف ہماری انفرادی زندگی سنور سکتی ہے بلکہ ہمارے گھر، معاشرے اور پوری امت میں محبت، امن اور بھلائی پیدا ہو سکتی ہے۔
محبتِ رسول ﷺ کا حقیقی تقاضا یہی ہے کہ ہم آپ ﷺ کو صرف زبان سے نہیں بلکہ اپنے کردار، اخلاق اور عمل سے بھی اپنا رہبر مانیں۔
اللہ تعالیٰ ہمیں سیرتِ طیبہ کو سمجھنے، اس پر عمل کرنے اور اپنے کردار کو حضور اکرم ﷺ کی تعلیمات کے مطابق بنانے کی توفیق عطا فرمائے۔
آمین ثم آمین یا رب العالمین۔
مزید پڑھیں





