Baaghi TV Logo
ٹرینڈنگ

جنت سے کم نہیں ،تحریر: فائزہ شہزاد

نقطہ نظر

27 ستمبر کو پوری دنیا میں " سیاحت کا عالمی دن " منایا جاتا ہےـ اِس دن ہر جگہ، ہر شہر میں تقریبات منعقد کی جاتی ہیں اور سیاحت کے شعبے کو فروغ دینے کے لئے بہت سی تجاویز پیش کی جاتی ہیں ـ سیاحت کا مطلب صرف پہاڑ، سرسبز میدان اور بہتے جھرنے نہیں، بلکہ سیاحت کسی بھی ملک، کسی بھی قوم کی پوری تاریخ ہے، جس سے آگاہی ہر فرد کو اور خصوصا ہماری نوجوان نسل کو بہت ضروری ہےـ آئیں آج کے دن میں آپ کو اپنے شہر، اپنے صوبے کی سیر کرواؤں جس کے لئے نہ تو ہمیں مہنگی ٹکٹوں کی ضرورت ہے اور نہ ہی کوئی ڈالرز ـ بس آپ میرے ساتھ ساتھ قدم بہ قدم چلتے اوہو ! پڑھتے جائیں اور آگے بڑھتے جائیں ـ

میرا شہر " پھولوں کا شہر پشاور " ہے جو کہ صوبہ خیبر پختونخوا (پرانا نام صوبہ سرحد) ہےـ میرے والد غلام جیلانی مرحوم بتایا کرتے تھے کہ " جب ہم پشاور شہر میں آ کر آباد ہوئے تو اُس وقت ہر طرف پھول ہی پھول تھے اور جا بہ جا درختوں کی ٹھنڈی ٹھنڈی چھاؤں تھی اور ہم میلوں پیدل چلتے تھے مگر نہ کوئی گرمی تھی، نہ کوئی تھکاوٹ، بلکہ اردگرد کی خوبصورتی میں گم بلکہ یہ کہنا زیادہ مناسب ہوگا کہ ہم اللہ پاک کی بنائی اِس دنیاوی جنت میں اِس طرح کھو جاتے تھے کہ ہمیں احساس ہی نہیں ہوتا تھا کہ ہم نے میلوں کی مسافت طے کر لی ہےـ شہر کے درمیان سے ایک نہر نکلتی تھی جس کا پانی ایسا صاف و شفاف ہوتا تھا کہ اُس کی تہہ میں پڑے خوبصورت پتھر بھی نظر آتے تھے ـ" میں جب اپنے والد سے یہ سنتی تو لگتا تھا کہ کسی اور دنیا کی باتیں ہیں یا پھر کوئی قصہ کہانی، لیکن یہ سب حقیقت تھی، لیکن پھر ترقی کی دوڑ میں ہم نے بہت کچھ کھو دیاـ ایک تو ناجانے میری سوچ کے پنکھ پکھیرو کدھر سے کدھر پرواز کر جاتے ہیں ـ

میرا شہر پشاور جس کا قدیم نام " پراش پورہ " تھا، کوئی عام شہر نہیں ، بلکہ یہ 2500 سال پرانی تہذیبوں کا مرکز یا سنگم ہے اور پشاور کے باسیوں کو شاید یہ معلوم ہی نہیں کہ ہم کس تاریخی شہر میں بستے ہیں؟ جو نہ صرف تاریخی لحاظ سے بلکہ اپنی خوبصورتی کے لحاظ سے پوری دُنیا میں ایک منفرد مقام رکھتا ہےـ صرف آج کے دور میں ہی نہیں، ناجانے کب سے یہ سیاحوں کے لئے ایک پرکشش شہر اور صوبہ ہےـ

