ایک سفر جو میں کبھی نہیں بھول سکتی ،تحریر: فائزہ شہزاد
نقطہ نظر
زندگی کا سفر ہے یہ کیسا سفر
کوئی سمجھا نہیں کوئی جانا نہیں ۔۔
زندگی بذات خود ایک طویل سفر ہی ہے( میری نظر میں) اِس میں بہت سارے اسٹیشن( موڑ) آتے ہیں، جنہیں کبھی ہم آسانی سے کراس کر لیتے ہیں اور کبھی مہینوں، سالوں ہم اُسے کراس نہیں کر سکتے ـ کچھ سفر بہت خوبصورت ہوتے ہیں، جو آپ کی زندگی کو رنگینیوں سے بھر دیتے ہیں اور کچھ سفر ایسے ہوتے ہیں، جن کو آپ کبھی یاد نہیں کرنا چاہتےـ
میری زندگی کا سب سے یادگار سفر وہ تھا، جس نے میرا نام، میری ذات، میری سوچ یعنی کہ زندگی کا دھارا ہی بدل دیاـ جی ہاں! آپ ٹھیک سمجھےـ میری زندگی کا نہ بھولنے والا سفر، پشاور کے ریلوے اسٹیشن سے شروع ہوا اور ساہیوال اسٹیشن پر رک گیا( ختم نہیں ہوا تھا) 4 جنوری 1985 کی سرد ترین صبح تھی اور ہر طرف شدید دُھند تھی ـ سامنے پہاڑ سفید برف سے ڈھکے، اُس دن مجھے اپنی طرح اُداس لگ رہے تھے اور میں چھت پر کھڑی اُن کی طرف دیکھتی، یہ گانا گا رہی تھی" یہ گلیاں یہ چوبارہ، یہاں آنا نہ دوبارہ"ـ اتنے میں بارات آ گئی، کب دُلہن بنی، کب نکاح ہوا اور میں اسٹیشن پر پہنچ گئی( آنسوؤں کو چھپاتے ہوئے) جیسے ہی ٹرین پہنچی تو بارش بھی شروع ہو گئی اور میری باجی نے لرزتی، کانپتی چھوٹی سی بچی( جی سولہ سال کی بچی) کو اندر جا کر بٹھا دیاـ اپنے آپ کو بہت سمجھایا کہ رونا نہیں، مگر جب کھڑکی سے چھوٹے بھائی نے ہاتھ پکڑ کر کہا:" فائزہ! بھولنا نہیں، خط شط لکھتی رہنا" تو بس جی ضبط کے سارے بندھن ٹوٹ گئے، اتنی دیر میں ٹرین چل پڑی اور زندگی کا نیا سفر شروع ہو گیاـ وہی کھڑکی جس کے لئے ہمیشہ ٹرین میں بیٹھتے ہی دونوں بھائیوں سے لڑائی ہوتی تھی اور لاڈو ہونے کی وجہ سے میرے حصے میں آتی تھی، بھائیوں کو منہ چڑا کر دیکھ کر ہنسا کرتی تھی، آج وہ زہر لگ رہی تھی ـ
چُپ چاپ سرجھکائے اپنی ہی سوچوں میں گم تھی ـ ہزاروں اندیشے تھے جن میں سر فہرست یہ تھا کہ" ساہیوال ایک گاؤں ہے اور بقول بھائیوں کے، فائزہ وہاں جا کر بھینسوں کو نہلایا کرے گی اور گوبر کے اپلے دیواروں پر لگایا کرے گی" اور میں تصور میں اپنے آپ کو دیکھ رہی تھی ـ اتنے میں نوشہرہ اسٹیشن آ گیا( یہاں کے پکوڑے بہت مشہور اور لذیذ تھے) پکوڑوں کی خوشبو نے بھوک کو چمکا دیا مگر دلہن کیسے کہے کہ میں نے کھانے ہیں؟ کاش وہ بھی " جینزی مینزی" دور ہوتا تو ہم کتنا انجوائے کرتے( پسند اپنی اپنی، نصیب اپنا اپنا) میاں جی اوپر برتھ پر چڑھ کرایسےسوئے کہ مُجھے " اصحاب کہف" کا واقعہ یاد آ گیاـ سب سسرالی اپنی موج مستی میں اور کچھ سازشوں( یہ تو سب سے ضروری کام ہوتا ہے نا) میں مصروف ہو گئے اور میں بیچاری( ویسے بڑھاپے میں خیال آیا تھا کہ آج کا دور ہوتا تو بیوی نے پہلے دن ہی شور مچا دینا تھا) بھینسوں کو نہلاتے نہلاتے راولپنڈی اسٹیشن پر پہنچ گئی ـ کھڑکی سے باہر جب بُک سٹال پر نظر پڑی تو دل کیا بھاگ کر جاؤں اور " بچوں کا باغ، بچوں کی دنیا" اُٹھا کر لے آؤں مگر ہائے رے شادی ـ
