Baaghi TV Logo
ٹرینڈنگ

جہاں تاریخ سانس لیتی ہے،تحریر: شمسہ رانی

نقطہ نظر
shamsa rani

عالمی یومِ سیاحت کے موقع پر جب دنیا بھر میں سفر، ثقافت، تاریخ اور قدرتی حسن کی اہمیت اجاگر کی جا رہی ہے، تو پاکستان جیسے تہذیبی ورثے سے مالا مال ملک کے لیے یہ دن اپنے تاریخی خزانوں کی جانب دوبارہ متوجہ ہونے کی دعوت بھی ہے۔ ہماری سرزمین کے گوشے گوشے میں ماضی کے ایسے نقوش بکھرے ہوئے ہیں جو آج بھی خاموش زبان میں ہماری تہذیبی شناخت، علمی عظمت اور انسانی ارتقا کی داستان سناتے ہیں۔ ٹیکسلا اور واہ کا خطہ اسی تاریخی تسلسل کا ایک روشن باب ہے، جہاں قدیم تہذیبوں کے آثار، علم و فن کی روایت، شاہراہوں کی تاریخ اور فطرت کی دل آویزیاں ایک ہی منظرنامے میں جلوہ گر ہوتی ہیں۔


ٹیکسلا محض ایک شہر نہیں، ایک زندہ تاریخ ہے۔ کبھی یہی خطہ قدیم دنیا کے اہم مراکزِ علم و تہذیب میں شمار ہوتا تھا۔ یونانی، ایرانی، وسط ایشیائی اور مقامی تہذیبوں کے اثرات نے یہاں ایسی تہذیبی آمیزش پیدا کی جس کے آثار آج بھی اس کی زمین سے ملتے ہیں۔ UNESCO کے مطابق ٹیکسلا کی آثارِ قدیمہ کی حدود میں سراے کالا، بھڑدرگی، سرکپ، سرسُکھ، بدھ مت کی خانقاہیں اور متعدد اسٹوپے شامل ہیں؛ یہی وجہ ہے کہ ٹیکسلا کو عالمی ثقافتی ورثے کی غیر معمولی اہمیت حاصل ہے۔


اسی تاریخی منظرنامے کے درمیان ٹیکسلا میوزیم کھڑا ہے؛ ایک ایسا عجائب گھر جہاں ماضی محض کتابوں کے صفحات میں نہیں بلکہ پتھر، مٹی، دھات اور فن پاروں کی صورت میں ہمارے سامنے موجود ہے۔


ٹیکسلا میوزیم کی تعمیر کا آغاز 1918ء میں ہوا، اس کا سنگِ بنیاد اُس وقت کے وائسرائے لارڈ چیمسفورڈ نے رکھا، جبکہ عمارت 1928ء میں مکمل ہوئی۔ میوزیم میں تقریباً چار ہزار نوادرات نمائش کے لیے رکھے گئے ہیں، جن میں پتھر، اسٹکو، مٹی، چاندی، سونا، لوہا اور نیم قیمتی پتھروں سے بنی اشیا شامل ہیں۔ ان میں سے بڑی تعداد ٹیکسلا کے قدیم آثار سے برآمد ہوئی۔


یہاں گندھارا تہذیب کا فن اپنے پورے جلال کے ساتھ دکھائی دیتا ہے۔ بدھ مت، ہندو اور جین روایات سے متعلق آثار اس خطے کی مذہبی اور تہذیبی وسعت کا پتا دیتے ہیں۔ مجسمے، سکے، زیورات، مٹی کے برتن، تعمیراتی باقیات اور دیگر نوادرات ہمیں یہ احساس دلاتے ہیں کہ ہزاروں سال پہلے بھی یہ خطہ علم، تجارت، فن اور تہذیبی میل جول کا اہم مرکز تھا۔


ٹیکسلا کی سیاحت کی خوبصورتی صرف میوزیم تک محدود نہیں۔ میوزیم سے باہر نکلیں تو قدیم شہر سرکپ، بھڑدرگی کے آثار، دھرم راجیکا اسٹوپا، جولیاں، موہرا مرادو اور دیگر تاریخی مقامات ایک ایسے سفر کا آغاز کرتے ہیں۔ جس میں ہر قدم کے نیچے کوئی نہ کوئی داستان دفن ہے۔ UNESCO کے مطابق ٹیکسلا کے آثار پانچ صدیوں سے زیادہ عرصے میں برصغیر میں شہری ارتقا کی مختلف منزلوں کو ظاہر کرتے ہیں۔


