Baaghi TV Logo
ٹرینڈنگ

اسلام آباد میں سیاسی احتجاج اور ملکی معیشت کا نقصان،تحریر: جان ایم رمضان

نقطہ نظر
jaanm ramzann

اسلام آباد صرف پاکستان کا دارالحکومت نہیں بلکہ ریاستی، سفارتی، انتظامی اور معاشی سرگرمیوں کا ایک اہم مرکز ہے۔ جب دارالحکومت کی شاہراہیں احتجاج، دھرنوں، رکاوٹوں اور تصادم کے خدشات کی وجہ سے متاثر ہوتی ہیں تو اس کے اثرات صرف چند سڑکوں یا چند گھنٹوں تک محدود نہیں رہتے بلکہ عام شہری، کاروباری طبقہ، مزدور، ٹرانسپورٹر اور قومی معیشت سب متاثر ہوتے ہیں۔

حالیہ دنوں میں اسلام آباد میں سیاسی احتجاج کے اعلان کے بعد بڑے پیمانے پر سکیورٹی انتظامات، راستوں کی بندش اور کنٹینرز کی تنصیب دیکھنے میں آئی۔ خبر رساں اداروں کے مطابق حکومت نے احتجاج کے ممکنہ اثرات سے نمٹنے کے لیے بھاری سکیورٹی انتظامات کیے۔

وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے 20 ستمبر 2026 کو کہا کہ احتجاج، دھرنوں، ہڑتالوں اور سڑکوں کی بندش سے ملکی معیشت کو تقریباً 120 ارب روپے روزانہ کا نقصان ہو سکتا ہے۔ حکومتی تخمینے کے مطابق اس میں خدمات کے شعبے کا حصہ تقریباً 86 ارب، صنعت کا 25 ارب اور زراعت کا 9 ارب روپے یومیہ بتایا گیا۔ یہ حکومت کا تخمینہ ہے، حتمی آڈٹ شدہ نقصان کا عدد نہیں۔

یہ اعداد ہمیں سوچنے پر مجبور کرتے ہیں کہ سیاسی اختلاف اپنی جگہ، لیکن کیا قومی معیشت کو مفلوج کرنا کسی مسئلے کا مستقل حل ہو سکتا ہے؟

جمہوریت میں احتجاج شہریوں کا حق ہے، اختلافِ رائے بھی سیاسی نظام کا حصہ ہے، مگر احتجاج اور تشدد میں فرق برقرار رہنا چاہیے۔ سیاسی مطالبات پارلیمان، عدالت، مذاکرات اور آئینی و قانونی ذرائع سے بھی پیش کیے جا سکتے ہیں۔ کسی بھی سیاسی گروہ کے لیے یہ ضروری ہے کہ اس کے احتجاج کا بوجھ عام شہریوں، دکانداروں، مریضوں، طلبہ اور روزانہ اجرت پر کام کرنے والے لوگوں پر نہ پڑے۔

اسلام آباد کے راستے بند ہونے سے سب سے پہلے وہ شخص متاثر ہوتا ہے جو روزگار کے لیے سفر کرتا ہے۔ کاروباری سرگرمی رکتی ہے، سپلائی چین متاثر ہوتی ہے، ٹرانسپورٹ کا نظام دباؤ میں آتا ہے اور ریاستی اداروں کو اضافی سکیورٹی اخراجات برداشت کرنا پڑتے ہیں۔ مثال کے طور پر ڈان نے رپورٹ کیا کہ احتجاج کی تیاریوں کے لیے 1,550 کنٹینرز کے کرائے پر حکومت کو تقریباً 46.5 ملین روپے روزانہ ادا کرنا پڑ سکتے ہیں، جبکہ احتجاج ملتوی ہونے کے بعد مجموعی سکیورٹی اخراجات ایک ارب روپے سے تجاوز کرنے کا امکان بتایا گیا۔

یہ سوال سیاسی وابستگی سے بالاتر ہو کر ہر پاکستانی کو خود سے پوچھنا چاہیے: ہم اپنے اختلافات کو مذاکرات کی میز پر حل کریں گے یا سڑکوں کو میدانِ تصادم بنائیں گے؟

پاکستان پہلے ہی مہنگائی، توانائی، روزگار اور کاروباری مشکلات جیسے مسائل کا سامنا کر رہا ہے۔ ایسے ماحول میں مسلسل سیاسی کشیدگی معاشی سرگرمی کے لیے مزید مشکلات پیدا کر سکتی ہے۔ سیاسی جماعتوں کو اپنی مقبولیت اور احتجاج کے حق کے ساتھ ساتھ اس امر کو بھی پیش نظر رکھنا چاہیے کہ ان کے فیصلوں کا اثر عام آدمی کی زندگی پر پڑتا ہے۔

ریاست کی ذمہ داری بھی اتنی ہی اہم ہے۔ امن و امان برقرار رکھتے ہوئے شہریوں کے بنیادی حقوق، پرامن سیاسی اظہار اور آمدورفت کے حق کا تحفظ ہونا چاہیے۔ قانون سب کے لیے برابر ہونا چاہیے اور کسی بھی سیاسی تنازعے کا حل طاقت یا سڑکوں کی بندش کے بجائے آئینی اور قانونی طریقۂ کار میں تلاش کیا جانا چاہیے۔

آج پاکستان کو سیاسی محاذ آرائی سے زیادہ معاشی استحکام، سرمایہ کاری، روزگار اور کاروباری سرگرمی کی ضرورت ہے۔ اختلافِ رائے ختم نہیں ہونا چاہیے، لیکن اختلاف کو دشمنی اور سیاسی مقابلے کو ریاستی نقصان میں تبدیل نہیں ہونا چاہیے۔

اسلام آباد کی سڑکیں کسی سیاسی جماعت کی ملکیت نہیں، یہ عوام کی ہیں۔ پاکستان کی معیشت بھی کسی ایک جماعت کی نہیں، یہ 25 کروڑ سے زائد پاکستانیوں کا مشترکہ اثاثہ ہے۔لہٰذا سیاسی جماعتوں، حکومت اور تمام فریقین کو چاہیے کہ اختلافات کو آئین، قانون، پارلیمان اور مذاکرات کے ذریعے حل کریں۔ احتجاج اگر پرامن اور قانونی حدود میں ہو تو جمہوری عمل کا حصہ ہے، لیکن ایسا احتجاج جو شہری زندگی، معیشت اور امنِ عامہ کو بڑے پیمانے پر متاثر کرے، اس کے معاشی اور سماجی اثرات پر سنجیدگی سے غور ضروری ہے۔

پاکستان کی ترقی کا راستہ سیاسی استحکام، قانون کی بالادستی اور معاشی سرگرمی کے تسلسل سے گزرتا ہے۔ قوم کو تصادم نہیں، ایسا سیاسی ماحول چاہیے جہاں اختلاف بھی ہو، احتجاج بھی ہو، مگر پاکستان کا نقصان نہ ہو۔