اتنی دیر میں کسی کزن نے میاں جی کو آواز لگائی تو ایسے اوپر سے کود کر آئے کہ مجھے دو پل کو سمجھ ہی نہ آئی کہ ہوا کیا ہے؟ اور میں اُچھل کر اپنی سیٹ سے اُٹھی اور دوسری میں ٹکرا گئی اور وہ جو " سو سال" سے سوئے ہوئے تھے بغیر میری طرف دیکھے باہر بھاگ گئے گویا میں کوئی خون آشام بلا ہوں جو خون پی جاؤں گی( ویسے ہونا تو یہی چائیے تھا) خود باہر سے چائے پی کر اور سگریٹ کے کش لگا کر آ گئے( اب کانی کانی آنکھوں سے دیکھنا میرا حق تو بنتا تھا) اور آتے ہی پھر اوپر چڑھے اور جب تک گاڑی روانہ ہوتی، وہ پھر سو چُکے تھے( نا جانے ٹرین تھی کہ غار) میں حیران کہ اِن لوگوں میں ذرا مہمان نوازی نہیں کہ دلہن کو چائے پانی ہی پوچھ لیں، یہاں تک کہ جو کھانا ابا جی نے ساتھ دیا تھا، وہ بھی سب کھا گئے اور میں دلہن بنی ارے نہیں مجرم بنی بھوکی پیاسی بیٹھی تھی( دُلہن اور مجرم میں کوئی انیس بیس کا ہی فرق ہوتا ہے) ہائے! دل میں ہوک سی اُٹھ رہی تھی اور ڈراموں اور فلموں کی ہیروئنز یاد آ رہی تھیں ـ نا جانے کیا کیا سوچتے، اندھیرا چھٹ گیا اور صبح کا اجالا پھیلا تو دل کو کچھ سکون سا ہوا اور لاہور اسٹیشن کی حلوہ پوری کی خوشبو اور بھوک نے تو پاگل کر دیا مگر میری طرف کسی نے دھیان ہی نہ دیا( ناجانے کون سے جنم کی دشمنی تھی) ایک گھنٹہ میں نے صرف خوشبوؤں سے پیٹ بھرا اور ٹرین چل پڑی ـ دن کے اُجالے میں کم از کم یہ فائدہ ہوا کہ دھیان باہر کے نظاروں میں لگ گیاـ ٹائم کا پتا ہی نہ لگا اور جب کالی کالی، یہ دیو قامت بھینسوں پر نظر پڑی، جن کو گندے چھپڑوں میں نہلایا جا رہا تھا تو بس دل نکل گیا اور بھائیوں کی بات یاد آ گئی ـ اتنے میں میاں جی پھر نیچے کودے اور میں سمجھ گئی کہ فائزہ تیری منزل آ گئی ہےـ صاف ستھرے اسٹیشن پر جب ٹرین رکی تو تسلی ہو گئی کہ گاؤں نہیں بلکہ صاف ستھرا شہر ہے( جب ایک بار میاں جی کو کہا تو بڑے آرام سے بولے: " ایڈی تُو ڈیانا؟ پشاور سے آئی تھی کہ لندن سے)
گیارہ سال جو کہ گیارہ صدیوں کے برابر تھے، وہاں گزار کر پھر ایک دن میں ٹرین میں بیٹھی اور پھر ہزاروں ناگ کی مانند ڈستے اندیشے اور وسوسے تھے، دو چھوٹے بچے ساتھ تھے لیکن اب میاں جی اپنی سوسالہ نیند سے جاگ چُکے تھےـ جب پشاور اسٹیشن پر پہنچے تو سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ اب یہ آخری سفر ہے یا پھر کوئی نئی منزل، نیا راستہ منتظر ہے؟ پھر زندگی ایسی تیز دوڑی کہ ہر قسم کی ٹرین کو پیچھے چھوڑ گئی( جاپانی ٹرینوں کو بھی) اور پھر پشاور کے اسٹیشن سے شروع ہونے والا سفر اسی اسٹیشن پر ختم ہو گیا مگر اب زندگی نے انوکھا رنگ دکھایا" وہی اسٹیشن ہے، وہی بینچ، وہی سٹال مگر میں اب تنہا ہوں اُس بینچ پر اور میاں جی منوں مٹی تلے جا سوئے ہیں، ہزاروں سالوں کے لئے ۔۔۔ "
زندگی تو نے ہر قدم پہ مُجھے
ایک سپنا نیا دکھایا ہے
کبھی غم کو خوشی کا رنگ دیا
کبھی ہنستے ہوئے رلایا ہے
مزید پڑھیں




