کبھی کبھی تنہائی کے لمحات میں جب انسان اپنے وجود کے اندر جھانکتا ہے تو ایک عجیب سی ویرانی، بے عملی اور لاتعلقی کا احساس دل کو گھیر لیتا ہے۔ نمازوں سے دوری، روزوں سے بے رغبتی اور مذہبی شعائر سے ایک انجانا بیگانگی کا احساس اکثر انسان کو اس وسوسے میں مبتلا کر دیتا ہے کہ شاید اس کے اندر لادینیت نے جڑیں پکڑ لی ہیں۔ اپنے اردگرد کی دنیا پر نگاہ ڈالیں تو یہ سوال اور زیادہ شدت کے ساتھ سر اٹھانے لگتا ہے کہ جب عبادتیں بے معنی رسم بن چکی ہوں، جب دین محض ایک نعرہ اور طبقاتی ڈھونگ نظر آنے لگے، تو پھر انسان کا اپنا دل کیوں نہ ان سب چیزوں سے اکتا جائے؟ لیکن اگر تعصب اور خوف کی عینک اتار کر خالص فکری دیانت سے اس اضطراب کی تہہ تک پہنچنے کی کوشش کی جائے، تو حقیقت بالکل برعکس دکھائی دیتی ہے۔ انسان کے اندر اٹھنے والی یہ بیزاری دراصل خدا یا سچائی کا انکار نہیں ہے، بلکہ یہ اس سماجی منافقت، مادیت پرستی اور اخلاقی کھوکھلے پن کے خلاف ایک بیدار ضمیر کی خاموش بغاوت ہے جس نے پورے معاشرے کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے۔
معاشرے کی موجودہ ساخت پر غور کریں تو یہ المیہ پوری عریانیت کے ساتھ سامنے آتا ہے کہ ہم نے کامیابی اور عزت کا واحد پیمانہ صرف اور صرف مادی آسائشوں، بینک بیلنس، شاندار گاڑیوں اور شاہانہ طرزِ زندگی کو بنا دیا ہے۔ جب ہر شخص صبح سے شام تک صرف دولت کے انبار لگانے، غیر ملکی دوروں کے تفاخر اور طاقت کے مظاہرے میں اندھا دھند دوڑ رہا ہو، تو باطنی سکون اور روحانی تقاضے ازخود دم توڑ دیتے ہیں۔ ایک طرف وہ بااثر اور مالدار طبقہ ہے جس نے مذہب کو بھی اپنی جاگیر اور سہولت کی دکان سمجھ لیا ہے۔ وہ یہ باور کرواتے ہیں کہ بھوک اور پیاس کی مشقت، یعنی روزہ، تو محض غریبوں، مزدوروں اور ناداروں کا مقدر ہے، جبکہ امیروں کے پاس یہ رعایت موجود ہے کہ وہ چند روپے فدیہ یا خیرات پھینک کر ہر اخلاقی اور روحانی مشقت سے خود کو بری الذمہ قرار دے لیں۔ دوسری طرف حج اور عمرے جیسے عظیم روحانی و مساواتی اجتماعات کو اشرافیہ نے سوشل اسٹیٹس، نمائش اور روحانی سیاحت میں تبدیل کر کے رکھ دیا ہے۔ غریب کی دہائیوں کی پونجی بھی اسے ایک فرض کی ادائیگی تک نہیں پہنچا پاتی جبکہ دوسری طرف پیسوں کی ریل پیل رکھنے والے اسے محض ایک تفریحی اور نمائشی سرگرمی بنائے ہوئے ہیں۔ جب ایک عام اور حساس انسان یہ سب کچھ دیکھتا ہے تو اس کے ذہن میں یہ تلخ سوال جنم لیتا ہے کہ کیا خدا کا قانون بھی سرمائے کا محتاج ہے؟ کیا عبادات کی روح بھی پیسے کے زور پر خریدی جا سکتی ہے؟ یہی وہ مقام ہے جہاں مذہب سے رغبت کی جگہ دل میں سرد مہری جنم لیتی ہے۔
اس سرد مہری کو مزید ہوا ہمارے اجتماعی قول و فعل کے کھلے تضاد سے ملتی ہے۔ ہم ایک ایسے ماحول میں سانس لے رہے ہیں جہاں پیشانیوں پر سجدوں کے نشان سجانے والے، پہلی صفوں میں کھڑے ہونے والے اور تسبیح کے دانوں پر انگلیاں پھیرنے والے جب عملی زندگی اور بازار میں قدم رکھتے ہیں تو ناانصافی، ذخیرہ اندوزی، ملاوٹ، جھوٹ اور اپنے ماتحتوں کے حقوق غصب کرنے میں ذرا برابر عار محسوس نہیں کرتے۔ نوجوان نسل جب یہ دیکھتی ہے کہ عبادت انسان کے کردار، اس کی دیانت اور اس کے معاملات کو سنوارنے میں مکمل طور پر ناکام دکھائی دے رہی ہے، تو ان کا اعتبار اس پورے مذہبی ڈھانچے سے اٹھنے لگتا ہے۔ وہ سوچتے ہیں کہ اگر ایک انسان دن میں پانچ مرتبہ سجدہ ریز ہو کر بھی ملازمین کا خون چوس رہا ہو، اپنے بھائی کا حق مار رہا ہو اور سماج میں فریب کا بیوپار کر رہا ہو، تو پھر ایسی عبادت محض ایک مشینی اور بے روح ورزش کے سوا کیا ہے؟ اسی بے روح مشق سے باطن میں وہ گھٹن پیدا ہوتی ہے جسے ہم لاعلمی میں لادینیت کا نام دے بیٹھتے ہیں۔ دراصل دل سچے دین سے نہیں بلکہ اس منافقانہ اداکاری سے باغی ہو رہا ہوتا ہے جو نیکی کے نام پر معاشرے میں بیچی جا رہی ہے۔
