Baaghi TV Logo
ٹرینڈنگ

خوشیوں بھرا جنگل ،تحریر: کنیز سسیلیا منظور

نقطہ نظر

ایک چھوٹے سے،نہایت ہرےبھرےاور چاروں طرف لہلہاتی فصلوں سے گھرے گاوں میں چھوٹا سا خاندان رہتا تھا ۔ان کے دو پیارے سے بچے تھے ۔بیٹی کو اس کے ماما پاپا پیار سے سونی کہتے اور اس کے پیارے سے بھائ کو لڈو ۔سونی سچ میں بہت ہی پیاری تھی ۔بڑی بڑی آنکھوں والی،ہر وقت ہنسی مسکراتی اور سب سے پیار کرنے والی،سب کے کام انے والی۔وہ اپنے اسکول میں بھی سب کی فیورٹ تھی۔پتہ ہے کیوں؟ کیونکہ وہ کھبی اپنے ساتھی ہم جماعتوں سے لڑائی جھگڑا نہ کرتی ۔بلکہ ہمیشہ دوسروں کی مدد کرتی ۔کبھی کسی دوست کے ساتھ اپنا لنچ بانٹ لیتی۔

کسی کا ہوم ورک مکمل کرنے میں مدد کر دیتی۔کبھی اس کے اساتذہ کوئ چھوٹے چھوٹے کام کہتے تو خوشی خوشی کر دیتی۔ گھر میں دونوں بہن بھائی اپنی ماما کے ساتھ بھی چھوٹے چھوٹے کام مثلا کبھی پاپا کا چشمہ ڈھونڈنا ، کھانے کے وقت ماما کے ساتھ چھوٹی چھوٹی چیز یں دسترخوان پہ رکھنا۔ کھانا کھانے کے بعد اپنی پلیٹ اور گلاس باورچی خانے میں رکھنا ۔اسکول کا کام کرکے اپنا بیگ احتیاط سے اگلے دن کے ٹائم ٹیبل کے مطابق بند کرنا۔گھر میں چیزیں ادھر اُدھر بکھیرنے کے بجائے، استعمال کے بعد چیزوں کو ان کی مقررہ جگہ پہ واپس رکھنا وغیرہ۔جس کی وجہ سے سب ان سے بہت خوش ہوتے۔

بچو ! سونی اور لڈو مرغی و گوشت کے علاوہ مختلف پھل اور سبزیاں بھی بڑے شوق سے کھاتے تھے۔کیونکہ ان کے والدین اور اساتذہ انہیں بتاتے تھے کہ متوازن غذا یعنی روٹی ،چاول ،دودھ دہی، پھل ، سبزیاں اور صاف پانی یہ سب بچوں کو بڑھنے میں مدد دیتا ہے ۔ہاں مگر کریلے انہیں بالکل پسند نہیں تھے۔لیکن آلو،مٹر ،گاجر ،گوبھی ۔پالک وغیرہ وہ مزے لے لے کر کھاتے ۔ روزانہ دودھ بھی پیتے ۔اسی لئے وہ بہت صحت مند ،توانا اور چاک و چوبند رہتے تھے۔

گرمی کے موسم میں میٹھے لذیذ آم،میٹھا رسیلا لال سرخ تربوز ،آڑو اور خوبانی ان کے پسندیدہ پھل تھے۔سردیوں میں کھٹے میٹھے رس بھرے نارنجی رنگ کے خوبصورت گول مٹول مالٹے اور کینو بھی وہ شوق سے کھاتے تھے۔پھل اور سبزیاں کھانے کی وجہ سے ان کی آنکھیں اور چہرے چمکتے رہتے تھے ۔اور صحت مند رہنے کی بدولت وہ زہادہ بیمار بھی نہیں پڑتے تھے اس لئے پڑھائی کا حرج بھی نہیں ہوتا تھا۔

سونیاور لڈو ہمیشہ وقت پہ اسکول جاتے تھے۔اور انہیں صاف ستھرا رہنا بہت پسند تھا ۔وہ اسکول اور گھر ہر جگہ اپنے ممی پاپا اور ٹیچرز کی بتائ ہوئ باتوں پہ عمل کرتے ۔وہ ہمیشہ سچ بولتے،کبھی کوئ کام غلط ہو جاتا یعنی غلطی سے کوئ چیز ٹوٹ جاتی یا کوئ چیز گر جاتی یا کچھ بھول جاتے ،تو پوچھنے پہ وہ بالکل سچ سچ بتا دیتی۔ہاں کھبی کبھار تھوڑی ڈانٹ بھی پڑ جاتی لیکن وہ جھوٹ نہ بولتے۔اس وجہ سے ان کے اساتذہ ،ماما پاپا اور پڑوسی سب انہیں بہت پسند کرتے اور ہمیشہ ان کی مثال دیا کرتے تھے۔

سونی کا چھوٹا بھائ جسے پیار سے سب لڈو کہتے تھے ۔بہت پیارا بچہ تھا۔لیکن تھا تھوڑا سا شرارتی۔ کبھی بہن کی فیورٹ گڑیا کہیں چھپا دیتا۔ کبھی بہن کے ہیئر بینڈ توڑ کر چھپا دیتا ۔لیکن سونی کبھی ماما پاپا سے اس کی شکایت نہ کرتی ۔وہ اس سے دو سال ہی چھوٹا تھا ۔پھر بھی سونی اس کا بہت خیال رکھتی اسے بہت پیار کرتی۔دونوں بہن بھائی اسکول میں بہت دل لگا کر بہت شوق سے پڑھتے تھے۔ہر امتحان میں اچھے نمبروں سے پاس ہوتے۔

