کیا بیٹیاں آزمائش کے سوا کچھ نہیں؟تحریر: سماویہ اعظم
نقطہ نظر
رات کافی ہو چکی تھی۔ گھر کے سب لوگ سو رہے تھے مگر ماریہ ابھی تک جاگ رہی تھی۔ وہ خاموشی سے لیٹی چھت کو دیکھ رہی تھی۔ اس کا دل بے چین تھا۔ نہ جانے کیوں اسے بار بار وہی خواب یاد آ رہا تھا۔
فجر کی اذان ہوئی تو وہ اٹھ گئی۔ وضو کیا نماز پڑھی اور دعا کے لیے ہاتھ اٹھائے۔
یا اللہ! مجھے ایک خواب بہت پریشان کر رہا ہے۔ میں خواب میں امی سے کہتی ہوں کہ میں مر جاؤں گی تو وہ جواب دیتی ہیں کہ بیٹیاں نہیں مرتیں وہ تو اپنے والدین کے لیے آزمائش ہوتی ہیں۔ یا اللہ! کیا واقعی بیٹیاں آزمائش ہوتی ہیں؟
نماز پڑھنے کے بعد وہ خاموشی سے کچن میں چلی گئی۔ اس کی امی ناشتہ بنا رہی تھیں۔ ماریہ نے دھیمی آواز میں پوچھا:
امی! لوگ کہتے ہیں کہ اللہ جس سے محبت کرتا ہے اسےجلد اپنے پاس بلا لیتا ہے۔ کیا میں بھی جلد مر جاؤں گی؟
اس کی امی ہنس پڑیں۔
کیسی باتیں کرتی ہو؟ تم ابھی بچی ہو۔ تمہاری زندگی بہت لمبی ہے اور ویسے بھی بیٹیاں جلدی نہیں مرتیں وہ تو اپنے والدین کے لیے ایک آزمائش ہوتی ہیں۔
ماریہ کچھ دیر خاموش رہی پھر اس نے پوچھا:
امی! صرف بیٹیاں ہی آزمائش کیوں ہوتی ہیں؟ بیٹے کیوں نہیں؟
ماں نے اس کی طرف دیکھا مگر کچھ نہ بولیں۔
ماریہ نے بات جاری رکھتے ہوئے کہا:
جو بیٹے اپنے والدین سے بدتمیزی کرتے ہیں، انہیں دکھ دیتے ہیں اور بڑھاپے میں تنہا چھوڑ دیتے ہیں کیا وہ آزمائش نہیں ہوتے؟ پھر بھی والدین ان کا خیال رکھتے ہیں ان سے محبت کرتے ہیں آخر بیٹیوں کے لیے الگ اصول کیوں ہیں؟
ماں خاموش رہی۔
اتنے میں ماریہ کا بھائی طاہر جلدی سے کچن میں آیا۔
امی! مجھے دفتر کے لیے دیر ہو رہی ہے۔ ابھی تک ناشتہ تیار نہیں ہوا؟
ماں نے فوراً جواب دیا:
بس بیٹا! ابھی دیتی ہوں۔
وہ جلدی سے طاہر کے لیے ناشتہ تیار کرنے لگی۔
ماریہ خاموش کھڑی سب کچھ دیکھتی رہی۔ ماریہ نے اپنے آنسو روکنے کی بہت کوشش کی مگر آنکھوں کی نمی اس کے دل کا حال بتا رہی تھی۔
کچھ دیر بعد اس نے کہا:
امی! مجھے بھی ناشتہ دے دیں۔
ماں نے اس کی طرف دیکھے بغیر جواب دیا:
تم اب بڑی ہو گئی ہو، اپنا کام خود کیا کرو۔
ماریہ نے کوئی جواب نہیں دیا اس نے خود اپنا ناشتہ بنایا چند نوالے لیے اور اسکول جانے کے لیے گھر سے نکل گئی۔
راستے میں اس کے ذہن میں بار بار وہی الفاظ گونج رہے تھے کہ بیٹیاں آزمائش ہوتی ہیں۔۔۔
اس نے آسمان کی طرف دیکھا اور دل ہی دل میں دعا کی:
یا اللہ! مجھے کبھی اپنے والدین پر بوجھ نہ بنانا۔
آج اسے ہر چیز اداس لگ رہی تھی۔
وہ اپنے خیالوں میں گم تھی کہ اچانک ایک تیز رفتار گاڑی نے اسے ٹکر مار دی وہ سڑک پر گر پڑی اور بے ہوش ہو گئی۔
سب کچھ ایک لمحے میں بدل گیا۔
جب ماریہ کی موت کی خبر گھر پہنچی تو وہاں کہرام مچ گیا۔ ماں پر تو جیسے غم کا پہاڑ ٹوٹ پڑا۔ وہی ماں جو کچھ دیر پہلے کہہ رہی تھی کہ تمہاری زندگی بہت لمبی ہے آج اپنی بیٹی کی لاش سے لپٹ کر رو رہی تھی۔ماریہ کے بغیر سب کچھ ادھورا لگنے لگا۔ ماں اکثر اس کے کمرے میں جا کر بیٹھ جاتی اور اس کی چیزوں کو دیکھ کر رونے لگتی۔
ایک رات ماں نے خواب دیکھا۔ ماریہ ایک خوب صورت باغ میں تتلیوں کے پیچھے بھاگ رہی تھی اور وہ بہت خوش دکھائی دے رہی تھی۔ اچانک اس کی نظر اپنی ماں پر پڑی۔
ماں نے اسے آواز دی:
ماریہ!
ماریہ نے مسکرا کر اپنی ماں کی طرف دیکھا اور کہا:
امی! بیٹیاں آزمائش نہیں ہوتیں وہ بھی محبت، توجہ اور پیار کی حق دار ہوتی ہیں۔ یہ کہہ کر وہ آہستہ آہستہ دور چلی گئی۔
ماں کی آنکھ کھل گئی۔ وہ کافی دیر تک خاموش بیٹھی رہی پھر ماریہ کی تصویر اٹھائی اور اسے سینے سے لگا کر رونے لگی۔
ماریہ! مجھے معاف کر دو۔
بیٹیاں آزمائش نہیں اللہ کی رحمت ہوتی ہیں۔ انہیں بھی اتنی ہی محبت، عزت اور توجہ چاہیے جتنی بیٹوں کو دی جاتی ہے۔ ہمارے معاشرے میں والدین اکثر یہ بھول جاتے ہیں کہ بیٹیوں کے بھی احساسات ہوتے ہیں۔ ان کے بھی خواب ہوتے ہیں وہ بھی محبت اور توجہ چاہتی ہیں اور انہیں بھی دوسروں کی باتوں سے دکھ پہنچتا ہے۔
مزید پڑھیں