لیکن اس تاریخی سفر کو اگر ہم واہ کے سبزہ زاروں تک لے ائیں تو منظر بدل جاتا ہے۔ شیر شاہ پارک جو اسلم مارکیٹ کے قریب واقع ہے تاریخ اور فطرت کے ایک خوبصورت امتزاج کی صورت سامنے اتا ہے۔ مقامی تاریخی روایت کے مطابق یہاں موجود قدیمی باولی/ پانی کی جگہ کا تعلق شیر شاہ سوری کے دور سے جوڑا جاتا ہے۔ روایت ہے کہ عظیم شاہراہ کے سفر کے دوران مسافروں اور گھوڑوں کے لیے یہاں پانی کا انتظام کیا گیا تھا ۔مقامی ماخذ اسے شیر شاہ سوری کی بنائی ہوئی ایک قدیم آبی گزرگاہ یا باولی سے منسلک کرتے ہیں۔

یہ نسبت اپنے اندر ایک پوری تاریخ سموئے ہوئے ہے۔ شیر شاہ سوری نے برصغیر کے قدیم سفری راستوں کو منظم اور مضبوط بنانے میں نمایاں کردار ادا کیا اور اس کے دور میں شاہراؤں، مسافروں اور پانی کی سہولت کے لیے کیے گئے انتظامات نے سفر کو ایک نئی صورت دی۔ اج اسی تاریخی تسلسل کی ایک جھلک شیر شاہ پارک کے ماحول میں محسوس کی جا سکتی ہے۔ یہاں تاریخ کے ساتھ فطرت بھی موجود ہے۔ گھنے درخت، سبزہ، پھول، کشادہ ماحول اور بچوں کے لیے تفریح سہولتیں اسے مقامی لوگوں کے لیے پرسکون مقام بناتی ہیں۔ یوں یہ جگہ صرف ایک پارک نہیں رہتی بلکہ ماضی اور حال کے درمیان ایک نرم سا پل بن جاتی ہے۔

عالمی یوم سیاحت ہمیں دراصل یہی سبق دیتا ہے کہ سیاحت صرف دور دراز ملکوں کی طرف سفر کرنے کا نام نہیں۔ کبھی اپنے شہر، اپنے گاؤں، اپنی گلی اور اپنے خطے کے اس گوشے کو بھی دیکھنا چاہیے۔ جس کے بارے میں ہم روز سنتے ہیں ۔مگر اس کی تہہ میں چھپی تاریخ سے بے خبر رہتے ہیں۔

ٹیکسلا میوزیم ہمیں بتاتا ہے کہ تہذیبیں مٹتیں نہیں، اپنے آثار چھوڑ جاتی ہیں ۔سر کپ اور جولیاں ہمیں یاد دلاتے ہیں کہ علم وفن کی کوئی سرحد نہیں ہوتی۔ جبکہ شیر شاہ پار کر ہمیں یہ احساس دلاتا ہے کہ راستے صرف منزلوں تک نہیں لے جاتے۔ وہ تاریخ بھی اپنے ساتھ لے کر چلتے ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم اپنے تاربخی مقامات کو محض پکنک یا سیر کی جگہ سمجھنے کے بجائے اپنی تہذیبی شناخت کا حصہ بنائیں۔ نئی نسل کو ان مکامات کی تاریخ بتائیں مقامی سیاحت کو فروغ دیں، اثار قدیمہ کی حفاظت کرے اور دنیا کو بتائیں کہ پاکستان صرف قدرتی حسن کا ملک نہیں بلکہ ہزاروں سال پرانی تہذیبوں علمی روایات اور انسانی تاریخ کا ایک شاندار باب بھی ہے۔ کیونکہ جس قوم کو اپنے ماضی کے قدموں کے نشان پہچاننے ا جائیں۔ وہ اپنے مستقبل کی سمت بھی زیادہ شعور کے ساتھ متعین کر سکتی ہے۔

ٹیکسلا کی خاموش دیواریں اج بھی بولتی ہیں۔ ضرورت صرف اتنی ہے کہ ہم سیاح بن کر نہیں اپنے ماضی کے وارث بن کر انہیں سنیں۔