بدھ، 14 اکتوبر، 2026
Baaghi TV Logo
ٹرینڈنگ

حسینی کردار، یزیدی رویّے اور خوشامدی ٹولے،تجزیہ:شہزاد قریشی

نقطہ نظر
shehzad qureshi098

حسینی کردار، یزیدی رویّے اور خوشامدی ٹولے: پاکستانی سیاست کا داخلی بحران

وفادار رخصت ہوتے گئے، درباری بڑھتے گئے

قیادت کو تعریف نہیں، سچ بولنے والے ساتھی درکار ہیں


تجزیہ شہزاد قریشی


پاکستانی سیاست کا المیہ: وفادار رخصت ہوتے گئے، خوشامدی اور مخبر غالب آتے گئے


پاکستان کی تقریباً ہر سیاسی جماعت کے اندر مختلف مزاج، کردار اور مفادات کے حامل لوگ موجود ہیں۔ کہیں اصولوں پر ڈٹ جانے والے کارکن ہیں، کہیں اقتدار کے لیے ہر حد پار کرنے والے عناصر، کہیں قیادت کے سامنے خوشامد کے پل باندھنے والے درباری، اور کہیں ایسے لوگ بھی دکھائی دیتے ہیں جن پر اپنی ہی جماعت کے اندرونی معاملات افشا کرنے کے الزامات لگتے رہتے ہیں۔ یہی وہ طرزِ سیاست ہے جو جماعتوں کے اندر اعتماد، اخلاص اور اجتماعی قوت کو کمزور کر دیتا ہے۔

اگر اس صورتِ حال کو علامتی انداز میں بیان کیا جائے تو سیاسی جماعتوں میں حسینی کردار بھی دکھائی دیتے ہیں، یزیدی رویّے بھی، مخبری کا رجحان بھی اور خوشامدی ٹولے بھی۔ یہاں حسینی کردار سے مراد اصول، حق اور وفاداری پر قائم رہنے والے لوگ ہیں، جب کہ یزیدی رویّہ اس طرزِ عمل کی علامت ہے جس میں مفاد کو اصول پر ترجیح دی جائے۔ یہ اصطلاحات کردار اور رویّوں کی تمثیل ہیں؛ کسی سیاسی جماعت یا اس کے تمام کارکنوں پر ان کا یکساں اطلاق درست نہیں۔

اصل سوال یہ ہے کہ وہ سیاسی جماعت کس طرح مضبوط ہو سکتی ہے جس کے اندر کارکن اپنی قیادت پر اعتماد نہ کر سکیں، جہاں سچ بولنے والا ناپسندیدہ بن جائے، جہاں اختلافِ رائے کو دشمنی سمجھا جائے اور جہاں خوشامد کرنے والے کو اصول پسند انسان سے زیادہ اہمیت ملنے لگے؟

خوشامد قیادت کو وقتی سکون دیتی ہے، مگر سچائی سے دور کر دیتی ہے۔ جب کسی رہنما کے گرد ایسے لوگوں کا حصار قائم ہو جائے جو اسے زمینی حقائق بتانے کے بجائے صرف اس کی تعریف میں مصروف رہیں، تو پھر فیصلے عوام کی ضروریات کے مطابق نہیں بلکہ درباریوں کی خواہشات کے مطابق ہونے لگتے ہیں۔ قیادت یہ سمجھنے لگتی ہے کہ سب کچھ ٹھیک ہے، حالاں کہ جماعت کے اندر بے چینی، کارکنوں میں مایوسی اور عوام میں بداعتمادی جنم لے رہی ہوتی ہے۔

اس سے بھی زیادہ تشویش ناک صورت اس وقت پیدا ہوتی ہے جب کسی جماعت کے اندرونی معاملات، مشاورت اور حکمتِ عملی کے بارے میں خفیہ معلومات باہر پہنچنے لگیں۔ ہر اختلاف یا تنقید کو مخبری قرار دینا درست نہیں، لیکن اگر واقعی کوئی شخص ذاتی مفاد کے لیے اپنی جماعت کے اعتماد کو نقصان پہنچاتا ہے تو یہ تنظیمی اخلاقیات کا سنجیدہ مسئلہ ہے۔ جس جماعت میں اعتماد ختم ہو جائے، وہاں باہمی مشاورت کمزور اور ہر شخص دوسرے کو شک کی نگاہ سے دیکھنے لگتا ہے۔

افسوس یہ ہے کہ ہماری سیاست میں ماضی کی کئی ایسی شخصیات موجود رہی ہیں جنہیں ہم نے اپنی آنکھوں سے اصول پسندی، وضع داری، سیاسی وفاداری اور ذاتی وقار کے ساتھ زندگی گزارتے دیکھا۔ وہ اختلاف کرتے تھے، مگر اختلاف کو ذاتی دشمنی نہیں بناتے تھے۔ وہ قیادت کے ساتھ کھڑے ہوتے تھے، مگر ہر غلط فیصلے کی تعریف کرنا اپنی وفاداری کا معیار نہیں سمجھتے تھے۔ ان میں سے بہت سے لوگ آج دنیا میں نہیں رہے، مگر ان کا کردار اور ان کی سیاسی روایات آج بھی یاد کی جاتی ہیں۔

یہاں سوال کسی ایک جماعت کا نہیں، پورے سیاسی کلچر کا ہے۔ اگر ہر جماعت اپنے اندر خود احتسابی کا نظام قائم کرے، مخلص کارکنوں کو عزت دے، اختلافِ رائے کو برداشت کرے اور عہدوں کی تقسیم میں خوشامد کے بجائے قابلیت، دیانت اور کارکردگی کو معیار بنائے تو سیاسی ادارے زیادہ مستحکم ہو سکتے ہیں۔

سیاسی قیادت کو یہ بھی سمجھنا ہوگا کہ وفاداری اور اندھی تقلید میں فرق ہے۔ مخلص ساتھی وہ نہیں جو ہر بات پر آمین کہے، بلکہ وہ ہے جو ضرورت پڑنے پر تنہائی میں بھی درست بات کہنے کی جرأت رکھتا ہو۔ اسی طرح اختلاف کرنے والا ہر شخص غدار نہیں ہوتا اور تعریف کرنے والا ہر شخص مخلص نہیں ہوتا۔ اصل پہچان کردار، عمل اور وقت کرتا ہے۔

پاکستان کو ایسی سیاست کی ضرورت ہے جہاں نظریہ، خدمت اور قومی مفاد کو ذاتی تعلقات اور گروہی مفادات پر فوقیت حاصل ہو۔ جماعتیں محض نعروں، جلسوں اور شخصیت پرستی سے مضبوط نہیں ہوتیں؛ ان کی اصل طاقت قابلِ اعتماد کارکن، شفاف فیصلے، داخلی جمہوریت اور اصولوں سے وابستگی ہوتی ہے۔

آخر میں بات صرف اتنی ہے کہ سیاسی جماعتیں مخالفین کی سازشوں سے پہلے اپنے اندر اعتماد کے بحران کا جائزہ لیں۔ خوشامدی ٹولے وقتی طور پر قیادت کو خوش رکھ سکتے ہیں، مگر تاریخ میں عزت انہی لوگوں کو ملتی ہے جو اصولوں پر قائم رہتے ہیں۔

کیونکہ سیاست میں عہدے بدل جاتے ہیں، حکومتیں آتی جاتی ہیں اور اقتدار کے ایوان خالی ہو جاتے ہیں، لیکن انسان کے کردار کی گواہی وقت دیتا ہے۔