المیہ یہیں ختم نہیں ہوتا، بلکہ جب کوئی مخلص انسان اس تضاد پر لب کشائی کی کوشش کرتا ہے یا اپنے باطنی انتشار پر سوال اٹھاتا ہے تو روایتی ٹھیکیدار اس کی الجھن کو سلجھانے کے بجائے اس پر فتوے صادر کر دیتے ہیں۔ سوال اور کھلے مکالمے پر قدغن لگا دی جاتی ہے، جس کے نتیجے میں سوچنے سمجھنے والا انسان فکری تنہائی کی طرف دھکیل دیا جاتا ہے اور خود کو اس پورے ماحول سے الگ تھلگ کر لیتا ہے۔ اس کیفیت کو اگر گہری نظر سے دیکھا جائے تو یہ تشکیک کا روگ نہیں بلکہ ایک ایسے پاکیزہ باطن کی چیخ ہے جو سچ، اخلاص اور شفافیت کا متلاشی ہے۔
اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جب ہم اس دلدل کا حصہ نہیں بننا چاہتے اور نہ ہی باطن کو لادینیت اور بے عملی کی نذر کرنا چاہتے ہیں، تو پھر اس کا حل کیا ہونا چاہیے؟ اس کا سب سے پہلا اور بنیادی حل یہ ہے کہ ہم انسانوں کے طرزِ عمل اور سماجی منافقت کو سچائی اور نیکی کا پیمانہ سمجھنا بند کر دیں۔ لوگوں کا عمل ان کا اپنا انتخاب ہے اور ہمارا باطن ہماری اپنی ذمہ داری ہے۔ اگر دنیا ریاکاری میں مبتلا ہے تو اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ سچ، عدل اور بندگی کی اپنی کوئی قدر باقی نہیں رہی۔ ہمیں سب سے پہلے اپنے خالق کے ساتھ ایک انتہائی ذاتی، خفیہ اور بے لوث تعلق بحال کرنا ہوگا۔ عبادات کو لوگوں کی نظروں، داد، دکھاوے اور خوف سے بالکل آزاد کر کے محض اپنے من کی صفائی اور رب کے حضور عاجزی کا ذریعہ بنانا ہوگا۔ جو عبادت خلوت میں، تنہائی کے آنسوؤں کے ساتھ اور بند کمرے میں کی جائے، وہ منافقت کے تمام غبار سے محفوظ رہتی ہے۔
دوسرا ناگزیر قدم یہ ہے کہ ہم اپنی توجہ محض ظاہری رسومات کی گنتی سے ہٹا کر حقوق العباد اور عملی نیکی پر مرکوز کریں۔ انسانیت کی خاموش خدمت، سچائی، معاملات میں شفافیت، غریبوں کے ساتھ ہمدردی اور رزقِ حلال کی طلب وہ اعمال ہیں جن پر مادہ پرستی کا رنگ نہیں چڑھتا۔ جب انسان کسی دکھی دل کا سہارا بنتا ہے اور بغیر کسی صلے کی تمنا کے نیکی کرتا ہے تو روح کو وہ سکون نصیب ہوتا ہے جو دنیا کی بڑی سے بڑی مادی آسائش بھی فراہم نہیں کر سکتی۔
اس کے ساتھ ساتھ ہمیں خود کو سماجی موازنے کی مہلک بیماری سے نکالنا ہوگا۔ قناعت اور شعوری سادگی کو اپنا کر جب ہم دوسروں کی گاڑیوں، کوٹھیوں اور ظاہری مراعات سے اپنی ذات کا موازنہ کرنا چھوڑ دیں گے، تو دل سے محرومی اور بے چینی خود بخود ختم ہو جائے گی۔ روزمرہ کی گہما گہمی سے ہٹ کر کچھ وقت خاموشی اور سچی خود احتسابی کے لیے نکالیں تاکہ یہ یقین دہانی ہو سکے کہ ہم نادانستہ طور پر خود اسی منافقت کا حصہ تو نہیں بن رہے جس پر ہم کڑھتے ہیں۔ جب انسان باہر کے شور اور منافقت کو اپنے دل کے اندر اترنے سے روک لیتا ہے، تو اندر کی خود ساختہ لادینیت مٹ جاتی ہے اور اس کی جگہ وہ خالص، حقیقی اور پرسکون ایمان جنم لیتا ہے جو انسان کو دنیا اور آخرت دونوں میں سرخرو کرتا ہے۔






