جمعرات، 29 اکتوبر، 2026
Baaghi TV Logo
ٹرینڈنگ

خوابوں کی راکھ، تحریر: عنثہ اظہر

نقطہ نظر

خوابوں کی راکھ دل میں رہ کر اپنی زندگی گزارتی ہے یا ہوا میں اُڑ کر اپنا نام و نشان کھو دیتی ہے؟

سارہ اُس کاغذ کے ٹکڑے کو گھور رہی تھی۔ دس سال گزر گئے تھے، مگر اُس پر لکھے چند لفظ آج بھی اُس کے دل میں زندہ تھے۔

’’میرا ناشتہ کہاں ہے؟‘‘

شہریار کی آواز نے اُس کی سوچ کا تسلسل توڑ دیا۔ سارہ فوراً باورچی خانے کی طرف چلی گئی۔ شہریار کی نظر کاغذ پر پڑی تو وہ چند لمحے اُسے دیکھتا رہا۔ اُسے کیا معلوم تھا کہ یہ معمولی سا کاغذ کسی کی پوری زندگی کی کہانی اپنے اندر سمیٹے ہوئے ہے۔

’’بابا! میری فرسٹ ڈویژن آئی ہے!‘‘

سارہ خوشی سے چیختی ہوئی کمرے سے باہر نکلی۔ مرتضیٰ صاحب، جو ابھی نماز سے فارغ ہوئے تھے، بیٹی کی آواز سنتے ہی مسکرا اُٹھے۔

’’میری بیٹی ماسٹرز کرے گی، اپنے نام سے پہچانی جائے گی اور میرے خواب پورے کرے گی!‘‘

سارہ کے خوابوں میں ایک ایسی زندگی تھی جہاں وہ تعلیم حاصل کر کے اپنی پہچان بنائے گی اور اپنے والد کا سر فخر سے بلند کرے گی۔ اُس کا ماسٹرز میں داخلہ ہو گیا تھا، مگر ابھی پہلا سمسٹر ہی گزرا تھا کہ اُس کا رشتہ ہمسایوں میں طے ہو گیا۔

شہریار بچپن سے اُس کے سامنے پلا بڑھا تھا۔ مرتضیٰ صاحب کو اُس پر بھروسا تھا کہ وہ اُن کی بیٹی کے خوابوں کی قدر کرے گا۔ اپنی ناساز طبیعت اور بیٹی کو خوش دیکھنے کی خواہش کے باعث اُنہوں نے رشتے کے لیے رضامندی ظاہر کر دی۔

شہریار کی والدہ سرکاری اسکول میں معلمہ تھیں۔ وہ چاہتی تھیں کہ شادی جلد ہو جائے تاکہ گھر کی ذمہ داریاں سارہ سنبھال لے۔

سارہ کے نزدیک شادی صرف ایک رشتہ نہیں، بلکہ دو انسانوں کا ایک دوسرے کا سہارا بننے کا نام تھا۔ وہ چاہتی تھی کہ اُس کا ہم سفر اُس کے خوابوں کو اپنا سمجھے، اُس کی تھکن محسوس کرے اور زندگی کی مشکلات میں اُس کا ہاتھ تھامے۔

مگر شادی کے بعد اُس کی زندگی بدل گئی۔ گھر کے کاموں اور ذمہ داریوں نے اُسے اپنے لیے بھی وقت نکالنے کے قابل نہ چھوڑا۔ دوسری طرف شہریار چاہتا تھا کہ وہ گھر لوٹے تو سارہ سجی سنوری اُس کی منتظر ہو، اُس کی باتیں سنے اور اُسے بھرپور وقت دے۔

وہ یہ سمجھنے سے قاصر تھا کہ جس طرح اُسے توجہ کی ضرورت تھی، اُسی طرح سارہ بھی محبت، احساس اور سہارے کی طلب گار تھی۔

شہریار کو بچپن سے اپنی ماں کی مصروفیات کے باعث توجہ کی کمی محسوس ہوتی رہی تھی۔ وہ چاہتا تھا کہ سارہ اُس کی زندگی کی ہر محرومی پوری کر دے، مگر اپنی خواہشات میں اُس نے بیوی کے جذبات کو نظرانداز کر دیا۔