لیں جی ہمارا پہلا پڑاؤ ہے یہاں کا تاریخی اور مشہور بازار " قصہ خوانی بازار" ـ یہ بازار کبھی وسطی ایشیاء کی سب سے بڑی " بیٹھک یا چوپال " تھاـ یہاں کابل، بخارا، سمرقند اور برصغیر پاک و ہند سے تاجر آیا کرتے تھے اور سب ایک دوسرے کو اپنے اپنے علاقائی قصے کہانیاں سنایا کرتے تھے اور اسی وجہ سے اِس بازار کو یہ نام دیا گیاـ اِس کی تنگ و تاریک گلیوں میں ہی سرائے تھیں جن میں یہ تاجر قیام کرتے تھےـ قصے کہانیوں کے ساتھ ساتھ گرما گرم " چپلی کباب اور قہوے " سے بھی لطف اندوز ہوتے تھے ـ اسی بازار میں ایک یادگار بھی ہے" شہیدوں کی یادگار " جو قیام پاکستان کے لئے دی جانے والی قربانیوں کی یاد دلاتی ہےـ میں جب بھی اِس بازار سے گزرتی ہُوں تو ایک لمحے کے لئے ضرور کھڑی ہوکر سوچتی ہُوں کہ صرف اِس جگہ پر کتنے شہیدوں کا لہو ہے لیکن آج کی نوجوان نسل کو ایسے لگتا ہے کہ یہ وطن ہمیں شاید " سونے کے طشت" میں رکھا ملا ہےـ اِس بازار میں پشاور کے روایتی کھانوں کی بے شمار دکانیں ہیں اور کچھ قدیم عمارات کو سیاحوں کی وجہ سے ہوٹلز، ریسٹورانٹس کی شکل دے دی گئی ہے ـ

پشاور کے مشہور بازار " صرافہ بازار ( جس میں جیولرز کی دکانیں ہیں اور شو کیسوں میں سجے یہاں کے روایتی زیورات ہمیشہ سے سیاحوں کی توجہ کا مرکز رہے ہیں، جب میں چھوٹی تھی تو اسکول آتے جاتے مختلف سیاحوں کو جن میں زیادہ تر چینی اور یورپین، جن کو اُس وقت شاید " ہیپی " کہا جاتا تھاـ اُن کے ساتھ خواتین وہ زیورات پہن پہن کر اپنی تصاویر کھینچوایا کرتی تھیں اور میں بہت حیرانی سے دیکھا کرتی تھی، اسی بازار میں میرے والد غلام جیلانی مرحوم کی دکان تھی" پہلوان دیسی گھی اسٹور" کے نام سے۔۔ جی ہاں میرے والد اصلی والے پہلوان تھے اور بھولو برادران کے ہم عصر تھے اور " رُستم کابل " تھے ـ اُن کی دکان پر یہ سیاح آتے دیسی گھی سے بھی لطف اندوز ہوتے اور تصاویر بھی بنوا کر لے جاتے تھے کہ وہاں کے اخبارات اور رسائل میں دیں گےـ اسی بازار میں " باز " لئے کچھ افراد گھومتے تھے اور سیاحت اُن سے خرید کر لے جاتے تھے، ناجانے کہاں ؟ اور ایک دلچسپ بات کہ اِس بازار کی اندرون لمبی لمبی گلیوں میں( اسی لئے اندر شہر بھی کہتے ہیں) بہت ہی خوبصورت اور نایاب قسم کے سانپ اور بچھو بھی پائے جاتے تھے، جنہیں دیکھ کر ہم تو سہم جاتے تھے مگر سپیرے ایسے پکڑ کر کاندھوں پر لٹکائے بازار میں گھومتے تھے اور سیاحوں کو بیچ کر بہت خوش ہوتے تھےـ اتنے واقعیات ہیں کہ لکھنے بیٹھوں تو شام ہوجائےـ اور بچھو شیشے کی بوتلوں میں بند کرکے بیچے جاتے تھے ) جی تو اسی صرافہ بازار میں مشہور تاریخی مسجد " مہابت خان مسجد " ہے جو سفید رنگ کی سادہ اور پرکشش مسجد ہے جو دُور سے دیکھنے پر ہی ہر ذی نفس کو اپنی طرف متوجہ کرتی ہےـ یہ 1630 میں بننے والی صرف عبادت گاہ نہیں بلکہ فن کا ایک شاہکار ہے، اِس کی دیواروں پر بنے نقش و نگار فن خطاطی کا بہترین نمونہ ہیں ـ یہ ہمیشہ سے ہی سیاحوں کے لئے بہت پرکشش مقام رہا ہے اور پوری عقیدت اور احترام سے وہ مسجد کا دورہ کرتے اور تصاویر بنواتے ـ

