Baaghi TV Logo
ٹرینڈنگ

بھارتی اخبار نے اپنے ہی ملکی حکام کے دہرے معیار پر سوال اٹھا دیا

Women asiacup2026

بھارتی اخبار نے اپنے ہی ملک کے حکام کے طرزِ عمل اور دہرے معیار پر سوال اٹھاتے ہوئے پاکستان کے ساتھ کھیلوں کے حوالے سے اختیار کیے جانے والے مختلف رویوں پر تنقید کی ہے۔ اخبار نے سوال اٹھایا ہے کہ اگر ہاکی میں پاکستانی کھلاڑیوں سے مصافحہ کرنا اور ان کے ساتھ کھیلنا قابلِ قبول ہے تو پھر کرکٹ میں پاکستانی کھلاڑیوں سے ہاتھ ملانے سے انکار اور پاکستانی حکام سے ملاقات یا ٹرافی وصول نہ کرنے کا الگ اصول کیوں اپنایا جاتا ہے؟ بھارتی اخبار نے اپنے تبصرے میں سوال کیا کہ کھیلوں کے مختلف شعبوں میں پاکستان کے ساتھ برتاؤ کے لیے الگ الگ اصول کیوں مقرر کیے گئے ہیں۔ اخبار کے مطابق ایک طرف ایشیا کپ کرکٹ میں پاکستان کے خلاف میچ کھیلنا قبول کیا جاتا ہے، دونوں ٹیمیں میدان میں ایک دوسرے کے مدمقابل آتی ہیں اور ٹورنامنٹ میں شرکت بھی کرتی ہیں، لیکن دوسری جانب پاکستانی حکام سے ہاتھ ملانے اور ان سے ٹرافی وصول کرنے سے انکار کیا جاتا ہے۔ اخبار نے اس طرزِ عمل کو متضاد قرار دیتے ہوئے سوال اٹھایا کہ اگر پاکستان کے خلاف کرکٹ میچ کھیلنے پر کوئی اعتراض نہیں تو پھر کھیل کے بعد ایک دوسرے سے مصافحہ کرنے یا رسمی طور پر ٹرافی وصول کرنے میں کیا مسئلہ ہے۔ بھارتی اخبار کے مطابق یہ سوال اس لیے بھی اہم ہے کہ بھارت کے دیگر کھیلوں سے وابستہ کھلاڑی پاکستانی کھلاڑیوں سے ہاتھ ملاتے ہیں اور کھیلوں کی روایتی رواداری اور اسپورٹس مین شپ کا مظاہرہ کرتے ہیں۔ بھارتی اخبار نے سوال کیا کہ جب ہاکی سمیت دیگر کھیلوں میں پاکستانی کھلاڑیوں سے مصافحہ کیا جاسکتا ہے تو صرف کرکٹرز کو پاکستانی کھلاڑیوں سے ہاتھ ملانے سے روکنے کی منطق کیا ہے؟ اخبار کے مطابق اگر دونوں ممالک کے کھلاڑی ایک ہی کھیل کے مقابلوں میں شریک ہیں تو ان کے درمیان بنیادی کھیلوں کے آداب اور باہمی احترام کے اصول یکساں ہونے چاہئیں۔ اخبار نے بھارتی کرکٹ بورڈ کے پاکستان کے حوالے سے مبینہ مختلف طرزِ عمل کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا اور لکھا کہ پاکستان کے خلاف کرکٹ میں اختیار کیا جانے والا یہ الگ رویہ کھیل میں سیاسی نفرت کو فروغ دیتا ہے۔ اخبار کے مطابق کھیلوں کو سیاسی کشیدگی سے الگ رکھنے کی بجائے ایسے اقدامات کے ذریعے دونوں ممالک کے کھلاڑیوں کے درمیان معمول کے تعلقات اور کھیلوں کی روایات پر بھی اثر پڑتا ہے۔ بھارتی اخبار نے یہ سوال بھی اٹھایا کہ پاکستانی کھلاڑی سے ہاتھ ملانا بھارت میں حب الوطنی کے خلاف کیوں سمجھا جانے لگا ہے؟ اخبار کے مطابق ایک جانب پاکستان کے ساتھ کرکٹ میچ کھیلنے کو قبول کیا جاتا ہے، لیکن دوسری جانب پاکستانی کھلاڑی سے مصافحہ کرنے جیسے معمول کے کھیلوں کے عمل کو متنازع بنانا واضح تضاد کو ظاہر کرتا ہے۔ اخبار نے اس امر کی جانب بھی توجہ دلائی کہ کھیل کے میدان میں حریف ٹیم کے کھلاڑی سے ہاتھ ملانا عالمی سطح پر اسپورٹس مین شپ، احترام اور کھیل کے بنیادی آداب کا حصہ سمجھا جاتا ہے۔ ایسے میں اگر ایک ہی ملک مختلف کھیلوں میں پاکستان کے ساتھ مختلف اصول اختیار کرے تو اس طرزِ عمل پر سوال اٹھنا فطری ہے۔ بھارتی اخبار کے مطابق اگر پاکستانی کھلاڑیوں کے ساتھ ہاکی میں ہاتھ ملانا قابلِ قبول ہے، تو کرکٹ میں بھی اسی اصول کا اطلاق ہونا چاہیے۔ اخبار نے اس معاملے میں بھارتی حکام اور کرکٹ بورڈ سے سوال کیا کہ کھیل کے میدان میں پاکستان کے ساتھ تعلقات کے لیے مختلف کھیلوں میں مختلف پیمانے کیوں استعمال کیے جارہے ہیں اور آخر وہ کون سا اصول ہے جس کے تحت کرکٹ میں پاکستانی کھلاڑیوں سے مصافحہ کرنا یا پاکستانی حکام سے ٹرافی وصول کرنا قابلِ اعتراض سمجھا جاتا ہے۔ بھارتی اخبار کی جانب سے اٹھائے گئے ان سوالات نے پاکستان اور بھارت کے درمیان کھیلوں کے معاملات میں مبینہ دہرے معیار اور سیاسی اثرات کے حوالے سے ایک نئی بحث کو جنم دیا ہے۔ اخبار کا بنیادی سوال یہی ہے کہ اگر کھیل کے دیگر میدانوں میں پاکستانی کھلاڑیوں کے ساتھ روایتی کھیلوں کے آداب برقرار رکھے جاسکتے ہیں تو پھر کرکٹ میں ان اصولوں کو تبدیل کرنے کی وجہ کیا ہے اور کیا کھیل کو سیاسی اختلافات سے الگ نہیں رکھا جانا چاہیے؟