آہستہ آہستہ اُن کے درمیان اختلافات بڑھنے لگے۔ شہریار ہر بات کا قصور سارہ پر ڈال دیتا، جبکہ اُس کی ماں معاملہ سلجھانے کے بجائے مزید بگاڑ دیتی۔

’’بڑی بڑی باتیں کی تھیں تمہارے باپ نے! کہتے تھے، ہماری بیٹی بڑی سلجھی ہوئی ہے۔ اب دیکھ لیا تم نے اُس کے اخلاق؟‘‘

سارہ کے لیے اپنے ہی گھر میں اپنی صفائی پیش کرنا مشکل ہو گیا۔ اُس کے دکھ سننے والا کوئی نہ تھا، یہاں تک کہ ایک دن شہریار نے غصے میں اُسے گھر سے نکال دیا۔ وہ یہ بھی بھول گیا کہ سارہ اُس کے بچے کی ماں بننے والی تھی۔

سارہ خاموشی سے اپنے باپ کے گھر پہنچ گئی۔ مرتضیٰ صاحب نے بیٹی کو سینے سے لگا لیا۔ اُن کی وہ لاڈلی بیٹی، جسے خوش دیکھنے کے لیے اُنہوں نے اُس کا رشتہ طے کیا تھا، آج اپنے خوابوں کے ملبے تلے دبی کھڑی تھی۔

مگر باپ بھی معاشرتی روایات کے سامنے بے بس تھا۔ بیٹی کا گھر بچانے کی خاطر اُس نے اُسے صبر کرنے کا مشورہ دیا اور واپس سسرال چھوڑ آیا۔

سارہ کے ذہن میں ایک ہی سوال گونجتا رہا: آخر ہر بار قربانی بیٹی ہی کیوں دے؟ کیا گھر کی عزت صرف عورت کے صبر سے قائم رہتی ہے؟ کیا مرد کو اپنی بیوی کی عزت اور احساسات کی حفاظت نہیں کرنی چاہیے؟

اس سب کے باوجود سارہ نے اپنی پڑھائی جاری رکھی۔ دن بھر گھر کی ذمہ داریاں نبھاتی اور تھکن کے باوجود کتابیں کھول کر بیٹھ جاتی۔ بالآخر اُس نے ماسٹرز مکمل کر لیا اور اپنی محنت کے صلے میں چین جانے کا موقع حاصل کر لیا۔

یہ اُس خواب کی تعبیر تھی جسے اُس نے برسوں سے اپنے دل میں سنبھال رکھا تھا۔

مگر شہریار نے صاف انکار کر دیا۔

’’تم چین نہیں جاؤ گی۔ بچے کا کیا ہوگا؟ میں ساری زندگی ایسا ہی رہا ہوں اور تمہیں بھی ایسا کچھ نہیں کرنے دوں گا۔‘‘

سارہ کی آنکھوں میں اُس کے خواب بکھر گئے۔ مرتضیٰ صاحب چاہتے تھے کہ اُن کی بیٹی پی ایچ ڈی کرے، مگر گھر ٹوٹنے کے خوف نے اُنہیں بھی خاموش رکھا۔

یوں ایک باپ کی خواہش اور ایک بیٹی کا مستقبل، دونوں قربان ہو گئے۔

وقت گزرتا رہا۔ شہریار نے کبھی سارہ کو اہمیت نہ دی۔ اُس کی دنیا اپنی ماں اور بہن بھائیوں کے گرد گھومتی رہی، جبکہ سارہ گھر، بچوں اور خاندان کی ذمہ داریوں میں اپنی ذات کو بھلاتی چلی گئی۔

شہریار نے اُسے ایک بار نہیں، کئی بار گھر سے نکالا۔ ہر بار سارہ اس امید پر واپس آتی کہ شاید اب حالات بدل جائیں، مگر ہر مرتبہ اُس کی امیدیں پہلے سے زیادہ ٹوٹ جاتیں۔