شہر کے وسط میں واقعہ یہ اونچی شان و شوکت سے کھڑا مشہور قلعہ " بالا حصار" دور سے ہی اپنی عظمت و ہیبت کی داستان سناتا نظر آتا ہےـ جی ہیبت کا لفظ اِس لئے کہ جب میں نے پہلی بار دیکھا تھا تو " پھانسی گھاٹ اور اندھے کنوئیں" کو دیکھ کر ہیبت طاری ہو گئی تھی اور جو آج تک قائم ہےـ پہلے یہ ہر خاص و عام کے لئے ہر وقت کھلا رہتا تھا مگر پھر سیکیورٹی ایشوز کی وجہ سے اسے صرف خاص خاص مواقعوں پر اور خاص شخصیات کے لئے کھولا جاتا ہےـ اِس کے ساتھ پشاور کا سب سے بڑا ہسپتال جسے مقامی زبان میں " جرنیلی ہسپتال " کہا جاتا ہے ۔۔ یعنی " لیڈی ریڈنگ ہسپتال" واقعہ ہے جو انگریزوں کے دورِ حکومت میں ایک برٹش فوجی افسر کی بیوی لیڈی ریڈنگ کے نام پر بنایا گیا تھاـ چلیں چلتے چلتے آپ کو مختصر سی کہانی سناتی چلوں ( تھک تو نہیں گئے آپ ) یہ لیڈی گھڑ سواری کرتے ہوئے گری اور زخمی ہوگئیں تو اُس وقت کوئی ایسا ہسپتال نہیں تھا، جہاں اس کا پراپر علاج ہوتا لہٰذا اُسے احساس ہوا کہ ایک ایسا ہسپتال ہوں جہاں تمام طبی سہولیات فراہم کی جا سکیں ( اللہ بھلا کرے جو اتنا بڑا ہسپتال بنا گئے) تب سے اب تک یہ ہسپتال اپنی جگہ پر قائم عوام الناس کی خدمت پر مامور ہےـ

ارے یہ دیکھیں ! پشاور میوزیم ! گندھارا تہذیب کو اپنے اندر سمیٹے ہوئے ۔۔ یہاں پر ایسے نادر اور نایاب قسم کے مجسمے پڑے ہیں ، جنہیں دیکھنے کے لئے سری لنکا، چین، جاپان، اور ناجانے کہاں کہاں سے بدھ مت کے پیرو کار یہاں آتے ہیں ـ ایک پوری تاریخ یہاں محفوظ ہے ـ ویسے تو ہمارے پاس " تخت بھائی" کے کھنڈرات بھی ہیں جو یونیسکو کے عالمی ثقافتی ورثے میں شامل ہیں، جو ایک الگ کہانی ہےـ ( پوری دُنیا سے سیاح اُسے دیکھنے آتے ہیں مگر افسوس کہ ہم لوگ انہیں بھولتے جا رہے ہیں ) اور گندھارا تہذیب میں اشوکا کی داستان بھی بہت دلچسپ ہے ۔۔

اِس کے علاوہ میرے پیارے شہر پشاور میں " گور گٹھری، سیٹھی ہاؤسز( چوب کاری کے شاہکار نمونے ہیں، جو دیکھنے سے تعلق رکھتے ہیں) چوک یادگار، گھنٹہ گھر، بازار مسگراں( جہاں تانبے کے خوبصورت اور منقش برتن اور ڈیکوریشن پیس اپنی مثال آپ ہیں) بٹیر بازار بھی ہے، جی وہی آدھا تیتر آدھا بٹیر والا بٹیر( یہاں کا قدیمی مشغلہ بٹیر بازی بھی تھا، جیسے مرغ بازی اور کبوتر بازی ہے) مُجھے لگتا ہے آپ تھک چُکے ہیں، چلیں اب کچھ کھانا پینا ہوجائے ۔۔ آپ کیا کھانا پسند کریں گے؟ چنا میوہ پلاؤ، کابلی پلاؤ، مونگ پلاؤ، نارنج پلاؤ، چپلی کباب، دم پخت، روش ، پٹے تکے، شینواری کڑاہی، کباب کڑاہی، تکہ کڑاہی، ارے ارے گھبرائیں مت کوئی بات نہیں سب اچھے سے هضم ہوجائے گا جب ہم یہاں کا روایتی سبز قہوہ پیئیں گے جو بہت سے امراض کا علاج بھی ہے ـ

