Baaghi TV Logo
ٹرینڈنگ

خزاں کی ہوائیں اور پاکستان کی سیاست،تجزیہ: شہزاد قریشی

نقطہ نظر
shahzad qureshi gujar khan

دنیا کے مختلف ممالک میں موسمِ خزاں اپنی آمد کا اعلان کر رہا ہے۔ درختوں کے سبز پتے رنگ بدل رہے ہیں، کچھ شاخوں سے جدا ہو رہے ہیں اور فطرت ایک نئے مرحلے میں داخل ہو رہی ہے۔ فطرت کا یہ منظر صرف موسموں کی تبدیلی کی کہانی نہیں سناتا بلکہ یہ انسانوں، معاشروں اور سیاسی نظاموں کے لیے بھی ایک پیغام رکھتا ہے۔

پاکستان کی سیاست پر نظر ڈالیں تو محسوس ہوتا ہے کہ یہاں بھی ایک فکری اور سیاسی خزاں کی کیفیت جنم لے رہی ہے۔ عوام کی ایک بڑی تعداد اب روایتی سیاسی نعروں، الزام تراشی، احتجاجی سیاست اور اقتدار کی کشمکش سے آگے بڑھ کر عملی کارکردگی اور عوامی خدمت کو معیار بنانا چاہتی ہے۔ وقت کے ساتھ ساتھ ووٹر کا شعور تبدیل ہو رہا ہے اور وہ یہ جاننے میں زیادہ دلچسپی رکھتا ہے کہ اس کی زندگی میں حقیقی بہتری کون لا رہا ہے۔

جمہوریت صرف انتخابات کا نام نہیں بلکہ عوامی مسائل کے حل، بہتر طرزِ حکمرانی، قانون کی بالادستی اور عوامی فلاح کے مسلسل عمل کا نام ہے۔ جب سیاسی جماعتیں عوامی خدمت کے بجائے صرف سیاسی محاذ آرائی میں مصروف ہو جائیں تو عوامی اعتماد کمزور ہونا شروع ہو جاتا ہے۔ یہی وہ مرحلہ ہوتا ہے جب سیاست کے باغ میں خزاں کی ہوائیں چلنا شروع ہو جاتی ہیں۔

پنجاب میں موجودہ صوبائی حکومت اپنی مختلف عوامی فلاحی اور ترقیاتی سرگرمیوں کو اپنی کارکردگی کے طور پر پیش کر رہی ہے۔ حکومت کا مؤقف ہے کہ بنیادی سہولتوں، انفراسٹرکچر، صحت، تعلیم اور عوامی خدمات کے شعبوں میں اقدامات کیے جا رہے ہیں، جبکہ ناقدین ان منصوبوں کی رفتار، ترجیحات اور نتائج پر سوالات اٹھاتے ہیں۔ جمہوری معاشروں میں یہ اختلافِ رائے ایک فطری عمل ہے، تاہم حتمی فیصلہ ہمیشہ عوام کی عدالت میں ہوتا ہے۔

پاکستان کو اس وقت سیاسی استحکام، معاشی بہتری اور قومی یکجہتی کی ضرورت ہے۔ سیاسی قیادت، حکومت اور اپوزیشن سب کو یہ سمجھنا ہوگا کہ عوام اب محض دعوے نہیں بلکہ نتائج دیکھنا چاہتے ہیں۔ فطرت کا اصول بھی یہی ہے کہ جو شاخ اپنے وجود کو تازگی، مضبوطی اور افادیت کے ساتھ برقرار رکھتی ہے، وہ موسموں کی سختیوں کا مقابلہ کر لیتی ہے، جبکہ کمزور شاخیں خزاں کے جھونکوں میں اپنا وجود کھو بیٹھتی ہیں۔

پاکستان کی سیاست کے لیے بھی یہی پیغام ہے: عوامی اعتماد، خدمت اور کارکردگی ہی وہ بنیادیں ہیں جو کسی سیاسی قوت کو مضبوط بناتی ہیں۔ جو قیادت اس حقیقت کو سمجھے گی، وہ آنے والے موسموں میں بھی قائم رہے گی، اور جو اسے نظرانداز کرے گی، اسے سیاسی خزاں کے اثرات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