بچوں کی پیدائش بھی اُس کے لیے خوشی کے ساتھ نئی آزمائشیں لے کر آتی۔ جس وقت اُسے شوہر کی محبت اور سہارے کی سب سے زیادہ ضرورت ہوتی، اُسے شکایتوں اور غصے کا سامنا کرنا پڑتا۔

پھر اُس کے ہاں بیٹی پیدا ہوئی۔ شاید پہلی بار شہریار کو احساس ہوا کہ اولاد کی محبت کیا ہوتی ہے۔ مگر یہ احساس زیادہ دیر قائم نہ رہ سکا۔ وہ دوبارہ سارہ کی کوتاہیاں گننے لگا اور اُس کی برسوں کی قربانیاں نظرانداز کرتا رہا۔

شہریار اپنی ماں کی ہر ضرورت کا خیال رکھتا تھا۔ سارہ کو اُس کی ماں سے محبت پر کبھی اعتراض نہیں تھا؛ وہ تو صرف اپنے لیے بھی اُس کے دل میں ایک جگہ چاہتی تھی۔ وہ اُس کی شریکِ حیات اور تین بچوں کی ماں تھی، مگر اُس رشتے سے وابستہ عزت اور احساس اُسے کبھی نصیب نہ ہو سکے۔

آج سارہ تین بچوں کی ماں تھی، لیکن اُس کے اپنے خواب کہیں پیچھے رہ گئے تھے۔

شہریار نے دوبارہ کاغذ کو دیکھا۔ اب اُسے معلوم ہوا کہ وہ چین جانے کے کاغذات تھے۔ اُس کی بیوی کے خوابوں کی تعبیر، جسے اُس نے اپنی خواہشات کے سامنے کبھی اہمیت نہیں دی تھی۔

اُس کے لیے یہ محض چند کاغذ تھے، مگر سارہ کے لیے ایک پوری زندگی کا امکان۔

اب سارہ کے والد بھی اِس دنیا میں نہیں رہے تھے۔ جس شخص کے سامنے وہ کبھی اپنے خوابوں کی باتیں کیا کرتی تھی، وہی اُس کا سب سے بڑا سہارا تھا۔ اب وہ اپنا دکھ کس سے کہتی؟ کون اُس کی خاموشی کے پیچھے چھپے درد کو سمجھتا؟

شہریار نے کبھی سوچا ہی نہیں تھا کہ اُس کی بیوی بھی ایک انسان ہے۔ اُس کی بھی خواہشیں ہیں، وہ بھی تھکتی ہے اور اُسے بھی اپنے خواب پورے کرنے کا حق ہے۔

مرد کی غلطی کو اکثر نادانی کہہ کر معاف کر دیا جاتا ہے، مگر عورت کی ایک لغزش اُس کے کردار پر سوال بن جاتی ہے۔ مرد کو سیکھنے اور بدلنے کا وقت دیا جاتا ہے، تو عورت سے یہ حق کیوں چھین لیا جاتا ہے؟

شاید شہریار کو ایک دن احساس ہو جائے کہ سارہ نے اُس کے لیے کیا کچھ قربان کیا تھا۔ شاید عمر کی ڈھلتی شام میں اُسے اپنی بیوی کی محبت، اُس کی خاموشی اور اُس کی محرومیوں کی قدر بھی آ جائے۔

مگر اُس وقت سارہ کے گزرے ہوئے برس کون لوٹائے گا؟

اُس کی ادھوری تعلیم، اُس کی کھوئی ہوئی پہچان اور وہ خواب جنہیں اُس نے گھر کی چار دیواری میں دفن کر دیا تھا، کیا کبھی واپس آ سکیں گے؟

بعض احساسات اُس وقت جاگتے ہیں جب وقت اُنہیں بے معنی کر چکا ہوتا ہے۔ انسان کو اپنی غلطیوں کا ادراک تو ہو جاتا ہے، مگر گزرے ہوئے لمحے کبھی واپس نہیں آتے۔

خوابوں کی راکھ شاید دل میں رہ کر اپنی زندگی گزارتی رہتی ہے، مگر کبھی ہوا کا ایک جھونکا اُسے پھر سے بکھیر دیتا ہے، اور انسان دیکھتا رہ جاتا ہے کہ اُس کے خوابوں کا نام و نشان کہاں کھو گیا۔