آئی ایم ایف کی قسط یا عوام کے زخموں پر مرہم؟تحریر: اعجاز راہی
نقطہ نظر
ملک کی معیشت کے بارے میں ایک بار پھر خبر آئی ہے کہ پاکستان اور عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے درمیان تقریباً ایک ارب ،اکیس کروڑ ڈالر کی رقم کے حصول کے لیے عملے کی سطح پر معاہدہ طے پا گیا ہے۔ یہ رقم سات ارب ڈالر کے پروگرام اور موسمیاتی پائیداری کی سہولت کے تحت ملنے کی توقع ہے، تاہم اس کے اجرا کے لیے آئی ایم ایف کے ایگزیکٹو بورڈ کی حتمی منظوری ضروری ہے۔ اطلاعات کے مطابق منظوری ملنے پر رقم آئندہ چار سے پانچ ہفتوں میں دستیاب ہو سکتی ہے۔
یہ خبر یقیناً مالیاتی نظام کے لیے اہم ہے، لیکن ایک سوال ہر پاکستانی کے ذہن میں ہے: کیا اس رقم سے عام آدمی کی زندگی میں بھی کوئی آسانی آئے گی؟ کیا مزدور کے گھر میں آٹا، دال اور بجلی کا بل بیک وقت پورا ہو سکے گا؟ کیا والدین بچوں کی فیس ادا کرنے کے لیے ادھار لینے پر مجبور نہیں ہوں گے؟ اور کیا بیمار شخص علاج کراتے ہوئے گھر کے راشن سے سمجھوتا نہیں کرے گا؟
معاشی کامیابی صرف قرض ملنے، زرمبادلہ کے ذخائر بڑھنے یا مالیاتی رپورٹوں میں مثبت اعداد دکھائی دینے کا نام نہیں۔ اس کا اصل پیمانہ شہری کی زندگی ہے۔ اگر قومی معیشت کے اعداد بہتر ہوں، مگر گھر کا بجٹ مسلسل بگڑتا جائے تو ہمیں کامیابی کے دعووں کے ساتھ عوام کی حالت بھی دیکھنی ہوگی۔
مہنگائی صرف قیمتوں میں اضافے کا نام نہیں؛ یہ انسان کی امید، سکون اور خود اعتمادی کو بھی متاثر کرتی ہے۔ جب آمدن محدود اور اخراجات بے قابو ہوں تو گھر کا ہر دن ایک نئی آزمائش بن جاتا ہے۔ والدین بچوں کی خواہشات پوری نہ کر سکیں، مریض دوائی چھوڑنے پر مجبور ہو، اور مزدور پورا مہینہ محنت کے باوجود بنیادی ضروریات پوری نہ کر سکے تو معاشرتی دباؤ خطرناک حد تک بڑھ جاتا ہے۔
گوجرانوالہ کے ایک صفائی ورکر کی موت اسی تناظر میں ہمیں جھنجھوڑتی ہے۔ جولائی میں پیش آنے والے اس واقعے کے بعد سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے انسانی حقوق نے معاملے کا جائزہ لیا۔ الزام تھا کہ ملازم کو پوری تنخواہ نہیں ملی؛ دوسری طرف کمپنی کے حکام نے بینک ریکارڈ کی بنیاد پر اس الزام سے اختلاف کیا۔ کمیٹی نے متعلقہ ریکارڈ طلب کیا۔
یہ اختلاف اپنی جگہ، لیکن اصل سوال یہ ہے کہ ایک عام محنت کش کی شکایت سننے اور اس کے حقوق کا تحفظ کرنے کا مؤثر نظام کہاں ہے؟ مزدور کو تنخواہ کے تنازع پر انصاف حاصل کرنے کے لیے کس دروازے پر دستک دینی چاہیے؟ کسی بھی الزام کی غیر جانب دارانہ تحقیقات اور ذمہ داری کا تعین ضروری ہے، تاکہ نہ مظلوم کی آواز دبے اور نہ کسی کو ثبوت کے بغیر مجرم ٹھہرایا جائے۔