ابھی تو میرے شہر کی آدھی سیر بھی مکمل نہیں ہوئی کہ ہم شہر سے باہر کے مضافات کی سیر بھی کریں، جن میں سوات( جسے مشرق کا سوئٹزر لینڈ کہتے ہیں اور ملکہ ایلزبتھ نے بھی برطانیہ کا سویٹزر لینڈ کہا تھا) کالام، بحرین، مالم جبہ، گبین جبہ، جہاں برف بھی ہے، سبزہ اور بہتے گنگناتے جھرنے بھی ، کمراٹ بھی ہے اور دیر کی خوبصورت وادی بھی، دیودار کے اونچے لمبے درخت بھی اور سفید دودھ جیسا میٹھا پانی اور سب سے بڑی بات خاموشی بھی ۔۔ ذہنی سکون کی بہترین دوا جہاں موبائل کے سگنل بھی بند ہو جاتے ہیں( کتنا سکون ہوتا ہوگا موبائل کے بنا، یہ تو جاؤں گی تو معلوم ہوگا) چترال اور کالاش کی وادیاں جہاں کے لوگ آج بھی ہزاروں سال پرانی ثقافت پر زندہ ہیں، اُن کے تہوار، ناچ گانا، یہ سب ہمارے صوبے کا وہ ثقافتی رنگ ہے جو دُنیا میں اور کہیں نہیں ملتاـ

ابھی تو بہت کچھ لکھنے کو رہ گیا ہے مگر چلتے چلتے آخر میں سب سے ایک درخواست بھی ہے کہ آج کے دن صرف تقریبات اور تقاریر سے کام نہیں لینا چاہئے بلکہ اِس شعبے کی ترقی اور ترویج کے لئے مثبت قدم بھی اٹھانا چاہئے یعنی محض گفتار کے نہیں بلکہ کردار کے غازی بن کر ہم سب کو مل کر کام کرنا ہوگاـ حکومت کو چاہئے کہ وہ سڑکیں بہتر بنائے، سیاحوں کی حفاظت اور رہنمائی کے لئے تربیت یافتہ عملہ رکھے، مقامی لوگوں کو تربیت دی جائے کہ اپنے مہمانوں( سیاحوں) کا احترام کریں، اُن کے جان و مال کی حفاظت کریں، مناسب قیمت لیں اور اپنے کردار سے ثابت کریں کہ ہم سچے مسلمان اور محب وطن پاکستانی ہیں ـ

ہمارے سیاحتی مقامات پر صفائی کا بہت بڑا مسئلہ ہے یا شاید ہم میں مسئلہ ہے، ہم جہاں جاتے ہیں وہاں کچرا پھینک آتے ہیں ـ دریاؤں میں پانی کی بوتلیں، بچوں کے گندے پمپرز اور شاپنگ بیگز وغیرہ تیر رہے ہوتے ہیں ـ یعنی " جہاں بھی گئے داستاں چھوڑ آئے" ( گندگی کی صورت میں) تو آئیں آج کے دن ہم عہد کریں کہ اللہ پاک نے یہ جو جنت جیسی دھرتی دی ہے ہم اِس کی حفاظت کریں گے اور اپنی آنے والی نسلوں کے لئے ایک اچھی اور بہترین مثال چھوڑ کر جائیں گے ۔۔

یہ دھرتی میری ماں

یہ دھرتی میری ماں

تپتی دُھوپ میں ٹھنڈی چھاں

قریہ قریہ گوشہ گوشہ اِس کا میں گھوموں

نام لبوں پر آ جائے اُس کو میں چوموں

ہر پل ہے میرا ایماں

یہ دھرتی میری ماں

یہ دھرتی میری ماں