دونوں بہن بھائی اسکول سے آکر ،اسکول کا کام کرنے کے بعد اپنی ماما سے اجازت لے کر کھیلنے کے لئے چلے جاتے۔کبھی اپنے پڑوسی دوستوں کے ساتھ کھیلتے تھے ۔لیکن کبھی کبھار وہ اپنے گاوں کے قریبی جنگل میں کھیلنے کے لئے چلے جاتے۔کھیلنے کے ساتھ وہ مختلف جنگلی پھول چنتے اور پیارے سے گل دستے بناتے ۔ جنگل کے تازہ اور مزے مزے کے بیر ۔ نیم کی میٹھی نمولیاں ،اور کھٹے میٹھے شہتوت بھی چن چن کر کھاتے۔

وہ جنگل گاوں سے کچھ ہی دور لیکن بہت بڑا اور گھنا تھا ۔اور جنگل کے شروع کا حصہ تو بہت ہی خوبصورت تھا ۔وہاں ایک نہایت صاف اور شفاف پانی کی ندی بہتی تھی۔جس کے ارد گرد نیلے پیلے سرخ سفید اور گلابی ،مختلف رنگوں کے چھوٹے بڑے ۔ ہر طرح کے بہت سارے خوبصورت پھول اگے ہوئے تھے ۔جب ان پہ نارنجی پیلے سفید و سیاہ رنگ کی تتلیاں آ آ کر بیٹھتیں تو پھول جھومنے لگتے۔اور رات میں جب بہت سے جگنو اپنی بلب نما ننھی منی روشن دموں کے ساتھ آتے تو جنگل میں عجب سا حسیں نظارا دیکھنے کو ملتا۔

چاندنی راتوں میں جب چاند کی چاندنی پورے جنگل کو دودھیا روشنی سے روشن کر دیتی۔تو ندی کے شفاف پانی میں چاند کا چمکدار عکس دیکھ کر جانور اور مچھلیاں خوشی سے باغ باغ ہو جاتے۔سب ٹھنڈے پانی سے لطف اندوز ہونے کے ساتھ ساتھ اپنا عکس پانی میں دیکھ دیکھ کر جھومتے۔

۔ بہت سارے اونچے اونچے درختوں کے سائے کی وجہ سے وہاں کی ہوا بہت ٹھنڈی اور تازہ رہتی۔

ندی میں چھوٹی چھوٹی مچھلیاں بھی تھیں ۔جو پانی میں ادھر اُدھر بجلی کی سی تیزی سے تیرتی ہوئ بہت پیاری لگتی تھیں اور پانی شفاف ہونے کی وجہ سے صاف دکھائ دیتی تھیں ۔اس میں کچھ راج ہنس بڑی بڑی سفید بطخوں کے علاوہ، چھوٹی رنگین بطخیں بھی اپنے بچوں کے ساتھ سیر کرتی رہتیں ۔ اور پانی میں سے چھوٹے پودوں کو کھاتیں۔کبھی ڈبکی لگا کر چھوٹی مچھلیوں کو دبوچ کر ہڑپ کر جاتیں۔

وہ تمام خوبصورت سی بطخیں پانی میں تیرتی ہوئ پانی کے چھوٹے چھوٹے جہاز معلوم ہوتے۔ان کے علاوہ درختوں پہ بے شمار پرندے مثلا طوطے ،مینا، چڑیاں،کوے بلبل ،چیل،بیا۔کبوتر ۔لمبی چونچ اور خوبصورت تاج والے ہد ہد اور دیگر پرندے بھی رہتے تھے۔بہار اور برسات کے موسم میں مور اپنے خوبصورت رنگین پروں کو پھیلا کر خوشی سے ناچنے لگتے۔ سب پرندے اپنی اپنی مخصوص آوازوں سے جنگل میں رونق لگائے رکھتے۔

دودھ جیسے سفید ،مخملی نرم کھال اور چھوٹے چھوٹے بجلی کے قمقموں کی طرح سرخ آنکھوں والے خرگوش تو بہت ہی خوبصورت لگتے تھے ۔ان کے علاوہ دوسرے بڑے اور چھوٹے بہت سے جانور بھی رہتے تھے ۔جن میں ہرن ۔بندر ،،لمبی گردن والے زرافے۔زیبرا ،لومڑیاں وغیرہ بھی تھے ۔سب آزادی سے گھومتے پھرتے،بھاگتے دوڑتے رہتے ۔

کیا آپ کو معلوم ہے کہ یہ سب اتنے خوش اور صحت مند کیسے تھے ؟کیونکہ یہ خالص قدرتی غذا مثلا تازہ جڑی بوٹیاں،تازہ گوشت کھاتے ،ندی اور بارش کا صاف پانی پیتے اور بہت سارے درختوں سے پیدا ہونے والی صاف ستھری ہوا میں سانس لیتے تھے۔ ہم بھی اپنے اردگرد کی ہوا کو صاف رکھنے کے لئے درخت اور پھول پودے اگا سکتے ہیں۔تاکہ ہم بھی صحت مند رہیں۔اور ماحول بھی خوبصورت اور پر فضا ہو۔