شیخوپورہ میں بھی اکتوبر کے آغاز میں ایک انتہائی افسوس ناک واقعہ پیش آیا، جس میں ایک خاتون اور ان کا بیٹا جاں بحق ہوئے جبکہ بیٹی زخمی ہوئی۔ایک روزنامہ اخبار کے مطابق رپورٹ میں پولیس کے حوالے سے مالی مشکلات اور ذہنی دباؤ کو ممکنہ عوامل بتایا گیا۔تاہم یہ واقعہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ مالی مشکلات، ذہنی دباؤ اور گھریلو بحرانوں کے شکار افراد کو تنہا نہیں چھوڑا جا سکتا۔ معاشرے، خاندان، مقامی اداروں اور ریاست کو مدد کے ایسے راستے مہیا کرنے چاہییں جہاں پریشان حال شخص بروقت سہارا حاصل کر سکے۔ کسی انسانی سانحے کو سیاسی نعرہ بنانے کے بجائے اس سے سبق سیکھنا زیادہ ضروری ہے۔
دوسری طرف حکومت بھی کفایت شعاری کے اقدامات کا اعلان کر چکی ہے۔ سرکاری گاڑیوں کے ایندھن میں پچاس فیصد کمی، غیر ترقیاتی اخراجات میں پانچ فیصد کٹوتی، نئی گاڑیوں کی خریداری پر پابندی اور سرکاری دوروں پر قدغن جیسے اقدامات اسی سلسلے کا حصہ ہیں۔
لیکن عوام یہ جاننا چاہتے ہیں کہ ان فیصلوں پر کتنی سختی سے عمل ہو رہا ہے اور ان سے کتنی رقم بچائی گئی۔ کفایت شعاری صرف نوٹیفکیشن جاری کرنے سے ثابت نہیں ہوتی؛ اس کے لیے شفاف حساب، باقاعدہ نگرانی اور نتائج عوام کے سامنے رکھنا ضروری ہے۔ غیر ضروری پروٹوکول، مہنگی سرکاری تقریبات، غیر اہم دوروں، اضافی گاڑیوں اور غیر مؤثر منصوبوں کے اخراجات کا جائزہ لیا جائے۔ بچائی گئی رقم کو بنیادی صحت، تعلیم، عوامی ٹرانسپورٹ اور کم آمدن والے خاندانوں کی مدد پر خرچ کیا جائے۔
ساتھ ہی ٹیکس کا بوجھ صرف تنخواہ دار طبقے اور پہلے سے دستاویزی معیشت میں موجود افراد پر ڈالنے کے بجائے ٹیکس نیٹ وسیع کرنا، ٹیکس چوری روکنا، سرکاری اداروں کے مسلسل خسارے کم کرنا اور بجلی و گیس کے شعبوں میں نقصانات پر قابو پانا ضروری ہے۔ امداد بھی ایسی ہونی چاہیے جو واقعی مستحق گھرانوں تک پہنچے، نہ کہ سیاسی وابستگی یا سفارش کی بنیاد پر تقسیم ہو۔
آئی ایم ایف کی قسط وقتی مالی سہارا فراہم کر سکتی ہے، لیکن قرض بذاتِ خود خوش حالی نہیں۔ پائیدار بہتری کے لیے روزگار، پیداوار، کاروبار میں آسانی، توانائی کی مناسب قیمت اور ایسی معاشی پالیسی درکار ہے جس میں قربانی کا بوجھ منصفانہ طور پر تقسیم ہو۔ حکومت کو یہ بھی واضح کرنا چاہیے کہ قرض سے ملنے والی گنجائش کس طرح استعمال ہوگی اور اس کا فائدہ عام شہری تک پہنچانے کے لیے کیا عملی اقدامات کیے جائیں گے۔
آخر میں سوال صرف یہ نہیں کہ پاکستان کو آئی ایم ایف سے کتنی رقم ملے گی؛ سوال یہ ہے کہ پاکستان کا شہری کب اس قابل ہوگا کہ اپنی محنت کی کمائی سے باعزت زندگی گزار سکے؟ قومی معیشت کی اصل کامیابی اس دن ہوگی جب مزدور کو پوری اجرت ملے، والدین بچوں کی بنیادی ضروریات پوری کر سکیں، مریض علاج سے محروم نہ رہے اور کسی گھر میں مالی بے بسی امید پر غالب نہ آئے۔
قرض کی قسط ملک کے کھاتے میں رقم بڑھا سکتی ہے؛ مگر عوام کے دلوں میں امید صرف انصاف، روزگار، مہنگائی میں حقیقی کمی اور حکمرانوں کی عملی کفایت شعاری سے پیدا ہوگی۔ یہی وہ معاشی استحکام ہے جس کا انتظار اس ملک کا عام آدمی برسوں سے کر رہا ہے۔





