Baaghi TV Logo
ٹرینڈنگ

جب ڈگریاں راکھ ہو جائیں،تحریر: یاسمین اختر طوبیٰ

نقطہ نظر

ملتان کے شاہ رکنِ عالم کے علاقے میں ایک نوجوان نے اپنی تعلیمی اسناد اور ڈگریاں چوک کے بیچ جلا دیں۔ یہ منظر بظاہر چند کاغذوں کے جلنے کا منظر تھا مگر حقیقت میں یہ ایک ایسے خواب کے جلنے کی تصویر تھی جسے ایک نوجوان نے برسوں اپنی آنکھوں میں سجائے رکھا تھا۔ 26 سالہ ساجد، جو ایم فل تک تعلیم حاصل کر چکا ہے، مبینہ طور پر تین برس سے روزگار کی تلاش میں در در کی خاک چھان رہا تھا۔ جب ملازمت نہ ملی، حالات نے جواب دے دیا اور معاشرے کے سوال بڑھتے گئے تو اس نے وہ کاغذ آگ کے حوالے کر دیے جنہیں کبھی اس کے مستقبل کی ضمانت سمجھا جاتا تھا۔

یہ منظر کسی بھی حساس انسان کو اندر تک ہلا دینے کے لیے کافی ہے۔ ایک نوجوان جس نے اپنی زندگی کے بہترین سال کتابوں، امتحانوں اور ڈگریوں کے حصول میں لگا دیے، آخر اس مقام تک کیسے پہنچ گیا کہ اسے اپنی ہی تعلیمی اسناد بے معنی محسوس ہونے لگیں؟ سوال صرف یہ نہیں کہ ساجد نے ڈگریاں کیوں جلائیں، سوال یہ ہے کہ ہم نے اسے اس مقام تک پہنچنے سے پہلے کتنی بار سننے کی کوشش کی؟

عینی شاہدین کے مطابق ساجد سڑک پر کھڑا چیخ رہا تھا کہ ان کاغذ کے ٹکڑوں کا کیا فائدہ، جب یہ اسے دو وقت کی روٹی بھی نہیں دے سکتے۔ یہ جملہ بظاہر غصے میں نکلا ہوا ایک فقرہ ہے لیکن اس کے اندر ہمارے معاشرے کا ایک بہت بڑا المیہ چھپا ہوا ہے۔ ہم نوجوانوں سے کہتے ہیں کہ تعلیم حاصل کرو، محنت کرو، ڈگری لو، کامیاب ہو جاؤ اور جب وہ تعلیم مکمل کرکے عملی زندگی میں قدم رکھتے ہیں تو انہیں معلوم ہوتا ہے کہ کتابوں میں لکھی ہوئی قابلیت اور بازارِ روزگار میں مانگی جانے والی قابلیت کے درمیان ایک لمبا اور دشوار راستہ موجود ہے۔

اس راستے پر ہر نوجوان کو یکساں مواقع بھی نہیں ملتے۔ کہیں سفارش کا دروازہ پہلے کھلتا ہے، کہیں تجربے کی شرط راستہ روک لیتی ہے، کہیں معمولی سی ملازمت کے لیے بھی غیر معمولی توقعات سامنے آ جاتی ہیں۔ ساجد کے بارے میں بھی مبینہ طور پر یہی شکایت سامنے آئی کہ ملازمت کے لیے سفارش اور رشوت کا سامنا کرنا پڑا۔ ان الزامات کی آزادانہ تصدیق اپنی جگہ ایک الگ معاملہ ہے لیکن اس واقعے نے کم از کم یہ سوال ضرور کھڑا کر دیا ہے کہ ہمارے ہاں روزگار کی تلاش میں نکلنے والے نوجوان کو میرٹ، شفافیت اور عزت کے ساتھ آگے بڑھنے کے کتنے مواقع میسر ہیں؟

پھر معاشرہ بھی عجیب امتحان لیتا ہے۔ بے روزگار نوجوان سے پوچھا جاتا ہے، "ابھی تک کوئی نوکری نہیں ملی؟" عمر بڑھنے لگے تو دوسرا سوال آتا ہے، "کچھ کر کیوں نہیں رہے؟" رشتے دار مشورے دیتے ہیں، پڑوسی تبصرے کرتے ہیں اور بعض اوقات اپنے ہی لوگ طعنے دینے لگتے ہیں۔ کوئی یہ نہیں پوچھتا کہ جس شخص نے برسوں پڑھنے کے بعد ملازمت کے لیے دروازے کھٹکھٹائے ہیں، ان دروازوں کے مسلسل بند ہونے سے اس کے اندر کیا گزر رہی ہے۔

