جمعہ، 30 اکتوبر، 2026
Baaghi TV Logo
ٹرینڈنگ

ایمانداری کا پھل،تحریر : سدرہ قیوم

نقطہ نظر

پہاڑوں کے دامن میں سبز وادی نام کا ایک چھوٹا سا گاؤں تھا۔ وہاں ایک کچے گھر میں دس سال کا احمد اپنی امی کے ساتھ رہتا تھا۔ احمد کے ابو بچپن میں وفات پا چکے تھے۔ امی لوگوں کے کپڑے سی کر گھر کا خرچ چلاتی تھیں۔ گھر میں دولت تو نہیں تھی، مگر محبت اور سکون بہت تھا۔

احمد شرارتی ضرور تھا، مگر اس کا دل صاف تھا۔ رات کو سونے سے پہلے امی روز ایک نصیحت کرتیں۔ ایک رات انہوں نے کہا، "بیٹا، جو چیز تمہاری نہیں، اس پر تمہارا کوئی حق نہیں۔ کسی کی امانت لوٹانا ہی اصل نیکی ہے۔" احمد نے نیند میں ڈوبی آواز سے کہا، "جی امی، میں یاد رکھوں گا۔"

احمد کے اسکول میں کامران نام کا ایک لڑکا تھا۔ اس کے پاس نئی سائیکل تھی اور چمکدار جوتے تھے۔ احمد اسے دیکھ کر دل ہی دل میں سوچتا، "کاش میرے پاس بھی ایک سائیکل ہوتی!" مگر وہ جانتا تھا کہ امی کی کمائی میں یہ ممکن نہیں، اس لیے کبھی ضد نہ کرتا۔

ایک دن چھٹی کے بعد احمد اکیلا گھر لوٹ رہا تھا۔ سردیوں کی ہلکی دھوپ پھیلی تھی اور راستے میں سوکھے پتے بکھرے تھے۔ اچانک اس کی نظر پتوں کے بیچ ایک بھورے رنگ کے پرانے بٹوے پر پڑی۔ اس نے ادھر ادھر دیکھا، کوئی نظر نہ آیا۔ بٹوہ کھولا تو اس کی آنکھیں پھیل گئیں۔ اندر بہت سے نوٹ تھے۔

احمد کا دل زور زور سے دھڑکنے لگا۔ اس نے سوچا، "اتنے پیسوں سے تو میں سائیکل خرید سکتا ہوں! امی کے لیے نئی چادر بھی لے لوں گا۔ کسی کو پتا بھی نہیں چلے گا۔" اس نے بٹوہ جیب میں ڈالا اور تیز قدموں سے چل پڑا۔

مگر چند قدم بعد ہی اس کے پاؤں بھاری ہو گئے۔ دل میں امی کی آواز گونجی: "جو چیز تمہاری نہیں، اس پر تمہارا کوئی حق نہیں۔" احمد رک گیا۔ اس نے سوچا، "جس کا یہ بٹوہ ہے، وہ اس وقت کتنا پریشان ہوگا۔ شاید اسے ان پیسوں کی بہت ضرورت ہو۔"

وہ سڑک کنارے ایک پتھر پر بیٹھ گیا اور بٹوہ دوبارہ کھولا۔ اندر ایک کارڈ تھا جس پر لکھا تھا: "حاجی رحمت علی، محلہ باغ والا۔" ساتھ ایک دوا کی پرچی بھی تھی۔ احمد نے گہری سانس لی اور کھڑا ہو گیا۔ "نہیں، یہ میرا نہیں ہے۔ میں اسے ضرور لوٹاؤں گا۔" یہ فیصلہ کرتے ہی اس کے دل سے جیسے بوجھ اتر گیا۔

وہ لوگوں سے پوچھتا ہوا محلہ باغ والا پہنچا اور ایک پرانے گھر کا دروازہ کھٹکھٹایا۔ ایک بوڑھے بابا نے دروازہ کھولا۔ ان کی داڑھی سفید تھی اور آنکھیں رونے سے سرخ تھیں۔ "بابا جی، کیا یہ آپ کا بٹوہ ہے؟" احمد نے ادب سے پوچھا۔

بابا جی نے کانپتے ہاتھوں سے بٹوہ لیا اور ان کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے۔ "میرے مالک، تیرا شکر ہے! بیٹا، اس میں میری بیمار بیوی کی دوا کے پیسے تھے۔ میں صبح سے رو رہا تھا۔"

انہوں نے انعام میں کچھ نوٹ دینا چاہے، مگر احمد نے مسکرا کر ہاتھ پیچھے کر لیے۔ "نہیں بابا جی، یہ تو میرا فرض تھا۔ امی کہتی ہیں کہ امانت لوٹانے کا انعام نہیں لیا جاتا۔" بابا جی نے اسے گلے لگا کر دعا دی، "اللہ تجھے دنیا اور آخرت کی ہر نعمت دے۔" ان کی بیوی نے اپنے ہاتھ کا بنا گرم حلوہ کھلایا، جو احمد کو دنیا کا سب سے میٹھا حلوہ لگا۔

گھر پہنچ کر احمد نے امی کو سب سچ سچ بتا دیا، یہ بھی کہ ایک لمحے کو اس کے دل میں لالچ آ گیا تھا۔ امی نے اسے سینے سے لگا لیا۔ "بیٹا، اصل بات یہ ہے کہ تم نے اپنے دل کی صحیح آواز سنی۔ آج تم نے مجھے سب سے بڑی دولت دے دی۔"

اگلے دن حاجی صاحب خود اسکول آئے اور ہیڈ ماسٹر کو سارا واقعہ سنایا۔ صبح کی اسمبلی میں احمد کو سب کے سامنے بلایا گیا اور پورا اسکول تالیوں سے گونج اٹھا۔ کامران آگے بڑھا اور ہاتھ ملا کر بولا، "احمد، مجھے تم پر فخر ہے۔" اس دن کے بعد دونوں گہرے دوست بن گئے، اور کامران اپنی سائیکل پر احمد کو بھی سیر کراتا۔

اس رات احمد بستر پر لیٹا تو اس کے پاس سائیکل نہیں تھی، مگر دل میں ایسی خوشی تھی جو کسی دکان سے نہیں خریدی جا سکتی۔ اس نے چاند کو دیکھ کر آہستہ سے کہا، "اللہ میاں، شکریہ کہ آج میں نے صحیح راستہ چنا۔" اور مسکراتے ہوئے گہری نیند سو گیا۔

ایمانداری سب سے بڑی دولت ہے۔ جو چیز ہماری نہیں، اسے اس کے مالک تک پہنچانا ہمارا فرض ہے، اور نیکی کا اصل انعام دل کا سکون ہے۔