ساجد نے مبینہ طور پر خود کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی تو ٹریفک پولیس اہلکاروں اور راہگیروں نے بروقت مداخلت کرکے اسے قابو کر لیا اور اس کے ہاتھ سے ماچس چھین لی۔ یہ چند لمحوں کی کوشش ایک قیمتی جان بچانے کا سبب بنی۔ مگر یہاں ایک اور سوال جنم لیتا ہے: ماچس تو چھین لی گئی مگر وہ مایوسی کون چھینے گا جو اس نوجوان کے اندر کئی برس سے سلگ رہی ہے؟

تھانے میں جب اس کے غریب والدین پہنچے ہوں گے تو شاید ان کے پاس کہنے کے لیے بہت کچھ نہیں تھا۔ وہی والدین جنہوں نے اپنے وسائل محدود ہونے کے باوجود بیٹے کو پڑھایا ہوگا، اس امید کے ساتھ کہ تعلیم اسے وہ مقام دے گی جو شاید وہ خود حاصل نہ کر سکے۔ والدین کے لیے اولاد کی ڈگری صرف ایک سند نہیں ہوتی، اس میں برسوں کی قربانیاں، دعائیں، فاقے، قرض اور امیدیں شامل ہوتی ہیں۔ سوچنے کی بات ہے کہ جب وہی ڈگریاں ان کی آنکھوں کے سامنے آگ کی نذر ہوں تو ان کے دل پر کیا گزرتی ہوگی۔

ہمیں اس واقعے کو صرف ایک نوجوان کی جذباتی کیفیت کہہ کر آگے نہیں بڑھ جانا چاہیے۔ ایک شخص کا انتہائی قدم اکثر اس کے پیچھے چھپی ہوئی طویل کہانی کا آخری صفحہ ہوتا ہے۔ اس آخری صفحے سے پہلے کئی خاموش صفحات ہوتے ہیں۔۔۔ ناکام انٹرویوز، بند دروازے، گھر والوں کے سوال، معاشرے کے طعنے، دوستوں کی کامیابیاں اور اپنی ناکامی کا بڑھتا ہوا احساس۔ ہر بار انسان تھوڑا سا ٹوٹتا ہے، یہاں تک کہ ایک دن وہ اپنے ہاتھ میں پکڑی ہوئی ڈگری کو بھی اپنی شکست کی علامت سمجھنے لگتا ہے۔

یہاں ریاست، اداروں، تعلیمی نظام اور معاشرے، سب کو اپنے اپنے حصے کا سوال سننا ہوگا۔ نوجوانوں کو صرف ڈگریاں دینا کافی نہیں۔۔۔ انہیں باعزت روزگار کے مواقع، میرٹ پر بھرتی کا یقین اور آگے بڑھنے کا منصفانہ راستہ بھی دینا ہوگا۔ ورنہ یونیورسٹیوں سے نکلنے والے لاکھوں نوجوانوں کے ہاتھ میں ڈگری تو ہوگی مگر دل میں مستقبل کا خوف بھی ہوگا۔

ساجد کی ڈگریاں جل کر راکھ ہوگئیں مگر راکھ صرف کاغذ کی نہیں تھی، اس میں ایک نوجوان کی امید بھی شامل تھی۔ اس واقعے کی سب سے بڑی تلخی شاید یہی ہے کہ جس معاشرے میں ڈگری کو کامیابی کی سیڑھی کہا جاتا ہے، وہاں ایک تعلیم یافتہ نوجوان نے اسی ڈگری کو اپنے لیے بے فائدہ کاغذ سمجھ لیا۔

ہمیں اس راکھ کو ہوا میں اڑنے نہیں دینا چاہیے۔ اس سے سوال اٹھانے چاہییں، نظام کو آئینہ دکھانا چاہیے اور اپنے نوجوانوں سے صرف یہ نہیں پوچھنا چاہیے کہ "تم نے کیا کیا؟" بلکہ کبھی یہ بھی پوچھنا چاہیے کہ "ہم نے تمہارے لیے کیا کیا؟"

کیونکہ نوجوان جب اپنی ڈگری جلاتا ہے تو صرف کاغذ نہیں جلتا، معاشرے کا ایک وعدہ جلتا ہے اور اگر ہم نے اس آگ کی تپش محسوس نہ کی تو کل کسی اور چوک میں کوئی اور ساجد اپنے خوابوں کی آخری نشانی ہاتھ میں لیے کھڑا ہو سکتا ہے۔